سڑک، پانی، بجلی اور نوکریاں ----------- یوسف العمر
جموں و کشمیر میں ہندوستانی آئین کے تحت مقامی اسمبلی کے لئے الیکشن ہو رہے ہیں، پہلے دو مرحلوں میں الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً ستر فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے ہیں اور ابھی الیکشن کے تین اور مرحلے منعقد ہونے والے ہیں۔ ہندوستان نواز جماعتیں اپنے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے ووٹروں کو اپنی جانب کھینچنے کے لئے کمر کستے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کررہے ہیں اور اس دوڑ میں گروہی عصبیتیں، خاندانی وابستگیاں علاقائی تعصب نسلی اور خاندانی رشتے غرض ہر طرح کے جائز و ناجائز ذرائع استعمال ہورے ہیں۔ چونکہ موجودہ جمہوری طرز عمل کسی معروف اخلاقی عمل کے ضابطے میں یقین نہیں رکھتا ہے اس لئے اس کا پورا عمل ہی جھوٹ، الزام تراشی، غلط بیانی، بیہودہ بیان بازی اور یاوہ گوئی کی نذر ہوجاتا ہے۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کو رسمی طور پر نبھانے کا زور و شور سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور بیچارے عوام نام نہاد لیڈروں کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر سراب کے صحراﺅں میں گم ہوجاتے ہیں، شیطان نے کارِ جمہوری کو اتنا حسین بناد یا ہے کہ زن و مرد، بوڑھے اور جوان، عالم اور اَن پڑھ جاہل، سب جمہوریت کی رعنائیوں پر فدا ہوتے نظر آرہے ہیں۔ بقولِ علامہ اقبال
 
فطرت کو گوارا نہیں سلطانی جاوید
ہر چند کہ یہ شعبدہ بازی ہے دل آویز
 
ایک نہایت دلچسپ پہلو جو اِن انتخابات میں سامنے آرہا ہے ، وہ نہ صرف یہ ہے کہ ہر شخص اور ہر پارٹی جھوٹ اور یاوہ گوئی کا لبادہ پہن کر لوگوں کو سڑک، پانی، بجلی اور نوکری کا جھانسا دے کر اپنی طرف راغب کررہی ہے بلکہ ووٹر خود اچھی طرح یہ محسوس کرتے نظر آرہے ہیں کہ یہ ”عوامی لیڈر“ محض سیاسی گداگر ہیں جو ڈفلی بجاکر تماشا کرتے ہیں اور لوگ اس تماشے کا خوب لطف اٹھارہے ہیں۔ کشمیری عوام سیاسی طور بہت بیدار ہوچکے ہیں کیوں کہ اب کئی دہائیوں کی سیاسی اتھل پتھل سے انکی سیاسی سوچ بہت پختہ ہوچکی ہے، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ ہندوستان میں فرقہ پرست عناصر نے بڑے سوچ وچار کے بعد حکمرانی کا تاج اپنے سر پر رکھا ہے اور یہ سرکار اس بھرم میں مست ہے کہ کشمیر ایک پکے آم کی طرح ان کی گود میں سما جائےگا ۔بھاری اکثریت میں اپنا ووٹ استعمال کرکے کشمیر ی عوام نے نہ صرف فرقہ پرست عناصر کو بوکھلاہٹ کا شکار بنادیا ہے بلکہ مقامی ہندوستان نواز جماعتوں میں بھی کھلبلی مچی ہے کیوں کہ اب شاید ان میں بھی کوئی جماعت اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آسکتی ہے۔
 
ہر شر میں کچھ نہ کچھ خیر ضرور سامنے آتا ہے۔ الیکشن ڈراما دو تین ہفتے اور چلے گا، لیکن یہ بات یقینی طور سامنے نظر آرہی ہے کہ کشمیری عوام سڑک، پانی، بجلی اور نوکری کی دھول سے جلد ہی باہر آکر پھر اپنے بنیادی سیاسی مسئلے کے حل کے لئے سینہ تان لیں گے کیوں کہ ہندوستان کبھی بھی کشمیر میں یوں سرمایہ فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا جب تک کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنے مخصوص ایجنڈے کو یہاں لاگو نہیں کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ کشمیری عوام اس کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
 
اداریہ ::::::: جذبات کا قتل
جموںوکشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ضرورت اس بات کی تھی کہ لوگوں کے جذبات کو پر سکون بنانے اور انکے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ریاستی اور مرکزی سطح پر جنگی بنیادوں پر کام کیا جاتا لیکن ہوا اس کے برعکس ۔ نشئہ اقتدار میں بدمست حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ انتخابات کا بگل بجا ڈالا۔ مٹھی بھر لوگوں نے جو اسمبلی تک پہنچنے کے درپے ہیں انتخابات اور الیکشن کمپین کے نام پر پوری قوم کے اعصاب پر سوار ہوکر ان کے جذبات کو مجروح کردیا ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ مقامی سطح کے مسائل اور قوم کی تقدیر کا فیصلہ دو الگ الگ موضوعات ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں، دنیا کے تمام ممالک ، بنیادی انسانی حقوق اور خاص کر سیاسی حقوق کی تنظیمیں بھی اس سے متفق ہے اور پھر جموںوکشمیر کے لاکھوں بچوں ، جوانوں ، مرد اور خواتین کی قربانی کی داستانیں جو ۳۱ جولائی ۱۳۹۱ءسے لیکر آج تک رقم کی گئی ہےں اس بات کی واضح دلیل اور گواہ ہےں کہ ریاست جموںوکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کی مرضی سے ہوگا۔ جموںوکشمیر اور پاکستان کے زیر اہتمام ”آزاد کشمیر“ کے عوام اور تنظیمیں بلکہ مین اسٹریم اور حریت پسند جماعتیں بھی اس مسئلہ میں یکسو ہےں لیکن اس کے باوجود دلی سے آئے انتخابی اور موسمی رہنما یہاں پہنچ کر، اٹوٹ انگ کا راگ الاپ کر یہاں کی سیاسی فضا کو مکدر کرتے ہیں اور اپنے حقیر مفادات اور چند ہندو ووٹروں کو لبھانے کیلئے مجموعی طور پر جموںوکشمیر کے لوگوں کے جذبات کا قتل عام کرتے ہیں۔ بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی سے پہلے آج تک دوسری جماعتوں کے رہنما بھی ریاست وارد ہوکر اپنی اپنی پارٹی کے حق میں انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں مگر جس ڈھٹائی تک پہنچ کر بی جے پی نے بھارت کے اقوام متحدہ کے اندر کئے گئے وعدوں اور پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے کھلے عام بیانوں جس میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا کی دھجیاں اڑائی ہیں، اُس حد تک کوئی دوسری پارٹی نہیں گئی ۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے اوراسے دنیا کی کوئی طاقت ان سے چھین نہیں سکتی۔