اے خادمِ حرمین شریفین! ---- یوسف العمر
ہم بڑی جسارت سے مقدس سرزمینِ حجاز کے فرمانروا عالی جناب شاہ سلمان بن عبد العزیز کو دل کی گہرائیوں میں پوشیدہ جذبات بیان کررہے ہیں۔ امّتِ مسلِمہ کے قلب و جگر سے اٹھنے والی صدائیں اگر خادمِ حرمین شریفین کے گوش گزار نہ ہوں تو ہمارے درد کا مداوا کیسے ہوسکتا ہے؟قدرت نے مکۃ المکرمۃ اور مدینۃ المنوّرۃ کی ظاہری حفاظت کی ذمہ داری خادمِ حرمین شریفین کو ہی عطا کی ہے اور یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔ مسلمانانِ عالم اُسی لمحے سے اس سرزمین کے گرویدہ ہیں جب جبریل امینؑ نے وحیٔ الٰہی کو پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس مکے کی اُس چھوٹی پہاڑی میں واقع غارِ حرا میں پہنچادیا۔ اس پاک سرزمین پر قیامت تک اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے مسلسل برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ یہ بے آب و گیاہ سرزمین ہمارے قبلے کو تھامے ہوتی ہے اور یہاں پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے نورانی قدموں کی آہٹ قیامت تک سنائی دے گی۔ ہم اس سرزمین کے ذرّے ذرّے کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ ہمیں اس چیز سے کوئی لینا دینا نہیں کہ حرمین شریفین کی دیواریں سنگ مرمر کے زرق و برق سِلوں سے بنی ہیں یا خام مٹی کے گارے سے۔ ہم اُس وقت بھی اس مقدّس سرزمین کو بوسہ دینے کے لئے تڑپ رہے تھے جب وہاں کے سربراہانِ مملکت خچروں اور اونٹوں پر سوار ہوکر اس کی نگرانی کرتے تھے، اور آج بھی ہماری روح وہیں پر محو پرواز ہے جب جٹ طیاروں کی گھنگھناہٹ میں وہاں دن رات ہزاروں جہاز اترتے ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد مہینوں کا مشکل سفر طے کرکے کوہِ فاران اور وادیٔ بطحا میں سجدہ ریز ہونے کے لئے ننگے پاؤں بھوک اور پیاس میں ڈوبے، سینکڑوں کارواں سجاکے اپنے اظہارِ عقیدت کے لئے ہشاش بشاش اُس مقدّس سرزمین پر قدم رکھتے تھے اور وہاں کی فضاؤں میں بلند ہونے والی اذانیں سن کر ان کی تھکاوٹ دور ہوجاتی تھی۔ روحانی فیض کی ایک ذرا سی بُوند ان کا زادِ راہ بن جاتی اور وہ اسے اپنی زندگی کا گِراں ترین سرمایہ تصوّر کرکے اپنے گھروں کو لوٹ آتے تھے۔
 
اللہ نے اس سرزمین کو معدنی ذخائر اور خام تیل کے خزانے عطا کئے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خچر سوار ہوا میں سپر سانِک جٹوں میں پرواز کرنے لگے اور زمین پر ائیر کنڈیشنڈ لمبی اور پتلی کاروں میں دوڑنے لگے۔ پچھلی چند دہائیوں میں ہی سرزمینِ عرب کے شاہی قبیلے سے منسلک شاہزادوں کےطور طریقے بدل گئے اور انہوں نے قدرت کی طرف سے عطا شدہ نعمتوں کو ظاہری ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت میں اڑادیا۔ دولت کے یہ پوشیدہ انبار صرف اہل عرب کے لئے مخصوص نہیں تھے بلکہ ان پر پوری ملّتِ اسلامیہ کا حق تھا اور ان بے حد و حساب ذرائع آمدن میں دنیا بھر کے مسکینوں اور محتاجوں کا حصہ تھا۔ اب خام تیل کے ذخیرے خشک ہونے لگے، بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ آگئی۔ شاہی خاندانوں سے منسلک افراد اور ا ن کے ساتھیوں نے اپنی دولت عرب دنیا سے باہر مغربی ممالک اور امریکہ کے خزانوں میں جمع کردی اور اُن مسلم دشمن طاقتوں نے اس جمع شدہ دولت سے بھر پور فائدہ اٹھاکر اپنے اداروں کو انتہائی مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کردیا۔ مغربی طاقتوں نے بڑی مکّاری سے مشرقِ وسطیٰ کو اپنے جنگی ساز و سامان کی منڈی میں بدل دیا اور آج کئی سال سے یہ پورا علاقہ ایک ہولناک جنگ میں جھلس رہا ہے اور خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ خدانخواستہ یہ لوگ سواری کے لئے خچروں اور اونٹوں کی تلاش میں اپنی ویران بستیوں کے اجڑے ہوئے شہروں میں پھر محو سفرنہ ہوں!
 
