مظلوم بہر حال مظلوم ہے   ---- یوسف العمر
کسی بھی انسانی سماج میں ایک مہذب انسان کی سب سے نمایاں پہچان یہ ہےکہ وہ مطلوم کی طرفداری کرتاہے ۔چاہے سماج میں کوئی بھی ہو ، وہاں انسانوں کے درمیان اونچ نیچ کافرق ضرور رہتاہے ۔لوگ مختلف ذاتوں ، فرقوں ، مذہبوں ، رنگوں اورنسلوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کے درمیان یہ فرق ظاہری ہے ۔ذات ، فرقہ ، مذہب ، رنگ او رنسل انسان کو پہچان دیتے ہیں، مگر فی نفسہٖ اُسے بڑا اوربزرگ نہیں بنادیتے ہیں ۔جب تک کہ ایک انسان کے اندر ایسی صفات موجود نہ ہوں جو اُسے دوسروں سے ممتاز کریں اُس وقت تک اُ س کو کوئی رُتبہ نہیں دیا جاسکتا ۔جن اوصاف سے سماج میں اعتدال اور ہم آہنگی پیدا نہ ہو، وہ انسانی صفات نہیں کہلائی جاسکتی ہیں ۔آج دنیا میں جو بدنظمی اورافراتفری پھیلی ہوئی ہے ۔وہ ذات ، فرقہ اور مذہب وغیرہ مبادیات سے نہیں پھیلی ہیں بلکہ انسان کی خود غرضی ، خود پسندی اورخود نمائی سے وجود میں آتی ہیں اورجو نفرت اوربغض کی آگ ہر طرف پھیلتی جارہی ہے وہ بھی انسانی خود غرضی کانتیجہ ہے ۔اگرکسی ذات سے وابستہ لوگ مجموعی طور دنیا میں انتشار اور بدنظمی پھیلارہے ہیں،پھر بھی اس طرح کی بدنظمی اورافراتفری ان کی ذات سے وابستہ نہیںکی جاسکتی ہے۔یااگرکہیں کسی مذہب سے وابستہ لوگ تشدد اورتباہی پھیلانے کے مرتکب ہیں ، پھر بھی اس تباہی اور تشدد کیلئے اُن کے مذہب کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتاہے ۔ابھی امریکہ میں صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ برسرا قتدار آئے ہیں اورتمام دنیا میں ان کی غلط حرکتوں اور بے اعتدالیوں سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اورجوحالات سامنے آرہے ہیں اس کےلئے خالصتاً مسٹر ٹرمپ کو ہی ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے نہ کہ پورے امریکہ کی سفید فام انسانی مجموعے کو ۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں جو تشدد کی لہر اُبھری اور لوگ ایکدوسرے کوماررہے ہیں ۔اس کےلئے مطلقاً انہی لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاناچاہیے جو اس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں۔اسلام بحیثیت مذہب اس کی کبھی بھی اجازت نہیں دیتا کہ لوگ محض عقیدے اورخیالات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی گردنیں مارنےلگیں اورانسانوں کی بے عزتی کریں ۔کسی بھی انسان کو کوئی بھی عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتاہے اورنہ ہی رنگ ،نسل اورزبان کی بنیاد پر ہی انسانوں کے درمیان تفریق کی جاسکتی ہے ۔کسی بھی آبادی میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ جب امن اورآشتی کی زندگی بسر کرتے ہوں تولازماً وہ بستی یا وہ ملک ہر لحاظ سے ترقی پسند ہے اور وہاں انسانی وقار اورانسانی قدریں قابل تعریف اورقابل ِ رشک بن جاتی ہیں۔
 
