کیاکشمیر ی نوجوانوں میں سماجی قدروں کی کمی ہے؟  ---- یوسف العمر
نوجوان کسی بھی سماج میں سب سے زیادہ فعال ،بلند ہمت اور قابل قدر حصہ ہوتے ہیں۔جہاںسماج کابزرگ طبقہ حالات کےسامنے ہتھیار ڈال دیتاہے۔وہاں نوجوان طبقہ ایک نیا مستقبل تعمیر کرنے کیلئے ہمہ وقت ایک سیمابی کیفیت کامظاہرہ کرتاہے اورحالات کو بدل دینے کیلئے کمربستہ ہوتاہے۔حالات کیساتھ سمجھوتہ کرنے کاشعار اکثر سماج کے عمررسیدہ افراد کےساتھ وابستہ ہوتاہے ۔دنیا میں عموماً جتنے انقلاب آئے اُن کے پیچھے نوجوانوں کےعزائم اوران کی بیش قیمت قربانیاں ہی کار فرمارہی ہیں ۔یہ ایک فطری بات ہے کہ عمر گذرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر حالات کیساتھ سمجھوتہ کرنے کامادہ بھی بڑھ جاتاہے اوربقول ِکَسے باز مانہ بستیز سے انسان بازمانہ بساز کے محور میںداخل ہوتاہے ۔اسے علم نفسیات میں شکست خوردہ ذہنیت سے تعبیر کیاجاتاہے ۔ہاں اگرخدا کاکوئی نیک بندہ عمر گذرنے کےساتھ ساتھ اپنے زندہ د ل کو تروتازہ رکھتاہے تویہ سراسر اللہ کی دین ہے اورایسے افراد کی ہمارے سماج میں کمی نہیں ہے ۔جب بزرگوں سے حالات کےساتھ سمجھوتہ بازی کی بات کی جاتی ہے تو وہ اسے کمزوری سمجھنے کے بجائے اپنے سفید بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے تجربے اورتدّبر کوسامنے لاتے ہیں۔طرّہ یہ ہے کہ عمر رسیدہ اوربزرگ لوگ نوجوانوں کے عزائم کو خواب ِ پریشان اوران کے جذبات کو بے ہنگم ارتعاش ِ فکر قرا ر دیتے ہیں ۔ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ نوجوان کلّی طور سنجیدہ جذبات کے حامل اورٹھوس مقاصد کے علمبردار ہوتے ہیں ۔نوجوان کبھی کبھی بہت ہی جذباتی انداز میں جلد بازی سے کام لیتاہے جو حصول ِ مقاصد میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اورپھر مطلوبہ اہداف بھی حاصل نہیں ہوتے ہیں ۔سماج کے سنجیدہ طبقات کی یہی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے جذبات کو صحیح رُخ دینے کیلئے اُن کے شانہ بشانہ آگے بڑھتے رہیں تاکہ منزل ِمقصو د کی طرف بڑھتے قدم ڈگمگانے نہ پائیں ۔اورنوجوان کی طرف سے پیش کردہ بے انتہا قربانیاں ضائع نہ ہونے پائیں ۔جب نوجوان سماج کے فرسودہ اوردقیانوسی نظام کو بدلنے کی ٹھان لیتے ہیں ،بزرگ لوگ انہیں یہ کہہ کر مایوس کردیتے ہیں کہ زمانے کےساتھ ٹکر لینے سے وہ اپنا مستقبل خراب کردیتے ہیں اوروہ خواہ مخواہ کے تکالیف سے دوچار ہوسکتے ہیں،جس کالازمی نتیجہ سماج میں بگاڑ کی شکل میں نمودار ہوتاہے اور بقول ِ اُن کے سماج میں تعمیر وترقی کے پروگراموں کو ناقابل برداشت نقصان ہوتاہے ۔تاریخ میں مردہ قوموں کا طرزفکر ہمیشہ یہی رہاہے اوریہی چیز انہیں ہمیشہ دوسروں کا دست نگر بننے کامحّرک بن جاتاہے ۔
 
کشمیر میں اس وقت جو حالات بنے ہیں اورجس تباہی سے عوام دوچار ہیں ،وہ بھی ہمارے بزرگوں کا وقتاً فوقتاً نوجوانوں کے جذبا ت سے کھلواڑ کرنے کی دین ہیں ۔ہمارے بزرگوں نے کچھ دیر عوامی جدوجہد میں بڑے دھوم دھام سے حصہ لیا مگر پھر تھوڑاآگے جاکر حالات سے سمجھوتہ کرکے یامسند ِ اقتدار سنبھالی یا گوشہ ٔ تنہائی میں سمٹ کررہ گئے ۔بھارتی قیادت نے مختلف مراحل پر چانکیائی طرز سیاست سے کام لے کر کشمیری لیڈروں کو اپنے شیشےمیں اُتارا ۔کبھی یہ گھنائونا کھیل پنڈت نہرو اورگاندھی نےکھیلا اورکبھی اندراگاندھی اورواجپائی نے کھیلا ۔ اب یہی کھیل مسٹر مودی کھیلنے کیلئے ڈور ے ڈال رہاہے۔