کشمیر میں جمہوری تماشا کا ڈراپ سین ----------- یوسف العمر

اس سال مئی کے مہینے میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے لئے جو الیکشن ہوئے اور جس میں ہندو شدت پسند تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی ، اس میں کشمیر کی ہندوستان نواز تنظیموں نے روایتی طور حصہ لے کر ہندوستان کے ساتھ اپنے عہد ِوفاداری کو پھر تازہ کیا۔ کشمیر کی ان ہندوستان نواز تنظیموں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں انہیں براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی سے ٹکر لینی ہوگی اور وہ اس مقابلے سے اس قدر خوفزدہ ہوں گی کہ تمام کوششوں کے باوجود اب ان کی جھولی میں چند ہی اسمبلی سیٹیں آسکتی ہیں اور حالات اس قدر بدل جائیں گے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں یا تو خود حکومت تشکیل دے گی یا پھر کئی ایک مقامی ہندوستان نواز تنظیموں سے مل کر حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالے گی۔ اس طرح کے گٹھ جوڑ اور حکومت سازی سے کشمیری سیاست پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، اس کا نتیجہ مستقبل میں سامنے آئے گا جو واقعی یہاں کی نازک سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ حالات جو بھی کروٹ لیں گے، اس سے یہاں کاماحول مزید انتشارکا شکار ہوگا اور لوگ بے پناہ مشکلات سے دوچار ہوں گے۔

کشمیر کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں ہندوستان نواز اور ہندوستان مخالف عناصر کی رسہ کشی پچھلے ساٹھ ستر سال سے پروان چڑھ رہی ہے اور آج یہ رسہ کشی بام عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس رسہ کشی نے یہاں اتنا شدید انتشار پیدا کیا ہے کہ ہمارا پورا نفسیاتی وجود ہی ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ ہندوستان نواز عناصر نے نام نہاد تعمیر و ترقی کے جھوٹے اور بے بنیاد وعدے کرکے یہاں کی ذہنی آوارہ گردی کو اس قدر بڑھادیاکہ زندگی کے ہر شعبے میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ آج کشمیر میں بد دیانتی، بے حیائی، بے شرمی، اخلاقی بگاڑ، رشوت ستانی، کنبہ پروری، بے روزگاری، جہالت اور طرح طرح کے جو روگ اور مرض پیدا ہوئے ہیں وہ اسی ذہنی آوارہ گردی کا نتیجہ ہیں۔ ہمارا اقتصادی نظام درہم برہم ہوا اور ہمیں زندگی کی ہر مادی ضرورت کے لئے ہندوستان کا محتاج بنادیا گیا۔ ہمارے تعلیمی نظام کو نہ صرف بے حیائی کے سانچہ میں ڈھال دیا گیا بلکہ اسے اس قدر نامناسب اور ناکارہ بنادیا گیا کہ ہماری نوجوان نسل کو صریحاًخودکشی کی راہ پر ڈال دیا گیا ہے اور اسے ایک تاریک مستقبل کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ہمارے سماجی نظام کو زرپرستی، موقعہ پرستی، لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی کی غلیظ خباثتوں سے بھردیا گیا۔ جن افراد کے کرتوت اتنے گھناو¿نے ہیں کہ کسی بھی مہذب سماج میں ان کی گردنوں میں پھانسی کے پھندے پڑ جانے چاہیے تھے ، آج انہیں پھولوں کی مالائیں پہنا کر عوامی لیڈر کے منصب پر کھڑا کیاجاتا ہے ۔ جن افراد کی رگ رگ میں ظلم ، بد دیانتی اور عوامی استحصال کے زہریلے کیڑے پروان چڑھے، وہ مسندِ اقتدارپر براجمان ہوئے!

