انڈیا اور پاکستان کے بلیسٹک میزائلوں کا تجربہ…

نصرت خان
انڈیا نے 19 اپریل 2012ء کو اگنی 5 انٹرکانٹینٹل بیلسٹک میزائل جس کی مار 5 ہزار کلومیٹر ہے کا تجربہ کیا۔ انڈیا کے دفاعی ماہرین اس وقت انتہائی حالت جوش میں ہے کہ انڈیا ایک بڑی میزائل طاقت بن گیا ہے۔ انڈیا نے تاریخ رقم کردی ہے اور یہ میزائل دْنیا کی سیاست اور طاقت کی بچھی بساط کو یکسر تبدیل کردے گا۔ کہہ تو وہ یہ رہے ہیں کہ انڈیا بیجنگ کو نشانہ پر رکھنے کی پوزیشن میں آگیا بلکہ پرجوش انڈین دفاعی تجزیہ کا دعویٰ دار ہیں کہ پورا چین انڈیا کے اگنی 5 کے زد میں آچکا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو امریکہ تھا جس نے میزائل کی مار کو 5 ہزار کلومیٹر رکھنے کا مشورہ دیا ورنہ تو انڈیا کی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے اور انڈیا کی سلامتی اور انڈیا کی حالت تیاری کی سطح بلند ہوگئی ہے۔ یہ میزائل 1.5 میٹرک ٹن وار ہیڈ لے جاسکتا ہے، چاہے وہ ایٹمی ہو یا روایتی ہتھیار ہوں، ماہرین کے مزید پڑھیں…

فقط جہاد ! انسانی ترقی کا ضامن

شاہ نواز فاروقی
روایات میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے لیے آتشِ نمرود دہکائی جارہی تھی تو فرشتوں نے دیکھا کہ ایک چڑیا چونچ میں پانی بھرکر لاتی ہے اور آگ کے پاس جہاں تک جاسکتی ہے، جاتی ہے اور پانی انڈیل کر مزید پانی لانے کے لیے لوٹ جاتی ہے۔ فرشتوں نے چڑیا سے کہا: ’’تْو کیا سمجھتی ہے تیرے چونچ بھر پانی سے آتشِ نمرود بجھ جائے گی؟‘‘ چڑیا نے کہا: ’’مجھے معلوم ہے کہ میرے چونچ بھر پانی سے آتشِ نمرود نہیں بجھے گی لیکن میں چاہتی ہوں کہ جب آگ بھڑکانے اور آگ بجھانے والوں کی فہرستیں بنیں تو میرا نام صرف آگ بجھانے والوں کی فہرست میں ہو۔‘‘ اس روایت کی سند کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا دشوار ہے، لیکن اس کے بارے میں سو فی صد یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ جدوجہد کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس مثال سے ثابت ہے کہ جدوجہد صحیح نیت اور کامل اخلاص کے ساتھ تواتر سے کی جانے والی ایسی کوشش کو کہتے ہیں جو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے نتیجے کی پروا کیے بغیر کی جائے۔ مزید پڑھیں…

اسلام اور جدیدیت۔۔۔۔۔۔ایک تقابلی جائزہ (قسط 1)
اب اسلام اور مغربی تہذیب کا تصادم ایک دوسرے ڈھنگ پر ہو رہا ہے۔ یقینا مغربی تہذیب کسی حیثیت سے بھی اسلام کے مقابلہ کی تہذیب نہیں۔ اگر تصادم اسلام سے ہو تو دنیا کی کوئی قوت اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔ مگر اسلام ہے کہاں؟ مسلمانوں میں نہ اسلامی سیرت ہے، نہ اسلامی اخلاق، نہ اسلامی افکار ہیں نہ اسلامی جذبہ۔ حقیقی اسلامی روح نہ ان کی مسجدوں میں ہے نہ مدرسوں میں، نہ خانقاہوں میں۔ عملی زندگی سے اسلام کا کوئی ربط باقی نہیں رہا۔ اسلام کا قانون نہ ان کی شخصی زندگی میں نافذ ہے نہ اجتماعی زندگی میں۔ تمدن و تہذیب کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کا نظم صحیح اسلامی طرز پر باقی ہو۔ ایسی حالت میں دراصل مقابلہ اسلام اور مغربی تہذیب کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی افسردہ، جامد اور پس ماندہ تہذیب کا مقابلہ ایک ایسی تہذیب سے ہو جس میں زندگی ہے، حرکت ہے، روشنی علم ہے، گرمی عمل ہے۔
تحریک ،لانگ مارچ اور تصادم

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک برپا کرنے کا اعلان کرچکے ہیں جب کہ عمران اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدلیہ سے سزا یافتہ قرار پائے ہیں۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یوم شہدا کے موقع پر اپنی تقریر میں تمام اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک کی خدمت کرنے کی نصیحت فرمانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دہرایا ہے کہ عام آدمی کی فلاح اور بہبود کی خاطر اقدامات کیے جانے چاہیے اگر جمہوریت کا تسلسل مزید پڑھیں…

جیسی کرنی ویسی بھرنی

غلام حسن آزادؔ
ہمیشہ کی طرح کسان کی بیوی نے جو مکھن کسان کو تیار کر کے دیا تھا وہ اسے لیکر فروخت کرنے کیلئے اپنے گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو گیا، یہ مکھن گول پیڑوں کی شکل میں بنا ہوا تھا اور ہر پیڑے کا وزن ایک کلو تھا۔شہر میں کسان نے اس مکھن کو حسب معمول ایک دوکاندار کے ہاتھوں فروخت کیا اور دوکاندار سے چائے کی پتی، مزید پڑھیں…