حُسن ِ تدبیر کے بغیر کامیابی ناممکن ہے
آج دنیائے اسلام جس تباہی سے دوچار ہے اس کی کئی وجوہا ت ہیں ۔سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کے درمیان عملی تعاون کافقدان ہے ۔عدم تعاون کی فضا نے نہ صرف خاندانوں ، قبیلوں ، ملکوں اور خطوں کے درمیان زبردست کشمکش کو جنم دیاہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان مسلکی اورنسلی عصبیتوں کو بھی خطرناک حدتک خوفناک بنادیا ہے ۔مضحکہ خیز بات تویہ ہے کہ ایک مسلک سے وابستہ مسلمان دوسرے مسلک سے وابستہ مسلمان کو مسلمان ہی نہیں مانتے،نتیجتاً پوری مسلم دنیا انتشار کی شکار ہوئی ہے ۔جس کا بھر پور فائدہ کفار اور مشرک قوموں نےا ُٹھایا ہے ۔مسلمانوں کے دشمن آپسی اتحاد کیلئے طرح طرح کی تنظیمیں بناتےہیں ، گروپ او ر کنسوشیم(consortium ) تشکیل دیتے ہیں ، آپس میں معاہدے طے کرتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان گروپوں اورتنظیموں کے مقاصد کونافذ کرنے کیلئے سیاسی دبائو اورطاقت بھی استعمال کرتے ہیں ۔حق تویہ ہے مسلمان ممالک مادی طور طاقتور ہونے کے باوجود مجموعی طور علمی اور فوجی لحاظ سے نہایت کمزور ہیں ۔مسلمان ملکوں کے اکثر حکمران اسلام سے دشمنی رکھنے والے اُن کافروں اورمُشرکوں کے آلہ ٔ کار بنے ہوئے ہیںجوہر وقت اس بات کی تاک میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں کوزیادہ سے زیادہ انتشار کا شکار بنایا جائےاوران کے مادی وسائل کو برباد کرکے خود مزید ترقی کے زینے طے کرسکیں ۔موجود ہ دور کی بدترین استعماری قوت امریکہ ہے جو اپنے شیطانی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مادی ذرائع سے مالا مال مسلمان ملکوں پر چھاگیا ہے ۔اوران ممالک کوسیاسی اورفوجی لحاظ سے بالکل بیکار بناکر رکھ دیا ہے ۔حدتویہ ہے کہ اس دشمن نے حالات ایسے پیدا کردئے کہ ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان ملک کے عوام پراپنا سارابم وبارود صرف کررہاہے اوراس طوفان ِ بدتمیزی میں ہمارےتاریخی شہر اورشاہراہیں ، جنہیں ہمارے بزرگوں نے صدیوں پہلے تعمیر کیاتھا ، آج لرزہ خیز کھنڈروں میں تبدیل ہورہے ہیں ۔اورساری ملّت ِ اسلامیہ خون کے آنسو بہانے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے۔
 
مسلمانوں کی غالب اکثریت اپنے ظالم حکمرانوں سے نالاں ہے ۔مسلم عوام ایک عجیب صورت حال سے دوچار ہیں ۔عالمی سطح پر جس طرح مسلمانوں کے خلاف طاغوتی قوتوں نے شکنجہ کس دیا ہے ،وہ ہم سب پر ایک کوہِ گراں کی طرح بھاری ہے اور کچھ کہا نہیں جاسکتاکہ موجود ہ دور ِ ظلم واستبداد کب تک جاری رہے گا۔وقت آچکا ہے کہ دنیا بھر کےمسلمان کسی ایک سطح پر متحد ہونے کے بارےمیںتدابیر وضع کرنے کی ٹھان لیں ۔جو ممالک اسلام دشمن طاقتوں کےسامنے خم ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں اپنا ایک منفرد وجود عمل میں لائیں اورواضح طور امریکہ اور مغرب والوں کےساتھ رشتے کو ایک نئی سمت دیں تاکہ ایک جمہوری فضا قائم کرکے یہ ممالک سائنسی اورفوجی لحاظ سے مضبوط طاقت کی حیثیت سے آگے بڑھیں ۔اولین قدم کے طور پر اس نئے وفاق کو ایک نہایت ہی مضبوط اقتصادی زون بن جانے کیلئے راہ ہموار کرنا ہوگی اوراپنے وسائل کو مل جُل کر استعمال میں لانے کی ضرورت پر زور دیاجاناچاہیے۔اس نئے وفاق کوممبر ممالک میں سائنس اورٹیکنالوجی کوفروغ دینے کیلئے انقلابی اقدام اُٹھانے پڑیں گے اورتمام جدید ہتھیار وںسے لیس ہونے کی پلاننگ تشکیل دیناہوگی ۔اگر امریکہ ، روس اوریورپ کے کئی دیگر ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کوختم نہیں کرتے ہیں توانہیں کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کویہ ہتھیار رکھنے سے باز رکھیں اورایٹمی توانائی سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے کاموقع فراہم نہ کرنے دیں۔گلوبل لیول پر اس طرح کا اتحاد اورانکی فوجی طاقت امن عالم کیلئے بہت ضروری ہے ۔یہ ایک مانی ہوئی سچائی ہے کہ دنیامیں کوئی بھی ملک اس توانائی کواستعمال کرنے کیلئے کبھی تیار نہیںہوگا ۔کیونکہ یہ عالمی تباہی کاباعث بنے گا ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس طرح کےا قدامات بہت ہی مہنگے پڑیں گے اوریواین او جیسی بیکار تنظیم میں ہاہاکار مچے گا ۔لیکن ان کا یہ شور بے معنی ہوگا کیونکہ اس کی مخالفت باقی ملکوں کی طرف سے چند روز میں ختم ہوگی اور دنیا کئی دہائیوں کے بعد اطمینان کاسانس لےگی ۔
 
کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے موثر تدابیر اُٹھانے بے حد ضروری ہیں ۔اس گرو پ میں شامل تمام ممبران شعوری طور سےمسلمان ہونے چاہیں اورمجموعی طور ان کے اندر سیاسی سطح پر کام کرنے کا پکاارادہ ہونالازمی ہے ۔چونکہ مجموعی طور مسلم عوام دین اسلام پر یقین رکھتے ہیں اور صبح وشام اللہ تعالیٰ سے اتحاد کیلئے دعائیں مانگتے رہتے ہیں ۔اس اتحادکو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک موثر قیادت کی ضرورت ہے جس کیلئے اعلیٰ پیمانے پر تیاری کی ضرورت ہے۔مسلمان جب بھی کسی بڑے منصوبے کو عملانے کیلئے آگے بڑھیں گے توان کاایمان بہت مضبوط ہوناچاہیے، جس سے روحانی قوت پیدا ہوگی اور بلا شبہ ایمان روحانی قوت کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے اورایمان سے محروم شخص سے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دینے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔مومن کا دل اس احساس سے لبریز ہوتاہے کہ ’’الحق یعلو ولا یعلی علیہ‘‘یعنی حق غالب آتاہے لیکن مغلوب نہیںہوتا ۔مومن ایک ایسے محفوظ قلعے میں ہوتاہے جس کی فصیلوں کو پھلانگانہیں جاسکتا ہے ۔قرآن پاک میں مومن کو بشارت دی گئی ہے کہ بے دل نہ ہونا اورنہ کسی طرح کاغم کرنا اگر تم مومن (صادق ) ہوتو تم ہی غالب (فتح یاب ) رہو گے اوریہ بھی ارشاد ہواہے کہ آخر بھلا تو اللہ سے ڈرنے والوں کا ہوگا ۔اہل ایمان انفرادی ، معاشرتی اور قومی سفح پر اعلیٰ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ۔ان کےلئے ہمیشہ آگے اوربلندیوں پررہنا نہایت ضروری ہے ۔اسی لئے رسول ِ محترم حضرت محمد ﷺ نے بظاہر یہ فرمایا ’’تمہاری بلندی کیلئے کوئی حد نہیں ، اگر تم روئے زمین پر قوت کے مالک نہ رہے تو تمہیں نیست ونابود کردیا جائےگا۔‘‘چنانچہ ابودائو د اوراحمد بن حنبل نے حدیث نقل کی ہے ’’قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے بلائیں گی جیسے کھانے والے ایک دوسرے کو دسترخوان پر شریک ہونے کیلئے بلاتے ہیں ۔‘‘یعنی مسلم دشمن طاقتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو دعوت دیں گے تاکہ وہ اُن نعمتوں سے آپ کو محروم کردیں گے جو اللہ نے مسلمانوں کو بخشی ہیں ۔دور ِ حاضر کے تناظر میں کہاجاسکتاہے کہ وہ تمہارے خلاف عرب دنیا سمیت دوسرے مسلمان ملکوں کے تیل اور دیگر معدنی ذخائر پربھوکے گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے اورآپ اس کا خود نظارہ کرکے کچھ نہیں کرپائیں گے ۔یہ المناک صورت حال آج ہمارے سامنے ہے ۔اغیار نے ہمارے ذخائر آمدن کو لوٹ کر اپنےلئے بڑے بڑے ادارے قائم کئے ‘‘۔کارخانے لگائے ،خوبصوت شہر قائم کئے، اپنی نئی نسل کو دنیا کی امامت کیلئے تیار کیااورہم ہاتھ پر ہاتھ درے ذلّت اوررُسوائی کی زندگی گذارنے پر مطمئن رہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے اندر حُسن ِ تدبیر کی کمی ہے۔حُسن ِ تدبیر سے ہی آقائے نامدار حضرت ِ محمد ﷺ نے عرب کے صحرانشینوں کو روم اور فارس پر حکومت کرنے کی کنجیاں عطافرمائیں اور دنیا کی امامت پر مامور ہونے کی ترغیب دی ۔ایمان اورحُسن ِ تدبیر کے بل بوتے پر انہوں نے غرور کے تاج مٹی میں ملادئے۔غریبوں اورکمزوروں کو سلطانی عطا کی اور دنیا کو امن وسلامتی کاگہوارہ بنادیا ۔
 
یوسف العمر