آج دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے اور اسے تشدد اورتباہی سے منسلک کرنے کی جو عالمی سطح پر تحریک منظم ہورہی ہے ، اس کے پیچھے مذہبی عصبیت کی ناپاک سازشیں کارفرماہیں ۔اسلام ایک دین ِ رحمت ہے اورپیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بے شک رحمۃ ً للعالمین ہیں ۔آج زمانہ انسانی آزادی ، انسانی حقوق اور انسانی وقار کی جوآواز بلند کررہاہے اس کی بنیاد دور ِ حاضر میں صرف اور صرف اسلام نے ڈالی ہے ۔آج دنیا میں ہر طرف انسانی وقار اورانسانی حقوق کے تحفظ کاچرچاہے لیکن کون نہیں جانتاکہ یہ سب باتیں نقاب کی مانند ہیں ، جن کے پیچھے دنیا کے گوشے گوشے میں حریت کی قدریں اورشرف ِ انسانی کی عظمتیں خاک میں ملائی جاتی ہیں ۔تہذیب حاضر نے انسانیت پر ظلم وستم کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے ہیں اوریہ طریقے ایسے ہولناک اور تباہ کُن ہیں جن کی مثال تاریخ عالم کا کوئی تاریک سے تاریک صفحہ پیش نہیں کرسکتا ۔جوقومیں حقوقِ انسانی اور انسانی ترقی کی پاسبانی کے سب سے زیادہ بلند بانگ دعویٰ کررہی ہیں وہی انسانیت کاخون چوسنے اورانسان کو ذلیل کرنے میں پیش پیش ہیں اور اس کے لئے نئے نئے اتحاد وجود میں لائے جاتے ہیں۔یواین او کے’’ منشور حقوق انسانی ‘‘ کو ڈھال بناکر آج افغانستان ، شام ، عراق ، لیبیا اوریمن میں کس طرح کی تباہی ہورہی ہے ۔فلسطین اور کشمیر میں جاری تشدد اورتباہی پر اقوام عالم خاموش کیوں ہیں ۔ان ہولناک تباہیوں میں لاکھوں لوگ جل کر خاک ہورہے ہیں ، کروڑوں لوگ نقل ِ مکانی کرنے پر مجبور ہوکر کہیں سمندروں کی موجوں میں غائب ہوتے ہیں اورکہیں سنگلاخ جیسے برفانی تودوں پر تڑپ تڑپ کرجان دیتے ہیں ۔یہ کیسی مہذب دنیا ہے جہاں انسان کادم گھٹتا رہاہے اورجہاں اس کی بستیوں پر ٹینکوں اورمیزائیلوں کی بارش ہوتی ہے ۔اگرعیسائی مذہب سے وابستہ یوروپی اورامریکی طاقتیںآج مسلمان ملکوں پر قہر ڈال رہی ہیں توکیا اس کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملّت کومجموعی طور ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتاہے ۔اگر کیوکلکس کلان (Ku Klux klan)جیسی دہشت گرد عیسائی تنظیم ہزاروں لوگوں کے بہیمانہ قتل میں ملوث رہی ہے توکیا اس کےلئے عیسائیت سے وابستہ کروڑوں عیسائیوں کو ذمہ دار ٹھہرا یاجاسکتاہے یاان ممالک کوجہاں عیسائی اکثریت میں ہیں ۔برما میں بودھ مذہب سے وابستہ چند شدّت پسند گروپوں نے کئی سال سے وہاں کے روہنگی مسلمانوں کاقتل عام جاری رکھاہے اوروہاں سے لاکھوں مسلما ن دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں توکیا ہم دنیا کے اُن کروڑوں بودھوں کو اس کےلئے ذمہ دار قراردیں گے جوامن کے پجاری ہیں اور ایک مکھی کے پر کوکاٹنا بھی گناہ تصور کرتے ہیں ۔خود ہندوستان میں دلتوں ، اقلیتوں اوردوسرے کمزور ذاتوں سے وابستہ لاکھوں لوگوں پر جو ظلم اورتشدد ہورہاہے توکیا اس کےلئے اُن کروڑوں ہندوئوں کو ذمہ ٹھہرایا جائے گاجوامن اورآپسی بھائی چارے کے پجاری ہیں یا بجرنگ دل جیسے شدت پسند گروپوں کو جو ہندوتا کانعرہ بلند کرکے پورے ملک میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔
 
