اُم ّالخبائث کے طرفدار عالمی فساد کے علمبردار ---- یوسف العمر
چند روز قبل ریاستِ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیرِ مالیات نے شراب پر پابندی کے خلاف بولتے ہوئے اپنی تقریر میں شراب نوشی کے جواز میں انتہائی نا معقول دلیل پیش کی کہ شراب کا استعمال شخصی پسند کا معاملہ ہے اور اس پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر اس طرح کی دلیل کے تناظر میں سماج میں جائز اور ناجائز کا فیصلہ انفرادی پسند پر چھوڑ دیا جائے تو پھر آئین اور قانون کی ضرورت ہی کہاں رہی؟ خود اُس ایوان ہی کی پھر کیا ضرورت ہے جس میں یہ بات کہی گئی؟قانون ساز اسمبلی تو قانون بناتی ہے تاکہ انسان کا انفرادی وقار اور سماج کی مجموعی حیثیت میں ایک صحت مند توازن قائم ہوسکے۔ ہر اُس انفرادی عمل پر پابندی کے لئے قانون وضع کیا جاتا ہے جس عمل سے سماج میں بگاڑ پیدا ہونے کا احتمال ہو۔ دنیا کے ہر مذہب اور ہر آئین کے سامنے یہی مقصد رہا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور اپنی قوت کو سماج میں مثبت انداز سے کام میں لائے اور ترقی کے مختلف مدار ج سے گزر کر ایک روشن اور خوشگوار مستقبل کی طرف آگے بڑھے، جہاں کہیں انسان کی فکر میں یا اس کے عمل میں بگاڑ پیدا ہو اُسے قانون کے دائرے میں رکھ کر اس کی تصحیح کرے۔ انسانی سماج روزِ اول سے ہی اسی راہِ عمل کو اپناتا رہا ہے اور سماج سے بگاڑ کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
 
شراب ایک ایسی چیز ہے جسے ہر مذہب اور ہر آئین نے انسانی وقار کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ یہ انسانی ذہن کو بیمار کردیتا ہے۔ ایک شرابی اپنے گھر اور سماج کے لئے ناسور بن کر انہیں ذلیل اور برباد کرتا ہے۔ شراب نوشی سے کتنے گھر اجڑ گئے، کتنی زندگیاں تباہ ہوئیں، کتنے رشتے ٹوٹ گئے اور کتنی ہی نسلیں تباہ ہوئیں، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے! اگر اس مذموم شئے کو انسان آج تک ختم نہیں کرسکا تو یہ انسان کی اپنی کمزوری اور نا اہلی ہے۔ جس چیز کو حیوان بھی پینے سے گریز کرتا ہے اسی چیز کو آج کا ’ترقی یافتہ‘ انسان اپنی محفلوں میں بڑے شوق سے نوش فرماتا ہے اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کے نشے میں آکر ایک انسان اپنے تمام مقدس رشتوں کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اس کی لَت پڑ کر وہ ذہنی مریض ہوجاتا ہے، اس کے عادات اور اطوار غیر شائستگی میں ڈھل جاتے ہیں، وہ کمزور ، کاہل اور بزدل بن جاتا ہے۔ یہ چیز اصلاً خبیث ہےاور اس کے استعمال سے انسانی خصلت پر شیطان قبضہ جمادیتا ہے۔ اسی لئے شراب کو اُمّ الخبائث قرار دیا گیا ہے۔
 
آج کے مادّی دور کی سب سے بڑی خرابی مادّہ پرستی ہے۔ انسان دنیاوی ترقی اور جاہ و نمود کے لئے حلال اور حرام کے فرق میں دلچسپی کھو بیٹھا ہے۔ وہ اپنے نفس کا غلام بن چکا ہے۔ اس کی بے پناہ صلاحیتیں نفسِ امّارہ کی گرفت میں آگئی ہیں۔ انسان اسی غلامی میں لہو و لعب اور لطف ولذت کی نئی نئی نشاط گاہیں تلاش کرتا ہے۔ اس نے اپنے ایٹم بم ، میزائل، ہوائی بمبار، بڑے بڑے بحری بیڑے ، زہریلے کیمیائی گیس کے ذخیرے اور نیوکلیائی ہتھیار اسی نفس امّارہ کے حوالے کئے ہیں۔ وہ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسی نفسانی دیو کو تربیت دے رہا ہے۔ اس نے کلب، کیفے اور فلمستان اسی لئے سجائے ہیں۔ وہ موسیقی ، آرٹ اور کلچر کی رنگین فضاؤں میں اسی نفس کے بھیڑیے کو موٹا اور فربہ کررہا ہے۔ انسان آج اتنی پستیوں میں گِر گیا ہے کہ اُسے نہ انسانیت کا ہوش ہے اور نہ ہی کسی اخلاقی قدر کو وہ پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ گھروں سے لے کر ملکوں تک جو نفرت اور انتشار کی فضا پروان چڑھ رہی ہے اس کے پیچھے بھی یہی نفس امّارہ کا دیو پھونک مار رہا ہے۔ مادّی وسائل کی فراوانی، ذرائع مواسلات کی برق رفتاری، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے انتہا ترقی اور خود انسان کی صلاحیتوں میں بے پناہ وسعت نے انسان کو عالمگیر تباہی کے قریب پہنچادیا ہے۔ آخر موسموں کی تبدیلی، اوزون لیئر (Ozone Layer) میں خطرناک شگاف ، پگھلتے گلیشیر اور سمندروں کا ابھار کیا یونہی معرضِ وجود میں آرہا ہے؟ اس تمام تباہی کی بنیاد خالقِ کائنات کی طرف سے مقرر کئے گئے حلال و حرام کے حدود میں رخنہ ڈالنے سے ہورہا ہے۔ شراب انسان کی اسی بے حسی کو فروغ دے رہا ہے۔ کاش ہمیں اس کا شعور نصیب ہوتا!
 