خطرے کی گھنٹی بجتے ہی اب حرمین شریفین کے خادموں نے اگلے پندرہ سال کے لئے Saudi Vision 2030 تشکیل دیا ہے۔چونکہ خام تیل کی قیمت گھٹ گئی ، مغرب نے پتھریلی چٹانوں Shale oil اور گیس ٹیکنالوجی میں زبردست مہارت حاصل کرلی اور اس طرح لازماً خام تیل پر دنیا کی تجارتی منڈی کا انحصار بہت کم ہوگیا۔ حیرت تو یہ ہے کہ اپنے ویژن ڈاکومنٹ میں سعودی حکومت نے 2020 تک تیل پر اپنی پرانی معیشت کا دارومدار ختم کرنے کی بات کی ہے، اپنے ترقیاتی کاموں کے لئے ایک ذرِ کثیر لگانے کے لئے بہت بڑا مالی فنڈ بھی قائم کیا ہے، نئی ٹیکنالوجی کو بڑھاوا دینے کے لئے ایک کثیر رقم مختص کی ہے اور ساتھ ہی ٹورِزم کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی بھی بات کی ہے۔ مگر اسلام کے فروغ اور دنیا میں ایک نظامِ انصاف قائم کرنےکی جو بنیادی ذمہ داری اللہ نے ان پرڈالی تھی، اس کا کہیں ذکر تک نہیں۔ سعودی حکومت کے لئے یہ ایک اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا میں کمزور اقوام کی نمائندہ طاقت بن کر دورِ حاضر میں انہیں ظلم و انتشار سے نجات دلانے کی کوشش کرے۔ اُسے کسی بھی طرح یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بنی نوع انسان خصوصا عالم اسلام سے بےگانہ ہوکر محض ایک سعودی ریاست کی حیثیت سے سامنے آئے۔
 
 
انصاف میں تاخیرکیوں! ---- اداریہ
ایک مہذّب سماج میں انصاف کی فراہمی کوبنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے اورانصاف کے تقاضوں کوپورا کرنے سے زندگی کے انفرادی و اجتماعی شعبوں میں ایک استحکام پید اہوتاہے۔دراصل انصاف میں تاخیر انصاف نہ کرنے کے مترادف قراردیا جاتاہے ۔موجودہ دور میں زندگی کی رفتار نے لاتعداد مسائل کھڑے کردئیے ہیں۔علمی اور مادّی ترقی کے باوجود عام لوگ انصاف کی فراہمی کیلئے ترستے رہتے ہیں۔روزمرہ کےمسائل میںانصاف نہیں ملتا ،حکومت کے انتظامی شعبے انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیںاور سماجی سطح پر مختلف معاملات میںانصاف کی فراہمی کوترجیح حاصل نہیں رہتی ۔اس کے نتیجے میں سوسائٹی میں جرائم ،زیادتیوں ،مظالم اوراستحصال کو مسلسل تقویت اورفوقیت حاصل رہتی ہے ۔وقت پر انصاف نہ ملنے سے ،عوام کے مختلف طبقے مایوس ہوکر زندگی کے میدان میں آگےبڑھنے کی ہمت ہار جاتے ہیں ۔ا س لئے ہر سماج اورہرمذہب میں انصاف کے اصول اوربنیادیں وضع کی گئی ہیں اورانصاف کے تقاضوں کو فوری طور پورا کرنے پر زور دیاگیا ہے ۔ایک معاشرے کی ترقی اورارتقا ء کیلئے انصاف کی فراہمی نہایت ناگزیرہے۔
 
