طویل سفر، قلیل وسائل---- یوسف العمر
8نومبر 2016کے روز محترم سید علی شاہ گیلانی صاحب کی صدارت میں اُن کی رہائش گاہ پر نہایت ہی پُروقار انداز میں ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں حریت کانفرنس کے قائدین میر واعظ جناب ڈاکٹر محمد عمرفاروق صاحب اورجناب محمدیاسین ملک صاحب کےعلاوہ کئی دیگر رہنما بھی شامل تھے ۔جن میں مقتدر مذہبی تنظیموں کے کئی سربراہاں،علمائے کرام ، دانشور حضرات ، سِول سوسائٹی کے کئی ایک مقتدر لیڈر ، سماجی تنظیموںاور ٹریڈ یونینوں کے زعماء ، بیوپار سے وابستہ کئی ایک فیڈریشنوں کے قائدین اورنوجوانوں کی ایک خاصی تعداد شامل تھی ۔یہ نمائندہ اجلاس حالیہ تحریک آزادی کو درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونےا ورایک طویل المدتی طریقہ کار عملانے کے بارے میں حریت قیادت نے بلایاتھا تاکہ متعلقہ فریقین ایک واضح طریقہ کار کے تحت موجودہ جدوجہد کوآگے لیجانے کیلئے اپنے مشورے پیش کرسکیں۔اس نمائندہ اجلاس میںیہ بات واقعی نہایت ہی حوصلہ افزاتھی کہ سماج سے وابستہ ہر طبقے کے نمائندوں نے حریت کی موجودہ قیادت پر اپنا غیر متزلزل اعتماد اوربھروسہ جتلایا ۔تمام شرکاءجن میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے چند ذی وقار رہنما بھی شامل تھے ، نے یک زبان ہوکر موجودہ حریت قیادت کے اتحاد پر اپنا اطمینان ظاہر کیا اورتمام لیڈروں کو اس بات پر مبارک باد پیش کی ۔باہمی اتحاد اور اعتماد کو کسی بھی فعال اور سنجیدہ تحریک کیلئے ریڑھ کی ہڈی تصّور کیاجاتاہے۔شرکاء اجلاس نے حریت قیادت کی مسلسل قربانیوں کے ساتھ ساتھ اُن کے صبر آزما مراحل سے گذرنے پر اپنے دلی جذبات اورگہری عقیدت کااظہار بھی کیا۔اجلاس کایہ پہلو نہایت ہی اطمینان بخش اورمسرورکن تھا ۔
 
شرکاء اجلاس نے اپنی اپنی آراء پیش کیں اورموجودہ تحریک کومزید فعال بنانے اور متعین منزل کی طرف مزید قوت اوروقار کےساتھ آگے بڑھانے کیلئے چند قیمتی مشورے پیش کئے ،اُن میں خاص کر اقتصادی میدان میں سماج کے مختلف طبقوں سےوابستہ مشکلات اوراُن کے ازالے کیلئے اقدامات اُٹھانے پر زور دیاگیا ۔اسی طرح حالیہ مسلسل ہڑتال اورکرفیو کی وجہ سے جو منفی اثرات یہاں کے تعلیمی نظام پر پڑے ان کے بارے میں بھی شرکاء نے اپنی گہری تشویش کااظہار کیا اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے پر زوردیا ۔اجلاس میں یہ بات بالکل واضح کردی گئی کہ حصول ِ آزادی کی تحریک میں عوام کو ہمیشہ بے انتہا قربانیاں دے کر گونا گوں مسائل سے دوچار ہونا پڑتاہے۔حصول ِ آزادی کاسفر کبھی کبھی بہت طویل ہوتاہے۔اورکشمیر پچھلے 70سال سے اپنی تحریک آزادی میں کئی مراحل سے گزارا ہے ۔اوراس دوران اس مقصد کے حصول کیلئے تین نسلیں کام آئی ہیں اوراب نوجوانوں کی تازہ نسل اس جدوجہد کو آگے لے رہی ہے ۔کشمیر کی تحریک آزادی کئی ادوار سے گزر کر موجودہ دور میں داخل ہوئی ہے ۔یہ تحریک کبھی عدم تشدد کاطریقہ اختیار کرکے آزمائشوں سے گزری اور کبھی خونین انقلاب کی صورت اختیار کرکے اپنے لاکھوں جیالوں کی قربانی پیش کی ۔اگر ہم صرف پچھلے چار ماہ کےدوران قربانیوں کاہی تذکرہ کریں ۔جہا ں تقریباً سو لوگ شہید ہوئے ،ایک ہزار کےقریب لوگوں نے پیلٹ گن کاشکار ہوکر اپنی بینائی کو آزادی کی بھینٹ چڑھادیا ، سولہ ہزار افراد ٹیر گیس شلوں اورگولیوں سے زخمی ہوئے ، دس ہزار جوان جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔درجنو ں مکان اور سکول نذرِ آتش ہوئے،کاروبار میں کروڑوں روپیہ کانقصان ہوا، بازار بند ہوئے ، فیکٹریاں سنسان پڑی ہیں ۔اورتمام تعلیمی اداروں کے اندر تعلیم وتربیت کانظام ٹھپ پڑا ہے ۔سماج میں جو خوفناک صورت حال اُبھر کرآئی ہے۔وہ نہایت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔حکومتی ادارے عضو معطل بن کرسکتے میں آئے ہوئے ہیں ۔سرحدوں پر روزانہ گولہ باری سے لاکھوں لوگ پریشان ہیں ۔سرحدوں کے دونوں جانب روز ہلاکتیں ہورہی ہیں ، گھر تباہ ہورہے ہیں اورفصلیں برباد ہورہی ہیں ۔ہندوستان اورپاکستان کے درمیان جنگی صورت حال کے منحوس سائے چھائے ہوئے ہیں اورروز بروز اُن کے درمیان آپسی دشمنی کی فضا شدید ہورہی ہے ۔
 
