’اے دنیاداروذرا ہوش میں آئو! ----------- یوسف العمر
شیطانی خصلت کاسب سے زیادہ نمایاں پہلو دنیا پرستی ہے ۔مال ودولت کی لالچ میں افراد واقوام نہ صرف انسانی وقار کو برباد کرتے ہیں بلکہ وہ خود اپنی تباہی وہلاکت کاذریعہ بنتے ہیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے لئے دنیا میں ہر طرف نعمتوں کے انبار کھڑے کئے ہیں ۔تاکہ وہ ان سے فائدہ اُٹھاکر اعتدال کی زندگی بسر کرسکیں ۔انسان اپنی صلاحیتوں اور اپنی سوچ وعزم وارادوں سے اللہ کی نعمتوں پر بھر پورر اندا زمیں قابض ہونا چاہتاہے ۔اور زندگی کے ہرلمحے کے ساتھ ان نعمتوں کے حصول میں اضافہ کرنا چاہتاہے ۔مگر یہی سوچ اس کی تباہی کا باعث بنتی ہے ۔دنیا کی نعمتوں میں ہر انسان کا ایک حصہ ہے ۔جس کا وہ قانونی اور اخلاقی طور حقدار ہے مگر اس حق کے حصول کے ساتھ ساتھ وہ اپنی چالاکی اپنی تگ ودو اوراپنی مخصوص پوزیشن سے دوسروں کے حق نہیں مار سکتاہے ۔ آج کے معاشرے کے بگاڑ میں یہی پہلو سب سے زیادہ کار فرما ہے ۔ افسوس تو اس بات کاہے کہ کم وبیش ہر شخص اس مادی دور میں آگے جانے کی فکر میں لگا ہوا ہے ۔ہماری تعلیم وتربیت اسی انداز سے ہورہی ہے ۔ہماری منصوبہ بندی اسی طرزوفکرکے گرد گھومتی ہے اور ہمارے باہمی رشتوں میں یہی چیز کارفرماہے۔
 
انسان کی سمجھ میں تویہ بات آنی چاہیے تھی کہ ہر سو پھیلی نعمتوں کو وہ کس انداز میں استعمال کرےاور کس حد تک انہیں وسعت دے سکے ۔ان نعمتوں کا حصول محض لذت پرستی نہیں ہونا چاہیے تھا ۔بلکہ ایک معقول طریقہ کار کے تحت کمزور اور مجبور انسانوں کو اللہ کی ان نعمتوں میں برابر شریک رکھا جائے ۔اس طرز فکر کو استوار کرنے اورفروغ دینے کا واحد طریقہ انسان کے اندر خدا کا صحیح تصور پیدا کرنے اور آخرت کی جوابدہی میں یقین رکھنے سے ہی پیدا کیاجاسکتاہے ۔جب بھی ایک انسان کےاللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کے تصور سے غافل ہوتا ہے اور آخرت کی جوابدہی میں یقین کھو بیٹھتا ہے وہ ظالم بن جاتاہے ۔وہ دوسروں کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کرتاہے اور اس کی عام صلاحیتیں انسانی وقار کو کمزور کرنے اور معاشرے کو بگاڑنے میں لگ جاتی ہیں ۔موجود ہ سماج میں آج جو بگاڑ ہر طرف نظر آتاہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے اس تصور اور اس یقین میں فقدان افراد اور اقوام کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرتاہے ۔جو لوگ توحید الہٰی کو چھوڑ کر اور آخرت میں یقین کے بغیر سماج کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی بات کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں ، فریبی ہیں اور جاہل ہیں۔
 
انبیا ئے کرام دنیاوی زندگی اور آخرت کے درمیان توازن اور اعتدال کاپیغام لے کر تشریف لائے ۔یہ پیغام انسانیت کو صراط مستقیم پر چلنے اور افراد وتفریط سے بچنے کی ضمانت فراہم کرتاہے ۔انسان اپنی محنت سے دنیا میں ایک اعتدال کی زندگی گذارے اور اپنے رشتہ داروں ،اپنے ہمسایوں اور اپنے ہموطنوں کو اپنی محنت کے پھل میں شریک سمجھیں ،یہی انسا ن ایک مثالی معاشرے کو قائم کرکے سماجی بگاڑ اور سیاسی انتشار کو دور کرسکتاہے۔اللہ کے تصور اور آخرت میں یقین کے بغیر کوئی معاشرہ متمدن نہیں بن سکتاہے ۔لوگوں کے حقوق غصب کرنے اور اپنی ذاتی جاگیر کھڑا کرنے سے کوئی شخص باعزت اور محترم نہیں بن سکتاہے۔وہ توجہنم کاایندھن ہی بنے گا ۔جہاں اس کی دولت اور اس کاسرمایہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا ۔
 
