انصاف کا دن آنے والاہے ----------- یوسف العمر
عقل اور شعور انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انتہائی عظیم تحفہ ہے اور اسی تحفے کی بنیاد پر اس کی پوری زندگی کی کامیابی اور ناکامی منحصر ہے۔ انسان کو عقل صرف اس لئے عطا نہیں ہوئی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ اور خوشنما بناسکے اور اس کی تمام جدوجہد صرف دنیوی کامیابی پر مرکوز ہوکر رہ جائے۔ آج ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی جس مادّی دوڑ میں لگی ہوئی ہے، اور انسان دن کے پورے چوبیس گھنٹے مال اکٹھا کرنے اور دنیوی زندگی کے مزے لوٹنے میں لگا رہتا ہے، وہ اسے انسانیت کے عظیم مقام سے بہت دور لے گئی ہے۔ آپسی عداوتیں، باہمی انتشار، اخلاقی گراوٹیں، رشوتوں کی گرم بازاری، بازاروں کی بدمستیاں، گھروں کی ویرانیاں، اداروں کی افراتفری اور دلوں میں چھائی اُداسیاں فقط مادہ پرستی کی دین ہیں، انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بدترین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے، مجبور اور محکوم انسانی بستیوں کو بم اور بارود سے بھُون دیتا ہے، لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو اپنے وطن سے بے وطن کردیتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے؟ صرف اس لئے کہ انسان نے اپنی عقل کو بے لگام کردیا ہے، اُسے انسانی عظمتوں کا شعور باقی نہیں رہا ہے اور وہ اندھا اور جاہل بن کر کائنات کے باوقار نظام میں رخنہ ڈال رہا ہے۔
 
قرآنِ پاک نے انتہائی مؤثر انداز سے انسان کو حقیقی طور پر بیدار کرنے اور اُسے باعزت مقام عطا کرنے کے لئے ایک مدلل طریقہ کار کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ فرمایا گیا کہ جب آخرت میں جنتی لوگ پُر فضا باغوں میں تشریف فرما ہوں گے، وہ پوچھیں گے کہ وہ لوگ جو دنیا میں عیش و طرب کی زندگی گزارتے تھے ان کا کیا حال ہے۔ وہ جہنم میں پڑے لوگوں کی چیخ و پکار سنیں گے اور انہیں پوچھیں گے کہ تم کیوں کردوزخ میں جاپڑے۔ وہ بولیں گے دنیا میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، محتاج کو کھانا نہیں کھلایا، فضول اور لغو باتوں میں اپنا وقت ضائع کیااور سب سے بڑی بات یہ کہ اس بات پر یقین نہیں کیا کہ انصاف کا دن ضرور آنے والا ہے۔
 
جان لیا آپ نے کہ انسان عقل و شعور رکھنے کے باوجود جہنم کی ایندھن کیوں بنا، وہ اس لئے کہ اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود وہ نمازوں سے دور رہا، مسکینوں کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا، فضول اور غیر سنجیدہ باتوں میں اپنا وقت برباد کیا اور اُسے اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں رہا کہ جو مال و دولت اُسے عطا ہوئی ہے اس میں محروموں اورمسکینوں کا بڑا حق ہے، جو طاقت اور قدرت اُس نے اپنے اندر سمیٹی ہے وہ بنی نوع انسان کی امانت ہے جو ان کی بہتری میں کام آنی چاہیے، جو ذہنی اور علمی صلاحیتیں اُسے عطا ہوئی ہیں وہ اس پر محض اللہ کا احسان ہے اور جنہیں صرف خلقِ خدا کو آرام اور سہولت بہم پہنچانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیئے۔ جہنم میں سلگتے ہوئے ان بے رحم انسانوں سے پوچھا جائیگا کہ باوجود عقل اور دانائی کے تم اس دوزخ کی آگ میں کیسے آپڑے۔ یقیناً ایسے گنہگارلوگوں نے دنیا میں نہ اللہ کا حق پہچانا اور نہ ہی اللہ کے بندوں کی خبر لی کہ ان کی بھوک اور بد حالی کو مٹانے میں اپنا زور لگاتے۔ ایسے مغرور اور متکبر لوگوں کا ٹھکانابس یہی جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ عذابِ الٰہی کا مزہ چکھیں گے۔
 