مسئلہ کشمیر کی سنگینیت نے جو صور ت اختیار کی ہے ،لگتا یوں ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں بیٹھے ارباب ِ اقتدار اُس کے تباہ کن اثرات سے لاتعلق ہیں ۔ان دوممالک کےد رمیان مسئلہ کشمیر پرکئی ایک جنگوں نے انہیں حقیقت پسندی سے کام لینےکیلئےذہنی طور تیار نہیں کیاہے۔اوراس طرح یہ مسئلہ ہندوپاک سمیت کروڑوں انسانوں کیلئے تباہی وبربادی کامحرک بن رہاہے۔اگرا ن ممالک میں ایک دور اندیش اور حقیقت پسندانہ سیاسی قیادت ہوتی تویہ مسئلہ کئی سال پہلے حل ہوا ہوتا اور آج اِن کے درمیان ایک نیوکلیائی جنگ کے بادل نہیں منڈلاتے ۔اس تناظر میں کشمیر میں تحریک ِ آزادی کی قیادت کو کتنا سنجیدہ ، بیدار مغز اوردوراندیش ہوناچاہیے اس کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔تحریکیں محض جذبات کی بنیاد پر اپنا مقصد حاصل نہیں کرتی ہیں حالانکہ جذبات کاہماری زندگیوں میں ایک گہرا رول ہے لیکن زمینی حقائق اورتاریخی پس منظر سے ناآشنا رہ کر کوئی بھی قیادت منزل مقصود کو چھو نہیں سکتی ہے ۔آج ہمارے عوام کے درمیان جو اتحاد ہے اور جو قربانیاں انہوںنے دی ہیں ، وہ واقعی قابل تعریف اور قابل قدر ہیں ۔ہمیں انہیں ضائع نہیں ہونے دیناچاہیے۔وقت کی اہم ترین ضرورت ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم اپنی جدوجہد کو مختلف ادوار سے گزارتے ہوئے اس کےلئے حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کریں ۔ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ ہم جس طاقت سے نبرد آزما ہیں ، وہ مکروفریب میں بہت ماہر ہیں اوراس کے پاس ہمیں دبانے کیلئے بہت حربے ہیں ۔ہم اپنے قلیل وسائل سے حکمت وتدّبر سے کام لے کر اوراللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔قیادت کی معاملہ فہمی،بلند نظری اورآپسی اتحادہمیں آزادی کے طویل سفر میں انشاء اللہ فیصلہ کُن زاد ِ راہ فراہم کرے گا۔
 
 
 