ہمیں اس بات کاانتہائی افسوس ہے کہ کشمیری نوجوانوں کے عزائم اوران کی بے پناہ قربانیوں کو جس انداز سے بےوقعت بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں ، وہ انتہائی خطرناک ہیں ۔ہندوستانی حکومت نے کشمیری نوجوانوں پر ظلم وتشدد کاجو قہر جاری رکھا وہ نازی طاقتوں اورجرمنی فاشسٹوں کے قہر سے بھی بدتر ہے ۔ہم نے گولیوں سے چھلنی نوجوانوں کی لاشوں کو گلی کوچو ں اورسڑکوں پر گرتے اورتڑپتے دیکھا ، جوان عورتوں کی اجتماعی عصمت دری دیکھی ، بزرگوں کو قید وبند کی سنگینیوں میں تڑپتے دیکھا، رات کے اندھیروں میں ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کی بستیوں میں گُھس کر بچوں ، بوڑھوں اورعورتوں پر ڈھائے ظلم کو دیکھا، حد ِ نظر تک آگ میں جلتی بستیوں کو دیکھا، کھیتوں ، کھلیانوں اوربازاروں کو آگ کے شعلوں میں بھسم ہوتے دیکھا اوراب اپنے سینکڑوں بچوں کے گلاب جیسے چہروں پر نیلی آنکھوں میں پیلٹ فائر سےچھینی بینائی کو دیکھ رہے ہیں ۔ہماری جیتی جاگتی دُنیا کو اندھیروں میں کس نےبدلا ۔ہمیں عزت وآبرو کا خوا ب دکھانے والے ، گولی نہیں بولی کاچکمہ دینے والےپانی ،بجلی اور سڑک فراہم کرنیوالے سیاسی سوداگر، ہمارے ہی لوگ رہے جو ہندوستانی ظلم میں ساجھے دار بنے اور ہمیں سرِ راہ چھوڑ کر اپنی کوٹھیوں اوربنگلوں میں چُھپ گئے ۔ کشمیری نوجوانوں کو سماجی قدروں کا احساس نہیں ہے ،اس بات کاذکر کشمیر کے گورنر مسٹر این این ووہرا نے ابھی دو ر وز پہلے جموں کشمیر کی اسمبلی میں اپنے خطبے کے دوران کیا ۔مسٹر ووہرا ایک تجربہ کار بیوروکریٹ رہے ہیں اور فروری 2003میں حکومت ہند نے انہیں کشمیری لیڈروں کے ساتھ بات چیت کیلئےبطورثالث (Interlocutor)مقرر کیا تھا جسے حریت قائدین نے ملنے سے انکار کیا۔مسٹر ووہرا 2008سے کشمیر میں بحیثیت گورنر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس دوران کشمیر ی نوجوانوںنے 2008 ,2010اوراب 2016میں بے انتہا قربانیاں پیش کیں جن کی ہمیں اُمید ہے مسٹر ووہرا کو بخوبی احساس ہوا ۔کشمیری نوجوان ایک عظیم اورمقد س مقصد کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔اس پوری جدوجہد کے دوران یہاں کے نوجوانوں نے سماجی قدروںکا جوانتہائی شاندار مظاہرہ کیا ، وہ مسٹر ووہرا سے پوشیدہ نہیں ہے۔ابھی 2016کے سنگین حالات میں کشمیری نوجوانوں نے سماجی قدروں کی جو پاسبانی کی ، کیا گورنر صاحب وہ بھول گئے ۔ہندوستانی فوج کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی ہے اور کشمیری مسلمان نوجوان زخمی فوجیوں کو تباہ شدہ گاڑی سے بڑی جوانمردی دکھاکر بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔اوران زخمی فوجیوں کو ہسپتال پہنچاکر علاج کرواتے ہیں ،امرناتھ یاترا پر آئے ہوئے ہندو نیشنل ہائے وے پر حادثے کاشکار ہوتے ہیں ، انہیں بچانے میں مقامی نوجوان جن سماجی قدروں کامظاہرہ کرتے ہیں اس کی تصویر ٹی وی اورانٹرنیٹ پر پوری دنیا نے دیکھی ۔کشمیر میں مقیم پنڈتوں کی میتوں کی تجہیز وتکفین کون انجا م دیتے ہیں ، کشمیری پنڈتوں کی شادیوں کے موقعے پر دلہا دلہن کو سنبھالنے اور سنوارنے میں کشمیری نوجوان ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، کھیٖر بھوانی اوردوسرے مندروں میں تہوار منانے پر کیا کشمیر ی نوجوان ہر طرح کی خدمت انجام نہیں دیتے ہیں ۔کیا پورےبھارت میں اس طرح کاکوئی نظارہ دیکھنے کوملتا ہے ۔گجرات ، ہریانہ ، بہار ، یوپی ، اورکرناٹک میں ہندو نوجوانوں کے مکروہ طرز عمل سے کشمیری نوجوانوں کے اند رسماجی قدروں کا احسا س کتنا مختلف ہے ۔کیا جنا ب ووہرا صاحب اس کو بھول گئے ہیں ۔اپنے خطبے میں انہیں اس کا تذکرہ کرنا بھی اخلاقی لحاظ سےبہت ضروری تھا۔
 
 
 
 
 
