لیلائے اقتدار کے عشق میں   ---- یوسف العمر
حکومت ِہندوستان کی طرف سے سپریم کورٹ اور اس سے باہر یہ اعلان سامنے آیاہے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں وہ صرف انہی جماعتوں کےساتھ بات کریں گے جو حکومت ہند کی تسلیم شدہ جماعتیںہیں۔یہ بات توبڑی اچھی ہے اورجموں کشمیر میںہند نواز جماعتوں کو فوراً اُس پر لبیک کہناچاہیے اوراس سے پہلے کہ حالات مزیدقابو سےباہر ہوجائیں ، انہیں یہ سنہری موقعہ نہیں کھونا چاہیے ۔اگرہندوستان کی وفادار جماعتوں کو یہ پیش کش کی گئی ہے کہ فوراً دہلی آکر مسئلہ کشمیر پر بات کریں ،ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس پیش کش کو کیوں سنجیدگی سے نہیں لےرہی ہیں۔اور خواہ مخواہ اُن کے قائدین سرینگر اورجموں میں بیٹھ کر ’’حریت کانفرنس ‘‘ کوبات چیت میں شامل کرنے کی دہائی دیتے ہیں ۔کیااس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ نئی دہلی نے انہیں پچھلے ستھر سال سے کشمیر میں حکومت کرنے کیلئے جو کام سونپ دیا تھاوہ اُسے اب انجام دینے کی پوزیشن میںنہیں رہے ہیں اورانہیں لازمی طور حریت کی بیساکھیوں کی ضرورت آن پڑی ہے۔بیسویں صدی کی تیسویں دہائی سے ہی ہندوستان نے کشمیر میں اپنے قدم جمانے کیلئے پہلے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو اپنے دام ِفریب میںاُتار ااوراس کے بعد یہ سلسلہ آج تک جاری رہا۔تقریباً پچھلے نوے سال سے ہندوستان کشمیر میں یہ کھیل کھیلتا رہاہے اورجب یہاں کےحالات بےقابو ہونے لگتے ہیں ،ہندوستان اپنے وفاداروں کو آواز دے کر نجات کی راہ تلاش کرنے لگتاہے ۔آج ہندنواز سیاسی لیڈر کشمیر میں اپنےلئےجگہ کی تنگی محسوس کرتے ہیں اور اس لئے مظلوم کشمیریوں کو دہلی دربار کےسامنے فریادی بن کرلےجاناچاہتے ہیں تاکہ وہ اپنےلئےمناسب دانہ پانی کاسلسلہ جار ی رکھ سکیں۔سمجھ میںنہیں آتا کہ ہندنواز سیاسی لیڈر کس مٹی کےمادھو ہیں کہ کبھی ہندوستانی حکومت انہیں پارلیمنٹ کے طاقوں میں سجا کر رکھتی ہے اورکبھی لات مارکرباہر سڑکوں اورگلیوں میںدربدر پھرنے کیلئے بے آسرا چھوڑ دیتی ہے۔
 
ہم کشمیر کی تاریخ میں اس شرمناک پہلو کی طرف بہت پیچھے نہیں جائیں گے کیونکہ بہت سارےسیاسی لیڈراپنا پاندان سنبھال کر اس دنیا سے اب رخصت ہوچکےہیںاورا ٓخرت کی پیشی میں حاضر ہونے کیلئے اپنی اپنی قبروں میںمحوِ انتظار ہیں۔حسرت تویہ ہےکہ جب جب بھی کشمیری عوام اپنےبنیادی حق خودارادیت کیلئے متحد ہوکر اُٹھ کھڑےہوئے ،عین اسی موقعہ پر مفاد پرست عناصر آگے آئے اورساری قربانیوں پرپانی پھیر دیا ۔