کشمیرمیں یہ سیاسی کھیل بہت پُرانا ہے ----------- یوسف العمر
ابھی پچھلے ہفتے ہندوستان کے محکمہ سراغرسانی کے سابقہ سربراہ مسٹر امر جیت سنگھ دُلت کی تحریر کردہ کتاب Kashmir-The Vajpayee Years. منظر عام پر آئی۔ صحافتی حلقوں میں اس کتاب پر لمبے لمبے تبصرے شائع ہوئے۔ اس کتاب میں مسٹر دلت نے کتناسچ اور کتنا جھوٹ تحریر کیا ہے،اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ سراغرسانی کی دنیا ہی کچھ اتنی عجیب اور افسانوی نوعیت کی ہوتی ہے کہ سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کرنا بہت ہی مشکل نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ یہ کتاب چونکہ کشمیر سے متعلق ہے اور مسٹر دلت نے کشمیر میںمحکمہ سراغرسانی کی کلیدی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، اس لئے کتاب میں درج مواد دلچسپ ہوسکتا ہے مگر حیران کن نہیں۔ ۱۹۸۸؁ ءمیں جب مسٹر دلت نے کشمیر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں ، یہاں حالات نے تشویشناک صورتحال اختیار کی تھی اور آزادی کی لہر بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ حکومتِ ہند اُن حالات سے چوکنا ہوئی اور انہوں نے تحریکِ آزادی کو کمزور کرنے اور اس میں انتشار ڈالنے کے لئے ایک طویل المدتی منصوبہ بندی طے کی ۔کشمیر میں مسٹر دلت کی تقرری اسی طویل المدتیمنصوبہ بندی کی اک کڑی تھی اور پوری کتاب میں بین السطور یہی سازش کھل کر سانے آتی ہے۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں، فوج اور ہندنواز افسر شاہی نے مل کر اِس منصوبہ بندی کو وضع کیا اور پھر دھیرے دھیرے اسکو عملی جامہ پہنایا۔ سرحد پار جانے کے لیے بورڈر کو نرم کردیا گیا۔ ٹریڈ یونینوں کو مختلف قسم کی سہولیات فراہم کرکے غیر شعوری طور انہیں تحریکِ آزادی کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ جلسوں اور جلوسوں کی کھلی چھوٹ دے کر عوام کو یہ تأثر دیا گیا کہ آزادی بس دس قدم دور ہے۔ اس طرح کی فضا میں ہندوستانی سراغرسانی کے لئے کام کرنا بڑا آسان ہوگیا۔ مسٹر دلت جیسے جاسوس ہر محفل، ہر تنظیم اور ہر گروپ میں گھس گئے، حتیٰ کہ ورکنگ کمیٹیاں اور مجلس شوریٰ جیسے بڑے بڑے ادارے بھی جاسوسی افراد کے لئے پناہ گاہیںبن گئیں۔ اس طرح دو تین سال کے اندر اندر ہی تحریک آزادی کا دم گھٹنے لگا۔ ہزاروں جوانوں کی شہادتوں اور سینکڑوںبستیوں کی بربادی میں کشمیری عوام کے ارمان لٹتے نظر آنے لگے۔ آپسی انتشار نے خطرناک صورتحال اختیار کی اور خوف و ہراس کی آندھیاں ہر طرف چلنے لگیں۔
 
بدقسمتی یہ ہے کہ کشمیرمیں سیاسی قیادت جو بڑے شور کے ساتھ ابھر تی ہے، چند قدم آگے بڑھنے کے بعد سامراجی قوتوںکے ساتھ سازباز کرنے میں لگ جاتی ہے۔ یہ کھیل مرحوم شیخ محمد عبد اللہ نے ۱۹۴۷ءسے شروع کیا۔ وہ سرینگر میں کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت اور آزادی کی بات کرتے تھے اور دہلی جاکر ہند کشمیر الحاق کے گیت گاتے تھے۔ ہندوستانی لیڈروں کی ساحرانہ چالیں اکثر کشمیری لیڈر خوب سمجھتے تھے مگر ذاتی اغراض کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے ہمیشہ گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔
 
مسٹر نہرو سے لے کر آج کے پرائم منسٹر نریندر مودی تک کوئی بھی ہندوستانی لیڈر کشمیریوں کے تئیں مخلص نہیں رہا ہے۔ مسٹر نہرو نے ۱۹۵۱ء؁ میں مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کے زیرِنگرانی نام نہاد کانسٹچونٹ اسمبلی کے لئے الیکشن کرائے، جہاں پچتھر سیٹوںمیں ترہسٹھ سیٹوں پر بغیر الیکشن امیدوار کامیاب قرار دئے گے اور دھونس اور دباؤ کے ذریعے مخالف امیدواروںکو الیکشن سے دور رکھا گیا۔ یہ سلسلہ ہر الیکشن میں روا رکھا گیا جس کا اعتراف ہندوستان کے ہر لیڈر نے وقتاً فوقتاً کیا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے رہا ہو۔ مسٹر دلت جیسے جاسوسوں کو تعینات کرکے کشمیر میں ہر موڑ پر نام نہاد جمہوری عمل کو گہری سازشوں کی نذر کیا گیا اور الیکشنز میں کشمیری سیاسی رہنمائوں کو بھاری رشوتیں دے کر ہند نواز اسمبلی وجود میں لانے کی ہر بار کامیاب کوشش کی۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے اور اس طرح کشمیر میں انتہائی گھناؤنی سیاست کی جڑیں بہت مضبوط ہوئیں جنہیں آسانی سے اکھاڑا نہیں جاسکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کون چیف منسٹر ہوگا اس کا فیصلہ ہمیشہ نئی دلی کرتی ہے اور یہاں اسمبلی میں کس پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں گی، اس کا فیصلہ بھی الیکشن سے بہت پہلے نئی دلی میں ہوتا ہے۔ کشمیریوں کو کبھی بھی اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیئے کہ الیکشن کے ذریعے یہاں کبھی کشمیری عوام کی امنگوںکی عکاسی کرنے والی حکومت برسرِاقتدار آئے گی۔ ہندوستان شروع سے کشمیر میں یہ کھیل کھیل رہا ہے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے۔
 
