دوریاں بڑھتی رہیں گی ---- یوسف العمر
جناب مفتی محمد سعید صاحب کے انتقال کے بعد جموں و کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے ان سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی کہ کشمیر کو ہندوستان سے ملانے کی تمام کوششیں مصنوعی ثابت ہورہی ہیں۔ مرحوم مفتی صاحب نے بی جے پی اور پی ڈی پی کے سیاسی اشتراک کو تاریخی قرار دے کر قطب شمالی کو قطب جنوبی سے ملانے کا دعویٰ کیا تھا مگر باہمی اشتراک کے محض نو مہینے کی مدّت گزرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ آپسی دوراں مزید بڑھ گئی ہیں اور ان کے باہمی اعتماد کی بنیادیں بہت کمزور ہیں۔ سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر دونوں پارٹیاں اپنی ناکامیابیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کچھ بھی دعویٰ کریں مگر حقیقت یہی ہے کہ محض آنکھیں ملانے اور زبانوں پر ایک دوسرے کے لئے تعریفی کلمات لانے سے دلوں کی دُوریاں مٹ نہیں سکتی ہیں۔ یہ بات اسی وقت واضح ہوگئی تھی جب مودی جی نے سرینگر میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں مرحوم مفتی صاحب کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی سفارش پر ٹوکا تھا اور اس وقت مفتی صاحب کے پہلے ہی کمزور چہر ے پر کتنی اداسی چھاگئی اس کا اندازہ لگانا کسی کے لئے بھی مشکل نہیں تھا۔ یہ بات دوسری ہے کہ اُس انتہائی ناخوشگوار واقعہ کے چند ہی دن بعد مودی صاحب بغیر کسی پیشگی پروگرام کے لاہور گئے اور وہاں پاکستانی وزیر اعظم جناب نواز شریف کی پوتی کی شادی پر انہیں مبارکباد ی کی سوغات پیش کی۔ مرحوم مفتی صاحب نے اس خبر پر مسرت کا اظہار تو ضرور کیا مگر ان کے چہرے پر مایوسی کی پرچھائیاں زبانِ حال سے کچھ اور کہہ رہی تھی۔
 
بی جے پی اور پی ڈی پی نے پچھلے نو مہینے کی باہمی ساجھا داری میں اپنے لئے کچھ ایسے مسائل پیدا کئے جو آج ان کے لئے زبردست پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔ ایجنڈا آف الائینس (Agenda of Alliance) کا پاس نہ کرتے ہوئے بی جے پی نے اپنا ہندوتا کا ایجنڈابہت ہی شدّ و مد سے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ دفعہ ۳۷۰ کو ہٹانے ، پاکستانی شرنارتھیوں کو جموں میں بسانے کے لئے سٹیٹ سبجکٹ سرٹیفیکٹ کو کالعدم قراردینے، افسپا کو برقرار رکھنے، گاؤکشی پر سختی سے عمل کرنے، اردو زبان کی جگہ ہندی زبان کو لاگو کرنے،اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پریفیشنل کالجوں کو ترجیحی بنیادوں پر جموں میں قائم کرنے جیسے مسائل کو عوامی سطح پر ابھارا اور پی ڈی پی کی کشمیر میں رہی سہی ساکھ کو ہلاکر رکھ دیا۔ پی ڈی پی اپنے طور کشمیری عوام کی کسی بھی طرح مدد نہ کرسکی۔ نہ ہی انہوں نے سیلاب سے برباد بستیوں کو امداد بہم پہنچائی، نہ سڑک پانی اور بجلی میں کوئی بہتری لائی، نہ حکومتِ ہند سے پانی پر چلنے والے پاور ہاؤس ریاست کو منتقل کرنے میں کوئی پیش رفت کرسکے، نہ جموں و کشمیر کے باشندوں کے اقتصادی مسائل کو کسی بھی طرح سلجھانے میں قدم اٹھا سکے ، اور نہ ہی یہاں کی دم گھٹتی سیاسی فضا میں عوام کو کوئی راحت پہنچا سکے۔
 
ان حالات میں آج یہ دونوں پارٹیاں عوامی عدالت میں بحیثیت مجرم کھڑے ہیں اور ان کے درمیان اپنی مشترکہ نا کامیاں ہی انہیں قریب لاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ دونوں پارٹیوں کا اندرونی انتشار انہیں اس بات کے لئے تیار کرتا ہوا نظر آرہا ہے کہ وہ اقتدار پر بدستور قائم رہنے کے لئے پھر ایجنڈا آف الائینس کی ’مقدس‘ دفعات کوواسطہ بناکر ایوانِ حکومت میں داخل ہوں۔ شاید کشمیرکے سیاسی میدان میں یہ ان کی آخری بازی ہوگی جس کی کامیابی کے بہت کم مواقع (Chances) ہیں۔مگر ان کے لئے موجودہ حالت میں اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نظر نہیں آتا ہے۔ نئی دہلی میں براجمان سیاسی پنڈت اب کون سا داؤ چلتے ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
 