پچھلی صدی کی نوے کی دہائی میںجب ہزاروں قربانیوں کے بعد حق ِ خود ارادیت کی منزل بہت قریب آگئی،نیشنل کانفرنس کی قیادت نے 1996کے نام نہاد الیکشن میںحصہ لےکر لیلائے اقتدار کو گلے لگایااوراین ڈی اے کی حکومت میںشرکت کی اورآٹونامی کاریزولیوشن کشمیراسمبلی میںپاس کراکے نئی دہلی کی حکومت کوپیش کیا۔حکومت ہند نے انتہائی ہتک آمیز انداز میں آٹونامی کے ریزولیوشن کوردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔نیشنل کانفرنس کی حکومت نے کرسی کی خاطر اس ذلت آمیزسلوک کوخاموشی سے برداشت کیااور مسند ِ اقتدار پر جمے رہے ۔پھر چند سال کے اندرہی نئی دہلی نے نیشنل کانفرنس کے مد ِ مقابل کشمیرمیں ایک نئی سیاسی پارٹی پی ڈی پی کے نام سے شروع کی اور 2002ء کےالیکشن میںپی ڈی پی کی حکومت کو اقتدار سونپ دیا۔تین سال کے بعد ہی نئی دہلی نے کشمیر میں ایسے حالات پید اکئے کہ پی ڈی پی کی جگہ کشمیر میں کانگریس نے حکومت سنبھالی اورپھر اُسے بھی انتہائی بے آبرو انداز میں خاک چاٹنے کیلئے سڑک پر چھوڑ دیا ۔اس کے چند سال بعد 2015میںپی ڈی پی نے بی جے پی سے مل کر جموںکشمیر میںحکومت سنبھالی اورعوام کے سامنے حکومت کاایجنڈا آف الائنس رکھ دیا ۔چونکہ ان دونوں پارٹیوں کے نظریات میںشما ل وجنوب کابُعد تھا ، ان کی باہمی قربت ہمیشہ ایک معمہ بنی رہی ۔ان دونوں پارٹیوں کے درمیان اعتماد کاایسا فقدان موجود رہا کہ آج تک وہ ایجنڈا آف الائنس کی ایک شِق پر بھی عمل نہ کرسکے۔وہ ایجنڈا ایک دوسال کے اندر ہی اتنا بوسیدہ ہوگیا کہ اب یہ دونوں پارٹیاں اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتی ہیں ۔پچھلے دوڈھائی سال کے دوران نئی دہلی نے کشمیر میں پی ڈی پی کے زیر قیادت حکومت کواتناکمزور بنادیا کہ حکم ِنواب تادر ِنواب کامقولہ بھی شرمسار ہے اورپورانظام ِ حکومت بے سروپا ہوکے رہ گیا ہے۔
 
اس المناک اورمایوس کن صورت حال میں کافر اپنے کفر اور خدا دشمنی کاکھلم کھُلا اعلان کرتاپھرتا ہے ،لیکن مسلمان اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ دکھائی دیتاہے اور بڑی مشکل سے ا س کا اظہار کرپاتاہے۔طاغوت اورکفر کےعلمبردار اپنے افکار ،اپنی مطبوعات اوراسلام کے خلاف اپنی شدید نفرت اورتضحیک کاسرعام تشہیر کرتےہیں ،غلیظ اور گندے کارٹون شائع کرتےہیں ،لیکن مسلمان سب کے سامنے قرآن پاک کھول کر اس کی تلاوت کرنے میں بھی عار محسوس کرتاہے۔مسلمانوں پر نفسیاتی دبائو اس قدر شدید ہےکہ کسی مخالف قانون کی عدم موجودگی میں بھی کوئی انسان بلا جھجھک قرآن کریم کے حامی ہونے کااظہار نہیں کرتاہے ۔کیا ہم اس حقیقت کاانکار کرسکتےہیں؟کیا یہ دور ِحاضرکے مسلمان کی زندگی کاسب سے بڑ االمیہ نہیںہے؟کیااسلام ہمارے لئے نامانوس ہوگیا ہے ۔؟ کیاذہنی انتشار اورآپسی تنائو ہماری زندگیوں کو بُرباد نہیںکررہاہے؟