 
جمعۃ الوداع ۔یوم القدس ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام ناگزیر ---- اداریہ
فلسطینی ریاست کاقیام ناگزیر ماہ ِ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو فلسطینی عوام کےساتھ یک جہتی اور’القدس الشّریف‘ کی بازیابی کےلئے ’’یوم القدس ‘‘ کے طورمنایا جارہاہے۔تاکہ عالمی برادری کی توجہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اوربیت المقدس کی بازیابی کےلئےمبذول کرائی جائے۔۲۰۱۴کے بعد اسرائیل اورفلسطین کےدرمیان مذاکرات مکمل طور روک دئے گئےہیں۔اس دوران غزہ میں اسرائیل نے بمباری اورمارٹر گولوں سے فلسطینیوں پر تشدد اور مظالم ڈھائے اور ہزاروں فلسطینی شہید کردئےگئے۔غزہ کی بستیوں میںمتعدد اقتصادی اورتجارتی پابندیاں عائد کرکے فلسطینی عوام کی مشکلات میںبے پناہ اضافہ کردیاگیا ۔حالانکہ گذشتہ ایک سال میں تشدد کی کاروائیاں کم ضرور ہوئی ہیں۔مگر ظلم وبربریت کی داستان برابردُہرائی جارہی ہے۔فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں برابر تعمیر کی جارہی ہیں۔اوراسرائیل نے فلسطین کےساتھ مذاکرات کے دروازے برابر بند کردئے ہیں۔
 
2014میں امریکہ نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں اپنی کوششوں کو بالکل ترک کردیا۔حالانکہ صدر اوباما نے اپنے دور ِ اقتدار میں اس دیرینہ تنازعہ کوحل کرنے کیلئے ایک اہم رول ادا کرنے کی بات کہی تھی ۔اوراس کےلئے دونوں فریقوں کو آمادہ کرنے کیلئے اپنے اثرورسوخ کااستعمال بھی شروع کیاتھا۔بعد میںامریکہ دوسرے عالمی تنازعات اوربحرانوں میں گھیرےجانےکی وجہ سے فلسطین کے مسلے کوحل کرنے کی کوششوں سے بالکل ہی دست بردار ہوتا نظر آگیا ۔ہر چند کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوکےساتھ امریکی صدر کے تعلقات کشیدہ بھی ہوئے۔ا سکے باوجود انہوںنے ہرسطح پر اورہر فورم میں اسرائیل کی حمایت کوجاری رکھااورفلسطین کی آزاد ریاست کےقیام کوایک حقیقت بنانے کے عمل میں کسی بھی دلچسپی کامظاہرہ نہیں کیا۔ امریکہ کی عدم دلچسپی کے بعد فرانس نے جون 2016کے پہلے ہفتے میں پیرس میںایک عالمی کانفرنس کاانعقاد کیا۔جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کےعلاوہ 26ملکوں کے نمائندوں اور سفیروں نے شرکت کی ۔ا س کانفرنس کامقصد یہ تھاکہ فلسطینی اوراسرائیلی رہنمائوں کودوبارہ مذاکرات کی میز پر لایاجائے تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کاقیام جلد ازجلد ممکن ہوجائے۔فرانس نے تجویز رکھی ہے کہ علاقے میںدوریاستوں اسرائیل اورفلسطین کے قیام سے دیرپا امن ہوسکتاہے۔اوریروشلم دونوں ریاستوں کی مشترکہ راجدھانی بن سکتاہے ۔عرب ممالک، سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبر ممالک اوریورپی یونین پر مشتمل ایک رابطہ گروپ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عمل کی نگرانی کرےگا۔پیرس کانفرنس کے اختتام پر اس بات سے اتفاق کیاگیا کہ اس سال کے اختتام تک ایک اوربین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائےگی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسطین اوراسرائیل کاکوئی بھی نمائندہ اس کانفرنس میں شریک نہ ہوا۔فلسطین کےکئی رہنمائوںنےاگرچہ اس کانفرنس کاخیرمقدم کیاہے۔البتہ اسرائیل نے ایسی کسی بھی کانفرنس کے انعقاد کو بلا ضرورت قرار دیاہے۔
 
فلسطین کی ایک آزاد ریاست کاقیام ایک تاریخی حقیقت ہے ۔جس سے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔67سالہ جدوجہد کےنتیجے میں فلسطین کے بہادر عوام اپنی منزل کے قریب پہنچ گئے ہیں اورعالمی برادری ان کے اس مطالبے کی حمایت میں زورو شورسے شامل ہے۔البتہ اسرائیل پر دبائو کومزید سخت بنانے کی ضرورت ہے ۔حالانکہ امریکہ اوردیگرمغربی طاقتیںبرابراسرائیل کادفاع کرتی نظرآئی ہیں۔اب وقت آگیاہے کہ فلسطین کے بنیادی حق اوردیرینہ مطالبے کوتسلیم کرتے ہوئے ایک آزادریاست کےلئے فضاکوہموار کیاجائے۔اس سے عالم امن اور استحکام کومزید تقویت حاصل ہوجائےگی۔