ڈونالڈ ٹرمپ اگر آج چند مسلمان ملکوں کے باشندوں پر امریکہ میں داخلے پرپابند ی لگارہےہیں، تو یہ مسٹر ٹرمپ کی ذہنی بوکھلاہٹ ہے جو اس طرح کے اقدامات کرکےپورے امریکی سماج کو برباد کررہے ہیں امریکہ میں رہنے والے کروڑوں عیسائی ،ہمیں یقین ہے ،اس طرح کی سوچ کے مخالف ہیں ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ میڈلین البرٹھ نے اس صورت حال کے منفی رحجانات کے پیش نظر اپنا نام مسلمانوں کی فہرست میں داخل کرنے کی دھمکی ہے ۔اُن کی اس دھمکی میں کئی ایک امریکی شخصیتیں شامل ہیں جن کاتعلق عیسائی مذہب یایہودی مذہب سے ہے اور وہ سب لوگ موجودہ امریکی حالات سے پریشان ہیں ۔امریکہ میں دانشوروں کاایک بہت بڑا طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے ذہن میںپلنے والے سوچ امریکی سماج کے بنیادی اقدار کوبُری طرح کمزور کرکے اس کی عالمی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔الغرض وقت آچکا ہے کہ دنیا میں تمام مثبت سوچ رکھنے والے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اوران تمام فسطائی اورطاغوتی قوتوں کےخلاف صف آراہوں جن کو اپنے ظلم اورناانصافی پر ناز ہے اورجو اس خوبصورت دنیا کے حسین چہرے پر بدنما داغ ہیں۔
 
 
 
انتشار سے خلاصی پانے کیلئے شرعی رہبری کی ضرورت ---- اداریہ
عصر حاضر میں عالم اسلام عموماً اور غیر مسلموں کے تسلط میں رہائش پذیر مسلمان خصوصاً بد نظمی اور انتشار کے شکار ہیں ۔جس کی وجہ سے عالمی سطح پر مسلمان کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود معتوب ومغلوب ہیں۔اس سے چھٹکار اپانے کیلئے نہ صرف مسلمانوں کے حساس طبقے میں بلکہ عام مسلمانوں کے اندر زبردست پریشانی اورتذبذب دیکھنے کوملتاہے۔انتشار اوربدنظمی کی وجہ جہاں مسلم ممالک میں حکمرانوںکی خود غرضی ، نااہلی ،اورملت کےتئیں بے حسی کو قراردیاجاتاہے وہاں غیرمسلم ممالک میں مسلم اقلیت اورمقبوضہ مسلم علاقوں پر روا ظلم وستم کو انتشار اوربے چینی کی اصل وجہ قرار دیاجاتاہے ۔دونوں انتظاموںیعنی مسلم ممالک کے خود مختارانہ انتظام اورغیر مسلم ممالک کے غالبانہ نظام سے چھُٹکاا پانے کیلئے عام متاثرین اورحساس طبقہ مختلف طریقوں پر اپنی ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہے ۔یہ احتجاج کہیں جلسہ جلوسوں اورنعرہ بازی ،کہیں انتفادہ اورسنگ بازی ۔اورکہیں جدید قسم کےجنگی سازوسامان کے مقابلے میں محدود وسائل کو لے کر سامان حرب وضرب کے استعمال سے جاری ہے ۔ظاہر ہے مسلمان اس احتجاج کو محض اللہ کی رضا کیلئے جذبہ جہاد سے ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ورنہ اس دو رکی جدید اورفلکیاتی ٹیکنالوجی کامقابلہ  نعرہ بازی ، سنگ بازی یہاں تک کہ گولہ باری سے بھی نہیں کیاجاسکتا ۔لیکن احتجاج جاری ہے ۔اورجیسا کہ دیکھا جارہاہے۔