اداریہ ::::: سماجی بُرائیوں کاقلع قمع کرنے کی ضرورت ! !!
ہمارے سماج کے اندر موجود بُرائیوں کاقلع قمع کرنے کیلئے معاشرے کے سنجیدہ طبقو ں سے وقتا ً فوقتاً آواز بلند کی جاتی رہی ہے اورا ن کالموں کے ذریعہ بھی اکثر سماجی برائیوں او ر بدعات کی نشاندہی کرکے اُن سے سماج کو پاک کرنےکیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے ۔دراصل ہمارے سماج کو متعدد بُرائیوں اوربدعات نے دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا بناکر رکھ دیاہے۔آج ہمیں دوردور تک اخلاق واصولوں کی آبیاری اور شرافت او ر احترام کی پاسداری دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ۔ہمارا معاشرہ تاحدِ نظر بگڑ چکا ہے بے راہ روی ،بے حیائی ،ناجائز منافع خوری ، رشوت ، خیانت ، بدامنی اور انتشارگہرائی تک سرایت کرگئے ہیں۔ہمارے علما ء ،مذہبی تنظیمیں ، سیاسی قائدین ، مفکر ین او رمصلحین اس سیلا ب کو روکنے کیلئے آخر مربوط اوراجتماعی کوششیں کیوں نہیں کرتے ۔ہمارے گھر ،ہمارے بازار ، ہمارےدفاتر ہمارے تعلیمی ادارے ،ہماری عدالتیں اورہمارے ایوان ان سماجی بدعات اور بُرائیوں کی آماجگاہ بنے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں ۔ہمارے رشتوں اورتعلقات کی نوعیت میں استحصال ، خود غرضی اورمفادات کے عنصرکیوں داخل ہوچکےہیں۔سماجی بدعات، جرائم اوررسومات کا سدِّباب کرنےکیلئے سِول سوسائٹی ،علماء اورمصلحین نے چند ایک کوششیں توکیں لیکن زمینی سطح پر ان کے اثرات دیکھنے کونہیں ملے۔وادی میں چند ادارے توغیر سیاسی سطح پر ان بدعات کاخاتمہ کرنے اور ایک سماجی تحریک برپاکرنے کیلئے وجود میں آئےتھے لیکن وہ ادارے غیر موثر اورغیر مستحکم ثابت ہوکے رہ گئے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کشمیر یونیورسٹی کے کانوکیشن سنٹرمیں منعقدہ ایک سمینار میں مقررین نے ان سماجی بدعات کی نشاندہی کرکے ان کا مؤثر سدِّباب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔خاص کر نوجوانوں اور طلبہ میں بڑھتی ہوئی نشے کی لت پر گہری تشویش کااظہار کیاگیا ۔کشمیر کےآئی جی پی نے پولیس کی ان کوششوں کاذکر کیاجو نوجوانوں کےاندر اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے کی جارہی ہیں ۔اس سلسلےمیںنشہ سے چھٹکارا دلانے کیلئے قائم مراکز کابھی ذکر کیاگیا ۔نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی نشہ خوری ایک مہذب سماج کیلئے ناقابل ِ برداشت ہونی چاہیے۔ دراصل ان سماجی رسومات ، بدعات اور خرافات کامکمل تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک مسلمان معاشرے کے اندران بدعات اور رسومات کاموجودہونا دراصل دین کے بنیادی تقاضوں سے ناواقفیت کانتیجہ ہے ۔دینِ حق فکرو عمل کی جن راہوں کی نشاندہی کرتاہے اورجن اصولوں اور ضابطوں کی عملداری کرانا چاہتاہے ۔ہمارا معاشرہ ان راہوں پر چلنے اوران اصولوںاورضابطوں کی پاسداری کرنے میں مخلص نظر نہیں آتاہے ۔کیونکہ ہمارے عقیدہ ،ایمان اورعمل میں بے حد تناقض پایا جاتاہے ۔جو ہمارے سماجی بگاڑ کی اہم وجہ ہے ۔ ایک بہتر معاشرے کی تعمیر اور تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم دین کے اصولوں اورضابطوں پرمخلصانہ عمل کو یقینی بنائیں ۔ہمارے علماء اورائمہ اس ضمن میں ایک موثر رول اداکرسکتے ہیں ۔ہماری مساجد سے ان بدعات اور رسومات کاخاتمہ کرنے کیلئے ایک تحریک برپا کی جاسکتی ہے ۔اوریہ وقت کی ایک اہم آواز ہے ۔