اداریہ :::::::اتحاد کے واضح اشارے
گزشتہ ہفتے یوم پاکستان کے سلسلے میں نئی دہلی میں واقع پاکستانی سفارتخانہ میںمنعقدہ ایک پُرشکوہ تقریب میں مختلف حریت قیادت اوروفود نے شرکت کی اورپاکستان کے سفیر عبدالباسط کے ساتھ الگ الگ اور ڈیلی گیشن سطح پر بات چیت کی ۔پاکستان نے اس بار بھی تحریک ِ آزادی کشمیر کی مکمل حمایت کااعادہ کرتے ہوئے حریت دھڑوں کو متحد ہونے کی اپیل دہرائی ۔وزرات خارجہ میں وزیر مملکت وی کےسنگھ نے حکومت ہند کی نمائندے کی حیثیت سے یوم ِپاکستان کی اس تقریب میں شرکت کی جوایک خوش آئند بات ہے کہ حریت لیڈروں کی موجودگی سے سیاسی سفارتی اور میڈیا حلقوں میں کوئی نیا فتنہ کھڑا نہیں ہوا۔ پاکستان کے سفیر عبدالباسط نے حریت کے دونوں چیرمین حضرات کےساتھ الگ الگ اوروفود کے ساتھ ملاقات کی اورحریت متحدہ دائرہ عمل کو اختیار کرنے کی پاکستان کی خواہش اور جذبے کو دُہرایا ۔اس ملاقات کے اختتام پر سید علی گیلانی نےمیڈیا کے ساتھ گفتگو کے دوران حکومت ہند کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں شامل ہونے سے پہلے اپنی شرائط کو دہرایا اورحریت لیڈروں کے مابین کم سے کم اتحاد کوممکن بنانے کیلئے واضح اورمثبت اشارے دئے اور اتحاد کو قابل ِ عمل بنانے کےلئے اچھے نتائج سامنے آنے کی اُمیدوں کا اظہار کیا۔ ایک مدت کے بعد سید علی گیلانی کی طرف سے اتحاد کی کوششوں کا اظہار پوری قوم ،امن پسند اورآزادی پسند لوگوں اورحلقوں کے لئے نہایت ہی اُمید افزا اورحوصلہ بخش ہے ۔حریت کانفرنس کے آئین میں پہلے ہی ایک متحدہ اپروچ اورمتفقہ لائحہ عمل کو اختیار کرنے سے اتفاق کیاگیا ہے ۔اور 2008کے حالات کے پس ِ منظر میں اس اپروچ اورلائحہ عمل کاسختی سے پابند رہنے کے عزم کا دہرا یا گیا ۔البتہ عملی طور پر لیڈروں کے بیانات ، خفیہ ملاقاتیں اورانفرادی انا حریت کےا تحاد کو زک پہنچاتے ہیں اورا ٓزادی کی جانب ایک مشترکہ مارچ اختیار کرنے کامعاملہ ہر وقت الُجھ جاتاہے جس سے یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قیادت کومایوسی ہوجاتی ہے اور آزادی کی منزل قریب ہونے کی بجائے دورہی دکھائی دیتی ہے۔ بدلتے عالمی ماحول سیکورٹی تناظر اور برصغیر کے حالات کے پس منظر میں مسئلہ کشمیر کو ایک کلیدی اہمیت حاصل ہوگئی ہے اورہندوستان کی موجودہ قیادت بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں آمادہ دکھائی دیتی ہے۔لہٰذا حریت قیادت کو متحدہونے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔میرواعظ عمر فاروق، سید علی گیلانی ،شبیرا حمد شاہ اوریاسین ملک کو آگے آکر حریت اتحاد کو ایک حقیقت بنانے کی طرف عملی اقدام کرنے چاہیں ۔حریت اتحاد کے واضح اشارے تو سامنے آئے ہیں لیکن اس ضمن میں اب عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔حریت دھڑوں کے مابین اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور ریاست جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام کی ایک دیرینہ آرزو اور آواز ہے