نقصان زیادہ تر مسلمانوں کا ہی ہورہاہے۔اور پورے عالم اسلام میں یہ کیفیت زیادہ دیر تک برداشت ہونا بظاہر محال نظر آتاہے۔اس کیفیت کولے کر جہاں جذبہ جہاد اوررضائے الٰہی سے لبریز دل جنت کی خوشبو سونگھتا رہتاہے ۔وہیں ایک عام مسلمان جو آخرت کےساتھ ساتھ دنیا میں بھی مسلمانوں کی فلاح وکامرانی دیکھنے کامتمنی ہے۔کبھی کبھی بددل ہوتاجارہاہے۔اورغیر مسلموں کےساتھ ساتھ مسلمانوں کی صفوں میں رہ رہے منافقین کو بھی اسلام کے خلاف اُنگلی اُٹھانے کاموقع ملتاہے۔اورزبردست پروپگنڈا چلا یاجارہاہے۔جس کاشکار ایک عام مسلمان آسانی سے ہوسکتاہے۔اوراگرپوری طرح سے غور کیاجائے اور عالم اسلام پر بلاکسی عصبیت کے نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوگاکہ دنیا کے سارے مسلمان ایک عام مخمصے میں پڑے ہوئے ہیں۔ایک طرف سے جہاں برما کے روہنگیا مسلمانوں اورفلپائن کے مورومسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر رونا آتاہے۔تو دوسری طرف سے شام اور عراق کی خوشحالی کااُجڑ جانا آدمی کے دل کو مجروح کرتاہے ۔جہاں کشمیرکا مسلمان صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میںجکڑا ہوا چلا آرہاہےوہاں دوسری طرف فلسطین کی حالت ِ زار کودیکھ کر کشمیری ستم رسیدہ اپنا دُکھ بھی بھول جاتاہے ۔جہاں ایشیا ء میں افغانستان ، چیچنیا ، عراق وشام جل رہے ہیں ۔وہاں افریقہ اوریورپ میں سوڈان ، سومالیہ ، الجیریا،لیبیا ، بوسنیا،آرمینیا ، ایریٹریا اوردیگر ممالک کی حالت زار سب کو رُلا رہی ہے۔جہاں ہندوستان میںمسلم اقلیت غیر مسلموں سے سیاسی عتاب کی شکار ہے وہاں مصر میں خود مسلمان مسلمان کاگلا کاٹتاہے ۔جہاں پاکستان اورایران میں شیعہ سُنی تعصبات جڑ پکڑتے جارہے ہیں ۔وہاں یمن اورسعودی عربیہ اس مسئلے کو لے کر باہم متحارب ہیں ۔ صور تحال کااگر نقشہ کھینچے تو سینکڑوں صفحات سیاہ ہوسکتے ہیں۔ایسی صورتحال میں نظریہ جہاد سے متعلق مسلمانوں کے اندر متضاد خیالات جنم لیتے ہیں۔کچھ لوگ نظریہ جہاد اورتصور جہاد کی تشریح ایک انداز میں کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اورمتضاد مختلف انداز کی تشریح لے کر سامنے آتے ہیں ۔اخبارات اورانٹرنیٹ پر متضاد خیالات پرمبنی آر ٹکلز اورمضامین دیکھے جاتے ہیں۔ایسی صور ت میں علماء دین کی خاموشی ملت اسلامیہ کےلئے ایک اچھی علامت نہیں ہے۔بلکہ ایسی ہی انتشاری کیفیت میں علما ء کی صحیح رہبری کی ضرورت ہے ۔پوری ملت کی نظر یں علما ء پر لگی ہوئی ہیں ۔اورپوری ملت یہ چاہتی ہے کہ علماء اپنے اپنے مسلکی خولوں سے باہر آکر باہمی اختلافات کو بُھلا کر بڑی فراخ دلی کےساتھ اس مسئلے پر غور کرکے اپنے حقوق کی بازیابی اوردنیا میں مسلمانوں کی نشاط کو بحال کرنے کیلئے جدوجہد کے سلسلے میں کی جانیوالی کوششوں کے بارے میں شرعی نقطہ نگاہ سے مشترکہ طورپر ملت اسلامیہ کو آگاہ کرکے رہبری کریں ۔بصورت دیگر ملت کو پہنچنے والے نقصان کے سلسلے میں عنداللہ باز پُر س ہوسکتی ہے ۔