اُمّت ِضعیف کے لاچار حکمران   ---- یوسف العمر
مسلم دنیا آج جس خوفناک صورت حال سے دوچار ہے ، چند سال پہلے تک اس کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتاتھا ۔عرب دنیا ، مشرق ِوسطیٰ ، افریقی اورایشیائی ممالک میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو گھاس پھوس کی طرح کُچلا جاتاہے ۔اور کہیں سے کسی صلاح الدین ایوبی یامحمدبن قاسم کی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں اورمشرک قومیں مسلمانوں کےخلاف صف آراء ہوئی ہیں۔کہیں فلسطین کی مقدّس سرزمین کو گریٹراسرائیل میں بڑی تیزی سےضم کیاجارہاہے ،کہیں کروڑوں مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیاجاتاہے اوروہ درد ر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے انتہائی ذلّت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہورہے ہیں ،کہیں صنم پرست جنونی مشرک مسلمانوں کی مسجدوں ، خانقاہوں اور امام باڑوں کو گائو خانوں اوراسطبلوں میں تبدیل کررہے ہیں اورکہیں مسلمانوں کی شریعت کو سبو تاژ کرکے انہیں غیر اسلامی اور غیر اخلاقی طرز ندگی اختیار کرنے پر مجبور کیاجاتاہے ۔مسلمانوں کی قیادت وسیادت ایک داستان ِپارینہ بنتی جارہی ہے اور ان کے حکمران خاندان اور قبیلے کو واسطہ بناکر اپنےلئے شاہانہ محلات اورعیّاشی کاسامان سجاتے ہیں۔قدرت نے جو دولت کے انبار عطا کئے تھے ،مسلمان وہ دولت شیطانی کاموںاور ظاہری نمودو نمائش پر لُٹاتے ہیں۔کہیں بُرج ِعرب اورکہیں بُرج ِخلیج کی طرح فلک بوس عمارتیں آسمان کی خوبصورتی کو بدنما کرتی ہیں ۔کہیںثمود کے پتھر تراشے جاتے ہیں اورکہیں اِرم ِعاد کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔کہیں خود مسلمان حکمران اسلامی علماءاورقائدین کوتختہ دار پر لٹکاکر انہیں میخوں سے گاڑ دیتے ہیں ،یا پھر قیدو بند کی اذیتناک صعوبتوں میں مبتلا کرکے انہیں نابود کرتے ہیں ۔چشم فلک نے زمین پر اس طرح ظلم وبربریت کاسماں شائد پہلے کبھی نہیں دیکھاہوگا۔!
 
دوسری طرف انسان ہمیشہ اخلاقی قدروں اورمادی ضرورتوں کے درمیان ایک خوشگوار تعلق قائم کرنے کی کوششوں میں سرگردان رہاہے۔انسانی زندگی میں مادی ترقی کوجب جب بھی اخلاقی قدروں کے زیر ِ نگین رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ،معاشرے میں حقیقی ترقی ہوئی اورماحول امن وآشتی سے سیراب ہوا ۔لیکن جب مادّی ترقی کاتعلق اخلاقی قدروں سے بےنیاز ہوا ، معاشرہ انتشار اورفساد کاشکار ہوا۔آج جس تیزی سے انسان مادّی ترقی کی راہ پر گامزن ہے،اخلاقی قدروں کی افادیت سے اس کا وجود اسی رفتار سے لاتعلق ہورہاہے۔نتیجتاً آج ہمارے معاشرے میں فساد اور انتشار کی فضا مکمل غلبے کی شکل اختیار کررہی ہے ۔انسانوں کے درمیان آپسی رشتوں کاتقدس غائب ہورہاہے اورصرف مادّی ترقی ہی میعار زندگی کوپیمانے عطا کررہاہے ۔فطری طور اس کا نتیجہ صرف یہ ہے کہ انسان ہر جائز اورناجائز طریقے سے اپنی مادّی ضروریات کو وسعت دے اورامن وآشتی کے سراب میں گم ہوکے رہ جائے۔آئیے ہم ایک جھلک تہذیب نو کے علمبردارامریکہ پر ڈالیں جہاں اخلاقی قدریں آخری سانسیں لے رہی ہیں اور جو دنیا کی غلیظ ترین جگہوں میں سرفہرست اول نمبر پر ہے۔
 