 
جدوجہد کے صبرآزما مراحل ---- اداریہ
کشمیر کی موجودہ عوامی تحریک کے چار ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور126روزسے جاری یہ تحریک مزاحمت اب ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہوچکی ہے۔اورعوام کے تمام طبقوں اورمکاتیب فکر نے اس تحریک کے ساتھ والہانہ لگائو اوروابستگی کامظاہرہ کرتے ہوئے حریت کی متحدہ قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اعاد ہ کیاہے اورتحریک کو عزیمت اوراستقامت کے ساتھ جاری رکھنے اور منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپنی حمایت اورتعاون کو پیش رکھنے کاوعدہ کیاہے۔8نومبر کو حیدر پورہ میں حریت ہیڈ کوارٹر پر دن بھر جاری رہنے والے اجلاس سے ریاست کے عوام کو اعتماد ،عزیمت اورآزادی کا ایک نیاحوصلہ ملاہے۔اس نمائندہ اجلاس میں وسیع تر بنیادو ں پر مشورے اورآرأپیش کی گئیں ۔لیکن آزادی کے حصول تک جاری رہنے والی اس تحریک کو ہرسطح پر اور بھر پور انداز میں جاری رکھنے سے مشترکہ طور اتفاق کیاگیا ہے ۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر میں مقیم سکھ آبادی کی نمائندہ تنظیم سکھ کوارڈینشن کمیٹی کے زعما ءنے بھی اس نمائندہ اجلاس میں شرکت کی اورموجودہ تحریک کےساتھ وابستگی اوریکجہتی کااظہار کرتے ہوئے حریت کی طرف سے جاری ہونےوالے تمام پروگراموں پر عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کی ۔حیدر پورہ کااجلاس ہر لحاظ سے اُمید افزاءاورقوم کی آرزئوں کاترجما ن ثابت ہوگیا ۔جس نے موجودہ تحریک کونئی جہت اور نئی سمت عطا کی ہے۔
 
اس نمائندہ اجلاس میں شریک ہونےوالے سبھی لیڈر ، دانشور ، اورکارکن تحریکِ مزاحمت کے تئیں بھر پور حمایت اوریکجہتی کامظاہرہ کرنے میں پیش پیش رہے ۔تحریک کومنزل کی جانب لینے اورمشترکہ قیادت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے پروگراموں کے ضمن میں زندگی کے تما م شعبوں سے وابستہ نمائندوں نے مُفید تجاویز اور مشورے پیش کئے۔اورحریت قیادت نے ان مشوروں اورتجاویز کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل ترتیب دینے کایقین دلایا ۔کشمیر کی تاریخ میں اس طرح کے کامیاب نمائندہ اجلاس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں اور یہ پوری قوم کیلئے واقعی باعث ِ افتخار اورلائق تحسین ہے۔
 
کشمیر بین الاقوامی طور تسلیم شدہ ایک دیرینہ تنازعہ ہے اورکشمیر کے لوگوں نے گزشتہ 7دہائیوں میں ایک پُرامن جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔یہ جدوجہد ایک مقدس جدوجہد ہے جیساکہ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلا نی نے اجلاس کے آخر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اظہار فرمایا ۔’’ہماری یہ جدوجہد مختلف مراحل سے گزرچکی ہے۔اور اس نے ماضی میں بھی مختلف منزلیں طے کی ہیں ۔لیکن ہر دور میں یہا ں کے عوام نے کبھی بھی بھارت کے ناجائز تسلط کو قبول نہیں کیا ۔بھارت اپنی پوری فوجی قوت مادی وسائل کی فراہمی اورظلم ، استحصال اوراستبداد کے باوجود یہاں کی اس پُرامن جدوجہد اورآواز کو زیر نہیں کرسکاہے ‘‘۔آج کشمیریوں کی چوتھی نسل دیوانہ وار کشمیر کی آزادی کیلئے میدان میں اُتر آئی ہے ۔بُرہان کی شہادت کے بعد جوانوں میں آزادی کے تئیں ایک نیا جوش اورجذبہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ آزادی سے کم کسی بھی پوزیشن پرراضی نہیں ہوسکتے ۔آج پاک بھارت سرحدوں پر جنگ کے شعلے تیز ہو رہے ہیں ۔اورگولیوں کے تبادلے سے دونوں طرف کی شہری آبادی مصیبت میں پڑی ہوئی ہے ۔بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی روابط بھی نہایت کمزور ہورہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سرحدوں پر بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کااظہار کیاہے اوراسے دونوں ملکوں کےد رمیان ہونے والی ایک بڑی تباہی کاپیش خیمہ قراردیا ہے۔بھارت اپنی ضد اورہٹ دھرمی پر برابر قائم ہے اورکشمیر کے موجودہ ابتر حالات کو بہتر بنانے کیلئے نئی دلی نے مناسب اقدامات لینے میں بہت دیر کردی ہے ۔حید پورہ کاحالیہ اجلاس کشمیری قوم کی جدوجہد ،ا ستقامت ،عزیمت ، وحدت اوراتحاد کابے مثال مظہر ہے ۔اُمید کی جاتی ہے کہ حریت قیادت اس مظلوم قوم کی توقعات پر پورا اُترتے ہوئے اس قافلے کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرتے ہوئے اپنا بھر پور اورموثر رول ادا کرےگی۔