’رہبر تعلیم‘ پریشان کیوں ہے ----------- یوسف العمر
ابھی حال ہی میں ریاست جموں و کشمیر کی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے رہبر تعلیم اساتذہ کی باضابط تعیناتی کیلئے ایک امتحان پاس کرنا لازمی قرار دیا اور ساتھ ہی انکی اسناد کو جانچ کے بعد ہی تسلیم کرنے کا بھی حکم جاری کیا ۔ محکمے سے وابستہ اساتذہ نے اسکے خلاف ایک ایجی ٹیشن شروع کر دی اور کئی روز سے وہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ساتھ ہی سکولوں کو ہڑتال پر جانے کیلئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ اس طرح ہمارے یہاں کے لولے لنگڑے نظامِ تعلیم کو مزید تباہی سے دو چار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ حزبِ مخالف ہندوستان نواز سیاسی جماعتوں نے اس ایجی ٹیشن کو حق بجانب قرار دیا اور خود بھی اس میں شریک ہوئے۔ کشمیر کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ اگر کہیں سے نظامِ تعلیم میں سدھار لانے کی کوشش کی جارہی ہے تو اسکا بھر پور ساتھ دیا جانا چاہئے تھا۔ اسطرح کی بروقت کوششوں کو سستی سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے ۔
 
جموں و کشمیر میں نظامِ تعلیم اس قدر خراب ہوچکا ہے کہ اسکی دیکھا دیکھی میں ہماری پوری زندگی کا نظام بگڑ چکا ہے۔ آج جوتباہی کا سیلاب ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے اسکی بنیادی وجہ تعلیمی نظام کی خرابی ہے۔ تعلیمی نظام کی اِس خرابی میں یہاں کی سیاسی غیر یقینیت کا واقعی بہت بڑا رول ہے، مگر سیاست سے وابستہ تنظیموں نے جان بوجھ کر ہمارے تعلیمی نظام کو محض نوکریاں فراہم کرنے اور عوام میں سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے تعلیم کوکھلواڑ بنادیا ۔ نظام تعلیم میں سب سے اہم اور مقّدس رول ایک استاد کاہوتا ہے۔ اگر استاد علمی اعتبار سے قابل ہے، مقاصد تعلیم سے واقف ہے اور سماج کیلئے بہترین افراد تیار کرنے کا درد رکھتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے سماج سے جہالت، رشوت، کنبہ پروری ، اخلاقی بے راہ روی، بدیانتی اور ناانصافی جیسی خباثتیں مٹ جائیں گی۔اگر استاد خود تعلیمی لحاظ سے کمزور ہے، مقاصد تعلیم سے ناواقف ہے اور صحیح لگن اور محنت سے کام نہیں کرتا ہے تو ہمارا سماج ہمیشہ پراگندہ رہیگا اور کبھی صحیح معنوں میں ترقی نہیں کریگا۔ ایک استاد کا کام محض کتاب سے سبق نقل کرکے بچوں کی نوٹ بُک میں منتقل کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہے بلکہ بچے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکی ذہنی، اخلاقی اور فکری تربیت بھی لازمی ہے ۔ امتحانات میں اعلیٰ گریڈ حاصل کرنا اچھی بات ہے مگرایک اچھاگریڈ ہی کافی نہیں ہے۔ ایک قابل استاد بچے کے اندر احساسِ فرض شناسی ، دوسروں کے تئیں احترام ومحبت ، مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کے اوصاف پیدا کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ وہ اگر خود محنتی ہے بچہ بھی محنتی بنے گا۔ وہ اگر خود فرض شناس ہے، بچہ بھی فرض شناس بنے گا۔ وہ اگر خود روشن خیال ہے بچہ بھی روشن خیال بنے گا۔غرض بچے کے لئے رول ماڈل صرف ایک استاد ہی ہے۔
 
اگر ہمارے نظام ِ تعلیم میں مسلسل امتحانات کا ایک سلسلہ لازمی تسلیم کیا گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خود استاد بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو امتحانات کے مختلف مدارج سے گزارے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس چیز کو لازمی بنادیا گیا ہےجہاں ایک استاد کو سیلف اپریزل(Self-appraisal) کی بنیاد پر مختلف مدارج سے گزرنا لازمی بنادیا گیا ہے اور اسے اپنی قابلیت کو نکھارنے کے لئے مختلف کورسز کرنے پڑتے ہیں۔ تعلیم تو مسلسل سیکھنے اور سکھانے کے عمل کا نام ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جو لوگ ایک سطحی ذہن کے ساتھ لیڈر بننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنی کم علمی اور کند ذہنی کے ساتھ ایوانِ حکومت میں جگہ سنبھالتے ہیں، اُن سے نئی نسل کی روشن ضمیری اور بلند ہمتی پر بات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ ہمیشہ اپنے جائز اور ناجائز حقوق کی بات کریں گے مگر جب فرائض کی بات آئے گی تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لیڈر خود بھی تو جعلی اسناد حاصل کرکے آگے بڑھتے ہیں یا نہایت ہی ادنیٰ میرٹ حاصل کرکے سیاسی اثر و رسوخ سے بڑی بڑی کرسیوں پر فائز ہوتے ہیں، بھلا وہ تعلیمی قابلیت اور مسلسل محنت کے کب خوگر بنیں گے؟؎
 