ہندوستان مخالف قیادت نے حقِ خود ارادیت اور آزادی کے جھنڈے تلے یہاں کے لاکھوں نوجوانوں کی قربانیاں پیش کرکے ایک سنہرے اور تابناک مستقبل کی قندیل روشن کی، سینکڑوں بستیوں اور ہزاروں گھروں کے چشم و چراغ کو راہِ خودشناسی اور خود اعتمادی میں قربان کیا۔ راہِ حق میں دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں ہوتی ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل کے اندر جو خود اعتمادی اور بڑی سے بڑی قربانی دینے کا جذبہ ہے وہی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اس جذبے کو ہمیں اپنی تمام توانائیوں سے مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا۔ الیکشن کے تماشے یہاں کئی دہائیوں سے ہوتے رہے اور آج بھی یہ محض ایک تماشا ہے۔ تماشے کا یہ ڈراپ سین ایک مہینے میں ختم ہوگا اور اس کے اداکار پھر پردے کے پیچھے انہی عیاشیوں اور رنگ رلیوں میں کھو جائیں گے اور ان کے تماشائی اپنی مایوسی کا رونا رو کر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

 
اداریہ ::::::: زیرو نہیں ہیرو
ریاست جموںوکشمیر آج کل سیاسی اور انتخابی سرگرمیوںکا مرکز بنتا جارہا ہے جو طوفان خیز سیلابی دور کے فوراً بعد انتہائی غیر متوقع اور بے وقت کی راگنی لگ رہا ہے۔ ایسی سرگرمیاں متمدن ممالک اور مہذب سوسائٹی میں تو چل سکتی ہےں جہاں ایسی ہنگامہ خیز تباہی و بربادی کے فوراً بعد حکومت کی مشینری اس طرح کے ڈیزاسٹر کے چوبیس گھنٹوں کے اندر راحت مشن کا آغاز کرے، ہنگامی لائف سیونگ پروگرام پر عملدرآمد کیلئے ایمرجنسی کا نفاذ ہو جائے ، پھر ایک ہفتہ تک لٹے پٹے سیلاب زدگان کا عارضی ٹھکانہ کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ مستقل رہائش کیلئے فوری کارروائی کا آغاز کیا جائے ۔ ایسے ممالک کے لئے دو ماہ کا عرصہ مناسب ہوتا ہے کہ وہ سیاسی یا انتخابی سرگرمیوں کا بھی آغاز کرسکےں لیکن ریاست جموںوکشمیر کی کیفیت بالکل مختلف ہے۔یہاں چھیاسٹھ سال تک اقتداری ٹولے نے اس قوم کو جو کچھ دیا وہ سیلابی اثراتِ بد سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ انتخابات میں اترنے والے سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف حصول اقتدار ہوتا ہے ۔ الیکشن کے موسم میں قوم ِ کاشرکو بے وقوف بنانے کیلئے یہ ایک دوسرے کیخلاف زبان درازی کرتے ہیں لیکن عام دنوں میں یہ سب ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہوتے ہیں ۔ نورا کشتی لڑنے والے یہ سیاسی مجاور ہمیشہ اپنی ہی قوم کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور ہماری تر دماغ قوم بھی ” ماشاءاللہ“ ان کے بُنے ہوئے جالوں میں آسانی کے ساتھ پھنس جاتی ہے ۔ایسا کوئی جلسہ نہیں جہاں قوم جوق در جوق حاضر نہ ہوتی ہو۔ ایک جماعت کے جلسہ میں لوگوں کا جمِ غفیر ہوتا ہے، یہی لوگ یہاں سے اٹھ کر دوسرے کے جلسے میں پہنچ جاتے ہیں، اسی طرح تیسرے اور پھر چوتھے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ ان روایتی لیڈروں کی طرح قوم کا بھی کوئی مقصدِ زندگی نہیں۔ یہ قوم جتنے کرب اور عذاب سے گذر رہی ہے اِسے اتنا ہی حساس اور ذمہ دار ہونا چاہئے ۔ اسے خود اپنے مسیحا ڈھونڈنے ہونگے۔ اس قوم میں سبھی زیرو نہیں ہیرو بھی ہےں جو قوم کی نیا بھنور سے نکال سکےںجیسے ایک این جی او ”جموںوکشمیر سخاوت سنٹر“ نے چار روز پیشتر قوم کے ان ہی ہیروز کو تلاش کرکے انعامات سے نوازا جنہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر سیلابی سمندر سے لوگوں کی جانیں بچائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کی تقدیر کو سنوارنے کیلئے ایسے ہی مخلص ہیروز کا ساتھ دیا جائے جو اس مظلوم و محکوم قوم کیلئے مسیحا کا کام کر سکیں۔