اداریہ::::تعاون کی نئی راہیں گار رکھنے کی ضرورت
اس وقت جبکہ دُنیا کے بیشتر ممالک میں انتشار اورخلفشار پایا جارہاہے ۔ایشائی خطے میں تعاون اورترقی کی نئی راہیں تلاش کی جارہی ہیں اور اُمیدوں کے نئے سہارے فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اقتصادی ترقی اور رابطوں کو نئے سرے سے جوڑنے کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں ۔اقتصادی چیلنجوں کامقابلہ کرنے اورمعاشی مفادات کے تحفظ کےلئے خطّے کے ممالک نزدیک آرہے ہیں۔حالانکہ سیاسی اورفوجی لحاظ سے یہ ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے حریف اورمدِمقابل رہے ہیں ! چین نے روایتی’’سلک روٹ ‘‘ یعنی شاہراہ ابریشم کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے پہلے ہی اقدامات کئے ہیں اورعلاقے کے ممالک کو اعتماد میںلینے کی کوشش کررہاہے ۔چین شاہراہ ابریشم اورسمندری سرحدی راستوں کے ذریعے پاکستان سے لیکر ترکی تک اقتصادی ترقی کےلئے دروازے کھول رہاہے ۔اورپاکستان کےساتھ پہلے ہی اقتصادی راہداری ،پروجیکٹ پرکام شروع کیاہے۔اب تعاون اوراعتماد کاایک نیا سفر ترکمانستان کے شہر اوازا(Avaza)سے شروع ہوکر ہرات اوربلوچستان سے ہوتے ہوئے بھارتی پنجاب تک شروع ہونے والاہے۔یہ چار ممالک ،ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان اورانڈیا (TAPI)کےدرمیان گیس کی ترسیل سے متعلق مجوزہ پائپ لائن کاپروجیکٹ ہے جس پر ابتدا ئی طور 10بلین امریکی ڈالر خرچ ہونے کااندازہ ہے ۔یہ گیس پائپ لائن 1735کلومیٹر لمبی ہوگی اوراوازاسے لیکر ہرات اوربلوچستان سے ہوتے ہوئے بھارتی پنجاب کے بٹھنڈہ شہر تک تعمیر ہوگی اوراس کی حفاظت پر 17ہزار سکیورٹی اہلکار مامور رہیں گے تاکہ افغانستان اورپاکستان میں دہشت گردی کے خطرات سے اس گیس پائپ لائن کو محفوظ بنایا جاسکے ۔ دراصل ترکمانستان کے صدر کی ذاتی کوششوں سے خطے کے تینوں حریف ممالک ، بھارت ، پاکستان اورافغانستان اس منصوبہ پرمتفق ہوگئے اورترکمانستان کے شہر مارے(Mary)میں13دسمبر کو ’’شق الارض ‘‘کی تقریب ہوئی ،جس میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی بھارتی نائب صدر حامد انصاری اورپاکستانی وزیر اعظم نواز شریف شامل ہوئے۔اس طرح سے توانائی کے تعاون سے متعلق ان ممالک کے درمیان اعتماد کی نئی منزلیں متعین کی گئیں ۔جس کاانتظار عشروں سے کیاجارہاتھا ۔ترکمانستان کے اندر دُنیا میں موجود گیس کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر ہیں اورچوتھے درجہ پر ہیں ۔ہندوستان اور پاکستا ن کو معقول قیمتوں پر قدرتی گیس کی فراہمی ممکن ہوگی ۔اورہندوستا ن کی 25فیصد ضروریات پوری ہوں گی ۔جبکہ پاکستان 25فیصد گیس ضروریات پوری کرسکےگا ۔جب 2020ء میں گیس پائپ لائن کایہ منصوبہ مکمل ہوگا۔ توافغانستان کی وافر ضروریات بھی پوری ہوجائیں گی۔روس اورچین کے درمیان پہلے ہی 400بلین امریکی ڈالر کی ایک گیس پائپ لائن زیر تعمیر ہے۔ گیس کایہ پروجیکٹ جنوبی ایشیا اورسنٹرل ایشیا کے ممالک کے درمیان تعاون کاایک نیا سلسلہ ہے ۔جس سے ان ممالک کے اقتصادی مفادات کا تحفظ ہوسکے گا اوران ملکوں کےدرمیان وسیع ترتعاون اوررابطے کے نئے امکانات روشن ہوجائیں گے ۔ہندوستان ،پاکستان اورافغانستان کے کئی دوسرے امور پر اتفاق کے قریب پہنچنے کی اُمید یں ضرور پیدا ہوں گی ۔