اس المناک اورمایوس کن صورت حال میں کافر اپنے کفر اور خدا دشمنی کاکھلم کھُلا اعلان کرتاپھرتا ہے ،لیکن مسلمان اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ دکھائی دیتاہے اور بڑی مشکل سے ا س کا اظہار کرپاتاہے۔طاغوت اورکفر کےعلمبردار اپنے افکار ،اپنی مطبوعات اوراسلام کے خلاف اپنی شدید نفرت اورتضحیک کاسرعام تشہیر کرتےہیں ،غلیظ اور گندے کارٹون شائع کرتےہیں ،لیکن مسلمان سب کے سامنے قرآن پاک کھول کر اس کی تلاوت کرنے میں بھی عار محسوس کرتاہے۔مسلمانوں پر نفسیاتی دبائو اس قدر شدید ہےکہ کسی مخالف قانون کی عدم موجودگی میں بھی کوئی انسان بلا جھجھک قرآن کریم کے حامی ہونے کااظہار نہیں کرتاہے ۔کیا ہم اس حقیقت کاانکار کرسکتےہیں؟کیا یہ دور ِحاضرکے مسلمان کی زندگی کاسب سے بڑ االمیہ نہیںہے؟کیااسلام ہمارے لئے نامانوس ہوگیا ہے ۔؟ کیاذہنی انتشار اورآپسی تنائو ہماری زندگیوں کو بُرباد نہیںکررہاہے؟کیاہم غیروں کے وفادار بن کراپنے ملکوں میں فساد اور بربریت کاسماں پیدا کرنے کیلئےاپنی صلاحیتیں اوراپنے مادی ذرائع استعمال نہیں کرتےہیں؟کیا ہم دن کے اُجالوں میں اپنی بربادی پر غم کے آنسو بہا کر رات کے اندھیروں میں شام ڈھلتے ہی کافروں اور مشرکوں سے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہوکر زندگی کی عیّاشیوں میں ڈوب نہیںجاتے ہیں؟کیاہمارا ذہنی قبلہ مکہ معظمہ سے ہٹ کر ماسکو اورواشنگٹن کی طرف نہیں پلٹا ہے ؟کیاہمارے مسلمان ملکوں کے ظالم حکمران اپنی شہنشاہی ٹھاٹھ کوبرقراررکھنے کیلئے امریکہ اور روس کو دعوت دےکر اپنے ہی لوگوں کوباروداوربم کے ڈھیروںتلے زندہ نہیں دفناتے ہیں ؟بتائو وہ کون سی بداخلاقی اوربدکرداری کی بیماریاں ہیں، جن کے زہریلے جراثیم ہمارے وجود میںنہیں پل رہے ہیں۔آپسی عناد اورنفرتوں نے ہمیںاس قدر کمزورکردیاہے کہ غیر قومیں ہمیں پانی پر تیرتی جھاگ کاڈھیر سمجھ کرجہاںسے بھی پھونک مار کر بہا لے جاناچاہیں ،بغیر کسی جھجھک کےبہا لیتے ہیں۔اگرا ٓج اسرائیلی حکمران مسجد اقصیٰ میںاذان پر پابندی لگاتے ہیں،تو ہمارے سربراہاں مملکت خاموش کیوں ہیں؟اگرکل ہندوستان میں چار سوسالہ بابری مسجد کوہندو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا تواوآئی سی سے وابستہ اٹھاون ملکوں میں سے کس نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی اورہندوستان کے ساتھ احتجاجاً اپنے سفارتی تعلقات کس نے ختم کردئے؟
 
وائے ناکامی متاع کاروان جاتارہا
 
کاروان کے دل سے احساس زیاں جاتارہا
 