اُف توبہ ! ریاستی اسمبلی کااجلاس یاہنگامہ ---- اداریہ
ریاست جموں کشمیر کی قانون سازیہ کاسرمائی اجلاس نیاسال شروع ہونے کے ساتھ ہی سرمائی دارُالخلافہ جموں میں منعقد ہوا ۔امسال یہ اجلاس جس میں عام طور پر ریاست کاسالانہ بجٹ پیش کیاجاتاہے ۔معمول کے خلاف وقت سے پہلے منعقد کیاگیا ۔اجلاس حسب روایت گورنر کے خطبے سے شروع ہوا ۔ لیکن اجلاس پر گورنر کے خطبہ کے بجائے ممبران کی نعرہ بازی اور شور شرابے کو غلبہ حاصل رہا۔نتیجتاً گورنر صاحب کواپنا خطبہ مختصر کرکے ایوان کے اجلاس سے باہر آنا پڑا ۔ایوان میں بیٹھے ممبران صرف ایک دوسرے پر فقرے کستے رہے۔شور شرابا ہوتارہا، کسی نے کسی کی نہ سُنی ۔صرف نعرے لگتے رہے ۔اوروہ بھی پنجابی دُھن پر ’’نا بھئی ناجی نابھئی نا‘‘ لگتا تھا کہ اسمبلی میں حالات کی ستم ظریفی پر رونا رونے کے بجائے بانگڑا ناچ جاری تھا ۔جن مشکلات سےکشمیری قوم گزررہی ہے ۔خاص کر سال 2016کے دوسرے چھ مہینوں میں کشمیریوں کو جو زخم لگے ،جن پاوا اور پیلٹ گنوں نے کشمیریوں کو چھلنی کیا، اُن کی دُھن پرکرم فرما ناچ رہے تھے اور بانگڑا کررہے تھے ۔جس وقت کشمیر میں یہ سب کچھ ہورہاتھا اُس وقت سوائے ایک ممبرا سمبلی کے کوئی بھی درد دل رکھنےوالا کشمیریوں کی مزاج پُرسی کونہیں گیا۔سب اس انتظار میں تھے کہ کب جموں جاکر حفاظتی حصار میں ریاستی اسمبلی کااجلاس منعقد ہوتاکہ ایوان کے ڈسک دبادبا کر پنجابی دھن میں کشمیری دکھ درد کاترانہ چھیڑ کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیاجائے۔ریاست جموں کشمیر میںجو کچھ ہوا یا ہورہاہے ۔یہ ساری صور تحال افسوسناک ہے ۔لوگ سرحدوں پر مارے جائیں یا گلی کوچوں میں ۔گھر وں کے اندر گولیوں سے چھلنی کئے جائیں یاکھیت کھلیانوں اورکھیل کے میدانوں میں ۔سنگبازی سے گھائل ہوجائیں یا پیلٹ گنوں سے چھلنی ۔اندھے ہوجائیں یا لنگڑے ۔عزت لُٹے یاعصمت ۔یہ سب کچھ نہ صرف قابل افسوس بلکہ شرمناک اور خلاف انسانیت صورت حال ہے ۔لہٰذا پوری توقع ہے کہ ایوان کے ممبران خواہ سرکاری بنچوں پربیٹھے ہوں یا غیر سرکاری بنچوں پر سب بحیثیت انسان اس دکھ درد کو محسوس کرتے ہوں گے ۔لیکن یہ درد اگر اسمبلی کے ایوان میں چلانے سے شفایاب ہوتا توپھر بہت پہلے اس کا علاج ہوا ہوتا ۔ پچھلے ستھر برسوں کے دوران دیکھنے میں آیا کہ اسمبلی میںہمیشہ اس قسم کے مسائل پر شوروہنگامہ ہوتا چلاآیا ۔حل کیلئے کبھی بھی سنجیدگی سے سوچا نہیںگیا ۔اصل میں بنیادی مسئلہ کو سمجھنے اورحل کرنے کی ضرورت ہے ۔جس کے نتیجہ میں ریاست جموں کشمیر پچھلے ستھر سال سے وقتاًفوقتاً ایسے حالات سے گزرتی چلی آرہی ہے ۔ہماری ریاستی اسمبلی کچھ ذیلی مسائل جیسے دفعہ 370۔سٹیٹ سبجیکٹ قانون وغیرہ پر بھی اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ایسے میں اسمبلی میں اس قسم کے شوروہنگامہ کو محض سیاست گری سے ہی تعبیر کیاجاسکتاہے ۔ایک آزاد ممبر اسمبلی نے بڑی جرأت کےساتھ اسمبلی کے باہر مظاہرے کے دوران رائے شماری فوراً کرائو کے بینر چڑھائے ۔دیکھتےہیںاس کی آواز میں کہاں تک دم ہے ۔اورصاحب موصوف کس حدتک اس آواز کولےکراخلاص کامظاہرہ کرتے ہیں۔ خیر گرمیٔ گفتارِ مجالس الامان ۔