اسلام میں عدلِ اجتماعی کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔عدلِ اجتماعی کاتعلق انفرادیت ، اجتماعیت ،معاشرت ،معیشت ،ثقافت اور سیاست کےساتھ ہرلحاظ سے ہے ۔مدینہ کی ریاست اسلام کے عدلِ اجتماعی کاپہلا گہوارہ تھی، اسلام میںعدل کی یہ اہمیت ہے کہ اس کو صرف قانون کے رحم وکرم پر ہی نہیں چھوڑ دیاگیا بلکہ اُسے دین کے فرائض میں شامل کیاگیاہے ۔آج کے دور میں خدافراموشی اورآخرت فراموشی کے رحجان کےسبب عدل ِاجتماعی مفقود ہوتاجارہاہے۔ذاتی رنجشوں اوررقابتوں کی وجہ سے سماجی امتیازات اوردوریاں بڑھ گئیں ہیں اوراجتماعی مفاصد نے لوگوں کو بے بس بنادیاہے۔اس ضمن میں عدلِ اجتماعی کا تقدس کہاں برقرار رہے گااور انصاف کی فراہمی کی راہ کیسے آسان ہوجائے گی۔!
 
ہندوستان دُنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے ۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس نے گذشتہ ہفتے ایک کانفرنس کے دوران آنسوئوں کے اُمڈ تے سیلاب کے بیچ انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر زبردست تشویش کااظہار کیا،جسٹس ٹھاکور جو ریاست جموں کشمیرسے تعلق رکھتے ہیں،نےبرملا طور انصاف کی تاخیر کےاسباب بیان کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے ججوں کی خالی اسامیاں جلدازجلد سے پُر کرنے کی اپیل کی ۔ا س وقت ملک میں 50ہزار ججوں کے مقابلے میں 18ہزار جج کام کررہے ہیں۔اور تین کروڑ معاملات (Cases)اس وقت عدالتوںمیں زیر التواء ہیں ۔بذات خود سپریم کورٹ میں 60260کیس التو اء میں ہیں۔ایک بینچ کیلئے صرف 31جج صاحبان موجود ہیں ۔اس وقت ملک میں 5000 ججوں کے عہدے خالی پڑے ہیں۔ملک میں آبادی کے تناسب کےلحاظ سے ایک ملین آبادی کیلئے صرف 17جج موجود ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح 151فی ملین آبادی ہے۔اورچین میں یہ شرح 170جج فی ملین آبادی ہے۔اگر التواءمیں پڑے کیسوں کے نمٹانے کی یہی رفتار رہی تو اُن کو حل کرنے میں 466سال لگ سکتے ہیں ۔دراصل جج صاحبان کی کمی اورعدم دستیابی سےبھی انصاف فراہم کرنے میں تاخیر ہورہی ہے اوریہ تاخیر کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے ۔کچھ وقت پہلےججوں کےتعینات کرنے کے طریق کار کے بارےمیں مرکزی حکومت اورسپریم کورٹ کے درمیان اختلافات رونما ہوئےتھے۔اورججوںکے مقرر کرنے کے بارے میں ایک باضابطہ طریق کار اختیارکرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ۔انصاف کی فراہمی اورہزاروں کیسوں کے نمٹانے میں تاخیر نے چیف جسٹس آف انڈیا کی آنکھوں کو پُرنم تو کردیا لیکن جو نظام ہندوستان میں رائج ہے ۔اُس میں عدل اجتماعی کی بنیاد یں ،سماجی ، اخلاقی ،تعلیمی ،قانونی ،انتظامی اورعدالتی سطح پرمستحکم اورشفاف نہیںبنائی جاسکی ہیں۔انصاف اورعدالت کی بنیاد اُن اصولوں پر قائم نہیں کی گئی ہے جو آفاقی ،عالمگیر اورالہامی اُصول ہیں اورجو انصاف کی ترجمانی کرتے ہوئے انصاف کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔شاید انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