ہماری موجودہ تباہی کے کئی ایک محرّک ہیں۔ایک طرف لیڈر شپ کی نااہلیت ہےا وردوسری طرف عوام میںعدم اطاعت کی فضا ہے ۔ہے کوئی ہمارا ملک یاجماعت، ادارہ یاتنظیم جہاں جذبہ اطاعت کارفرماہے؟ ارے یہ تو وہی اُمّت ہے جہاں حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ ایک اٹھارہ سالہ نوجوان حضرت اسامہؓ کوایک ایسے لشکر کاسپہ سالا ر مقرر فرماتے ہیںجس میں ابو بکر ،عمراورعلی رضی اللہ عنہم جیسے بڑے صحابہ کرام شامل تھے توسوائے دوایک افراد کے کسی نے اس پر اعتراض نہیںکیا۔صحابہ کرامؓ کےہاں جذبہ اطاعت کواس قدر اہمیت حاصل تھی کہ حضرت ابوبکرؓ نے مسلمانوں کے خلیفہ ہونے کے باوجود حضرت عمرؓکو اپنے پاس مشاورت کی غرض سے ٹھہرانے کی اجازت لینے کیلئےحضرت اسامہؓسے درخواست کی ۔چونکہ رسول ِمحترمﷺنےحضرت اسامہ ؓ کو سپہ سالار مقرر فرمایاتھااوران کی اطاعت واجب تھی ،اسلئے خلیفہ بھی اجازت مانگ رہاتھا۔عدم اطاعت سے ہمیشہ فتنوںاوربدامنی کےدروازے کُھلتے ہیں،اسی لئے آپ ﷺ نے آخردم تک اطاعت کوبہت زیادہ اہمیت دی۔کیاقرآن پاک میںاللہ تبارک وتعالیٰ نےمسلمانوں کوایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح باہمی قربت اوراتحاد کی تلقین نہیں کی تھی؟ ،کیارسول محترم ﷺ نے ہمیں ایک جسم واحدہ کی طرف زندہ رہنے کادرس نہیں دیاتھا ؟۔جہاں پائوں میں ایک معمولی کانٹا چُبھنے پر آنکھ روتی ہے ۔آج مسلمانوں کے ملک تباہ ہورہے ہیں ، لاکھوں لوگ قتل ہورہے ہیں ، ہمارے بزرگوں اوربچوں کو گولی مار دی جاتی ہے ، ہماری عورتوں کی اجتماعی عصمت دری ہورہی ہے۔،بستیوں میں اغیار کی فوج گھس کر لوٹ مار کرتی ہے ،لیکن ہم پھر بھی مسکراتے ہیں ۔جُرم ِضعیفی نے ہمیں ذِلّت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیاہے اورہمارے حکمران بیچارگی کے عالم میں عوام سے دور کوٹھیوں اوربنگلوں میں شادیانے منارہے ہیں۔
 
کیپٹل سٹی ۔سماٹ سٹی ۔بیوٹی فُل سٹی ---- اداریہ
زمستان اورچلے کلان کو چکمہ دے کر سرمائی دارالخلافہ جموں میں دھوپ سیکنے کے ایام کاٹنے کے بعد ریاستی سرکار کشمیر میںموسم بہار کی خوشگوار آب وہوا سے لطف اندوز ہونے کیلئے سرینگر آنے کی تیاریوں میں لگی ہے ۔اس سلسلہ میں انتقال دفاتر سے قبل محترمہ محبوبہ مفتی جی کی سرکار باشندگان سرینگر کو خوش کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور تحفہ کے طور پر دینے کی خواہش رکھتی ہے ۔چنانچہ ڈسٹرکٹ سرینگر کی حالیہ ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگ میں جس میں حزب اقتدار وحزب اختلاف کے ممبران قانون سازیہ کے علاوہ نرمل سنگھ جی اورمحبوبہ مفتی صاحبہ سمیت منسٹر حضرات بھی بطور بورڈ ممبران شامل تھے ۔اس میں 600کروڑ روپیہ کے کیپٹل سٹی پلان کو منظوری دی گئی ۔اس کےعلاوہ 3600کروڑ روپیہ سماٹ سٹی پروجیکٹ کومتفقہ طور پر مرکز کوبھیجنے کافیصلہ لیاگیا۔ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگوں میں عام طور پر ترقیاتی کاموں کاجائزہ لیاجاتاہے ۔میٹنگ میںہر ایک ممبر کی یہ کوشش رہتی ہے کہ پنڈنگ کاموں کے فوری تکمیل پر زوردیاجائے۔اورمختلف کاموں پر مخصوص رقومات کو Lapsنہ ہونے دیاجائے۔بہت کم ایسا ہوتاہے کہ زیر تکمیل پروجیکٹس طوالت کے شکار ہونے کے باوجود نئے پروجیکٹس کی بات کی جائے۔کیپٹل سٹی ۔سمارٹ سٹی کے حوالے سے جوبھی بات کہی جائے اُس سے کس باشعور شہری کواختلاف ہوسکتاہے ۔