مقصد ہو اگر تربیتِ لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
 
 
!اداریہ ::::عالمی انتشار اوربے چینی کا سدباب کیسے ؟
عالمی انتشاراور بے چینی کے سدباب کیلئے جہاں مظلوم محکوم اورپسماندہ عوام احتجاجی مظاہروں کو لاحاصل پاکر نہ صرف ماردھاڑ پر اُتر آتے ہیں بلکہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کاسہارا بھی لیتے ہیں ۔وہاں حکام اوردیگر برسراقتدار طبقہ اپنےمفادات کے تحفظ کیلئے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کرتےہوئےعالمی انتشاراور بے چینی کو دور کرنے کادعویٰ کرتے نظر آرہے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ برسراقتدار طبقہ عام لوگوں کےاحتجاج ماردھاڑ کی کاروائی یاپھر طاقت کے استعمال جسے دہشت گردی کہا جارہاہے کو روکنے کیلئے حاصل شدہ قانونی اختیارات کے تحت مختلف قسم کی سزائوں جیسے، جسمانی اذیت ۔قید وبند یا پھر تختہ دار کااستعمال کرتاہے سوال پید اہوتا ہے کیا دہشت گردی ، طاقت کے بے جا استعمال اورپھانسی جیسے کڑی سزائوں سے عالمی انتشار اوربے چینی کو دور کیاجاسکتاہے ؟شائد کوئی بھی سنجیدہ انسان اس سوال پر اثبات میں سر نہیں ہلائے گا۔بلکہ اس قسم کی کاروائیوں کو عالمی بے چینی کی اصل وجہ بتائے گا ۔دراصل انتشار اوربے چینی کی اصل وجہ اللہ کی زمین پر اللہ کی مخلوق کےدرمیان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اورعنایات کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے ۔اورطاقتور انسان جو خواہ جسمانی لحاظ سے قوی ہو۔ دولت کےاعتبار سےطاقتور ہویا پھر اقتدار کے بل بوتے پر لوگوں کے سروں پر مونگ دلنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ہمیشہ کمزور سے ا ُ س کا حصہ اورحق چھین لیتا ہے۔کمزور چلاتا ہے،چیختا ہے یاپھر سنگ باری پر اُتر آتاہے۔طاقتور اُ س کو انتشار پسند، اُگروادی یا پھر دہشت گردجیسی گالی دے کر قوت ،دولت اورحکومت کےبل پر دبا تاہے۔طاقتور ظالم بنتا ہے اورکمزورمظلوم ۔قدیم زمانے میں شخصی راج کے دوران ظالم محض طاقت کے بل بوتے پر ظالم بنتا تھا ۔اورعام غریب طبقہ جبراً غلامی اورمظلومیت پر مجبور تھا ۔لیکن نام نہاد جمہوریت میں ظالم ووٹ کے ذریعہ سے مظلوم ومحکوم سے منڈیڈیٹ حاصل کرکے بااختیار ظالم بن جاتاہے۔ووٹ دینے والا نہ کبھی فٹ پاتھ کے مسکن سے اُٹھ کر بنگلے کاتصور کرسکتاہے اورنہ کوڑے کرکٹ پرنصب کردہ خیمے سے نکل کر ایک گھر کی دہلیز پاتاہے۔جبکہ منڈیٹ حاصل کرنے والا کہاں سے کہاں پہنچ جاتاہے ۔وہ تو سب کے سامنے عیاں ہے ۔دُنیانے بے چینی کےسدباب کیلئے بہت سارے نظاموںاورنظریات کو آزمایا لیکن کہیں سے بھی کوئی شفابخش نسخہ ہاتھ نہ آیا ۔ اِلا اگر تاریخ پرنظر ڈالیں توصرف مدینے کی گلیاں اس بات کی گواہی دیں گی ۔کہ ایک بار ایسا ہوا جب خدا کی زمین پر خدا کے مخلوق کیلئے خدا کانظام نافذ کیاگیا ۔جسے ہم خیر القرون کہتے ہیں ۔جب ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ نے اسلام کا حیات بخش نظام دُنیا میںنافذ کرکے دکھایا کہ کیسے شیر اوربکرا ایک گھاٹ پانی پی سکتےہیں ۔کیسے گورا اورکالا ایک ہی تھالی میں کھاسکتے ہیں ۔کیسے غلام اورآقا ایک سواری پرچڑھ سکتے ہیں ۔کیسے میاں اور بیوی ایک دوسرے کے حقو ق کی پاسداری کرتے ہیں ۔کیسےمہاجروں اورمکینوں کےدرمیان مواخات کارشتہ قائم ہوتا ہے ۔دراصل یہی ایک نظام ہے جو دُنیا کو انتشار اوربے چینی کے دلدل سے باہرنکال سکتاہے ۔بدقسمتی سے اس نظام کے قیام کے حوالے سے بھی شیطانی قوتوں نے اپنا کردار نبھانا شروع کیاہے۔اورمظلوموں کوراحت پہنچانے کے بجائے ہاتھ میں اسلحہ تھما کر اس نظام کے تحفظ کیلئے جنگ کرنے پر اُبھارا اوراز خودیا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے مدافعت پرآکر اسلحہ برداروں یا اُن کو ساتھ دینے والوں کاقلع قمع کرنے کی کوشش کی ۔جس کے نتیجے میں نظام حق کی حقانیت پرایمان رکھنے والے اس وقت سب سے زیادہ انتشار اوربےچینی کے شکارہیں اس بات کو لے کر دنیائے اسلام کے اہل فکر قائدین اورتمام رہنما جوکہ عالمی انتشار اوربےچینی کو لیکر متفکر ہیں۔یک جٹ ہوکر سنجیدہ نوٹس لیں اور اس صورت حال سے باہر نکلنے کےلئے راست اقدامات اُٹھانے کیلئے مشترکہ کوششیں عمل میںلائیں ۔