 
!اداریہ ::::بے بنیاد خدشات
کشمیر میں نوجوانوں کے اندر مُبینہ طور ملی ٹینسی کے اثرات کے بارے میں نئے بیانات اورخدشات سامنے لائے جارہے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیںہے ۔کشمیر میں مقیم آرمی کمانڈر جنرل سبھراتانے اس تازہ رُحجان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کو نوجوانوں کے اندربڑھتی ہوئی بیروزگاری سے تعبیر کیاہے۔وزیر اعظم ہند کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دووَل خاص طور پر اس صورتِ حال کاجائزہ لینے کیلئے گذشتہ ہفتے سرینگر کے دورے پر آگئے اورسیکورٹی وخفیہ ایجنسیوں کے ذمہ داروں سے صلاح ومشورہ کیا۔ اجیت دووَل ماضی میں انٹلی جنس کے دائو پیچ سے قریبی طور وابستہ رہے ہیں اوراس کاخاص تجربہ انہیں حاصل ہے ۔اس کے علاوہ بطور سلامتی مشیر اُن کی پاکستان کےسلامتی وخارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کےساتھ عنقریب ملاقات متوقع ہے ۔دراصل اجیتدووَل یہاں کے نوجوانوں کے ملی ٹینسی کی صفوں میں دوبارہ شامل ہونے کی اطلاعات سے زیادہ یہاں کی مجموعی صورتحا ل کاجائزہ لینے کیلئے دور وزہ دورے پر یہاں آئے تھے تاکہ سرتاج عزیزکےسامنے واضح طور اپنا نقطہ نظر پیش کرسکیں ۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کے نوجوانوں میں زبردست بے چینی اور ناراضگی پائی جاتی ہے اس کاگہرا تعلق اس ظلم، دبائو اور عتاب کے ساتھ ہے جو ان پر سالہا سال سے روا رکھا گیاہے ۔ہمارےبے گناہ نوجوانوں کوتشددکا نشانہ بنایا جارہاہے اورفرضی کیسوں میں پابند سلاسل کیاجاتاہے ۔2010کے پُرتشدد واقعات میں 120مہلوکین تقریباً سارے کےسارے بے قصور تھے ۔نوجوانوں کےلئے یہاں آگے بڑھنے کے مواقع مسدود بنائے گئے ہیں اور بے پناہ پابندیاں عائد ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی میں یوگا ڈے کے سلسلے میں نوجوانوں پرپولیس کی یلغار اس کی تازہ مثال ہے ۔اور اس کے لئے مقامی سیاستدان اورسیاسی تنظیمیں بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں ۔ان حالات کے پس منظر میںہمارے نوجوانوں کی طرف سے کبھی کبھار جو رویہ سامنے آتاہے اورظلم کے خلاف جو آواز بلند ہوتی ہے ، اس کو ملی ٹینسی کے ساتھ جوڑنے سے حالات کومزید سنگین بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہندوستان کی لیڈر شپ اورفوج کو کبھی سرحدوں پر دراندازی کےواقعات کاخدشہ لاحق رہتا ہے کبھی ملی ٹینسی کےگراف میں کمی یااضافہ نظر آتاہے یایہاں کے نوجوان ملی ٹینسی کی صفوں میں شامل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ سب بے بنیاد خدشات ہیں اورحقائق سے بعید تر ہیں۔گزشتہ کئی سال سے یہاں ایک ایسا ماحول قائم کیاگیا ہے جہاں دور دور تک مایوسی کے بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔جہاں اطمینان کا سانس لینے میں شدید گھٹن پائی جارہی ہے جہاں سیاسی اختلافات کو جگہ یعنی Spaceدینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔نئی دلی اورسرینگر میں حکومتوں کی تبدیلی سے زمینی سطح کی صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ نئی دلی کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں نےریاست جموںوکشمیر کو بدامنی ، تنائو اور غیر یقینیت کی سنگین صورتحال میں دھکیل دیاہے۔ جس کے نتائج واقعی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ حکومت ِ وقت کافرض بن جاتاہے کہ یہاں کے طلبہ ونوجوانوں کو تشدد ، دبائو اور عتاب میںدھکیلنے کے بجائے ان کی ترقی وخوشحالی کےلئے ایک موزوں ومناسب ماحول مہیا کرے ۔ان کے روز گار کےلئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے اور نوجوانوں کوآزادی کےساتھ آگے بڑھنے کے امکانات تلاش کرے ۔یہاں کے نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں نہایت فکرمند ہیں ۔جس کو انکےلئے تاریک ومسدود بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