لیکن زمینی صورت حال یہ بتاتی ہے کہ جوکام سرینگر ضلع کے ڈیولپمنٹ پلان میں رکھے گئے ہیں یا جو کام ضلع ترقیاتی پلان سے باہر سکیموں کے تحت ہاتھ میں لئے گئے ہیںوہ معیار مقررہ گزرنے کے باوجود بھی ہنوز تکمیل طلب ہیں ۔محترم وزیراعلیٰ صاحبہ نے میٹنگ میں سرینگر کی خوبصورتی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈل ، ژونٹھ کول ،سونر کول اوردیگر آبی گذرگاہوں کی عظمت ِ رفتہ کوبحال کرنے کی ضرورت ہے ۔کیا یہ کوئی نئی بات ہے جوکسی وزیر اعلیٰ یاکسی سرکار نے کہی ۔ڈل سے تجاوزات ہٹانے اورڈل کو خوبصورت بنانے کیلئے لاوڈا بہت عرصہ سے کام پر لگاہواہے ۔اسی طرح آبی گذرگاہوں مثلا ً براری نمبل ، ژونٹھ کول ، سونر کول وغیرہ کواپنی اصل حالت پر واپس لانے کیلئے ہمیشہ باتیں ہوتی رہیں۔لیکن کبھی کسی بات پر عمل نہیں ہوا ۔ان منصوبوں کیلئے فنڈس رکھے گئے لیکن کام صفر کے برابر ہوا۔ ائرپورٹ روڈ پر امیراکدل ،رام باغ فلائی اوور کی تعمیر عرصہ دراز سےجاری ہے۔اس فلائی اوور کی تعمیر سے سرینگر میں ٹریفک کانظام بالکل درہم برہم ہواہے۔اوربڑی گاڑیوں کو تنگ گلیوں سے گزر ناپڑتاہے۔جس سے عوام زبردست پریشانی میںمبتلا ہیں۔کیاکسی نے اس کے فوری تکمیل کی بات کی ۔سرینگر سٹی کے مفصلات میں پارمپورہ نارہ بل روڈ جوکہ اب میونسپل کارپوریشن کے حدود میں آتاہے۔عرصہ قریباً 15سال سے توسیع کے نام پر تکمیل طلب ہے۔اس دوران جموں کے علاقے میںفلائی اوورس کی تعمیر کےساتھ ساتھ سڑکوں کی کشادگی کاجوکام ہوا وہ قابل رشک ہے ۔لیکن پارمپورہ سے نارہ بل تک سڑک کو ابھی 6لائن نہیںبنایاجاسکا ۔حالانکہ سیاحتی اعتبار سے یہ سڑک ا نتہائی اہمیت کی حامل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سرینگر سماٹ سٹی بنے یاکیپٹل سٹی اس کو قدرت نے بیوٹی فُل سٹی بنایاتھا ۔لیکن اس کی خوبصورتی کو بڑھاوا دینے کے بجائے ہمیشہ سے سرکاریں اس کو گٹھاتی چلی آئیں ۔اورجہاں جہاں خوبصورتی کے نام پر قدرتی حسن کو بگاڑ کر بناوٹی رنگ چڑھایاگیا وہاں بناوٹ کے رکھ رکھائو کیلئے بھاری داخلہ فیس مقرر کرکے صرف عیاش طبقہ کووہاں تک رسائی کاموقعہ فراہم کیاگیا ۔اورغریب طبقہ دیواروں سے نظریں ٹکراکر دل کو تسکین پہنچانے پر مجبور کیاگیا ۔جہاں تک سرینگر کی تاریخی حیثیت کاتعلق ہے ۔یہاں کے تاریخی مقامات کے رکھ رکھائوکی بدحالی سے کون واقف نہیں۔آج تک سرمایہ فراہم کرکے بھی جوکچھ نہ کیاگیا آج صرف سوچنے سے کتنا بڑا کمال کیاجائےگا۔سرینگر کامیوزیم 50اور60کی دہائیوں تک جوبن پرتھا۔اُس کے بعد یہاں کی آرٹ اورکلچر ل اکاڈمی نے جو حالت یہاں کے بالخصوص کشمیری تہذیب وتمدن کی بنائی وہی حالت آرٹ گیلری اورتاریخی عجائب گھر کی بھی دیکھی جاتی ہے۔ضرورت ہے کہ سرینگر کے بارے میں سماٹ سٹی کا خواب دیکھنے سے قبل یہاں کی گلی کوچوں ، گندے پانی کے نکاس اوربے جا تجاوزات کی طرف توجہ مرکوز کی جائے۔یہاں کے فٹپاتھوںپر عوام کوچلنے کاحق واگذار کیاجائے۔یہاں کی شاہرائوں پر سے چھاپڑی فروشوںکو اُٹھاکر اُن کےلئے موزوں متبادل کاانتظام کیاجائےوغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔دل کوبہلانے کےخیالات سنانے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