کیاہم غیروں کے وفادار بن کراپنے ملکوں میں فساد اور بربریت کاسماں پیدا کرنے کیلئےاپنی صلاحیتیں اوراپنے مادی ذرائع استعمال نہیں کرتےہیں؟کیا ہم دن کے اُجالوں میں اپنی بربادی پر غم کے آنسو بہا کر رات کے اندھیروں میں شام ڈھلتے ہی کافروں اور مشرکوں سے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہوکر زندگی کی عیّاشیوں میں ڈوب نہیںجاتے ہیں؟کیاہمارا ذہنی قبلہ مکہ معظمہ سے ہٹ کر ماسکو اورواشنگٹن کی طرف نہیں پلٹا ہے ؟کیاہمارے مسلمان ملکوں کے ظالم حکمران اپنی شہنشاہی ٹھاٹھ کوبرقراررکھنے کیلئے امریکہ اور روس کو دعوت دےکر اپنے ہی لوگوں کوباروداوربم کے ڈھیروںتلے زندہ نہیں دفناتے ہیں ؟بتائو وہ کون سی بداخلاقی اوربدکرداری کی بیماریاں ہیں، جن کے زہریلے جراثیم ہمارے وجود میںنہیں پل رہے ہیں۔آپسی عناد اورنفرتوں نے ہمیںاس قدر کمزورکردیاہے کہ غیر قومیں ہمیں پانی پر تیرتی جھاگ کاڈھیر سمجھ کرجہاںسے بھی پھونک مار کر بہا لے جاناچاہیں ،بغیر کسی جھجھک کےبہا لیتے ہیں۔اگرا ٓج اسرائیلی حکمران مسجد اقصیٰ میںاذان پر پابندی لگاتے ہیں،تو ہمارے سربراہاں مملکت خاموش کیوں ہیں؟اگرکل ہندوستان میں چار سوسالہ بابری مسجد کوہندو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا تواوآئی سی سے وابستہ اٹھاون ملکوں میں سے کس نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی اورہندوستان کے ساتھ احتجاجاً اپنے سفارتی تعلقات کس نے ختم کردئے؟
 
کی تحریک انتفادہ (Intifada)میں حق خود ارادیت کےلئے کشمیری عوام نے صبر واستقلال کی نئی بلندیاں سرکیں اوردنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ مسلسل چھ مہینے کے ہڑتال اورکرفیو میںکشمیریوں نے اپنے سوکے قریب بچوں اورنوجوانوں کو آزادی کی بھینٹ چڑھایا ،بارہ سو نوجوانوں نے اپنی آنکھوں کی بینائی نذر کی، پندرہ ہزار کے قریب زخمی ہسپتالوں میںاپنے گہرے زخموں اورٹوٹی ہڈیوں کاعلاج کرانے کیلئے تڑپتے رہے ۔ہزاروں جوان اوربزرگ جیل کی زینت بنے ، سینکڑوں گھر لُٹ گئے ،لاتعداد کھیت اور کھلیان ویران کردئے گئے ،کاروبار تباہ ہوا، سکول اور کالج بند ہوئے ، مسجدوں پر تالے چڑھائے گئے اورہرگھر ایک ماتم کدہ بن گیا۔سب سے بڑھ کر اس انتفادہ نے کشمیریوںکوہر طرح کی جانی اور مالی قربانی دینے کیلئے بے خوف بنادیا ۔ہندوستان نواز جماعتوں کیلئے اب عوام کو دکھانے کیلئےکچھ بھی نہیں رہا۔آٹونامی اورسیلف رول جیسے نعروں سے عوام کو اب کچھ بھی دلچسپی نہیں ہے۔حدیہ ہے کہ جموںکشمیر کی چیف منسٹر صاحبہ کی اس حدتک تحقیر کی گئی کہ 2016میں جب کشمیر انتہائی نازک صورت حال سے گذر رہاتھا، پرائم منسٹر مودی جی نے اُسے دہلی میں ملاقات تک نہیںدی ، محترمہ مفتی صاحبہ نے افسپا میں نرمی کرنے کی استدعاکی، اُسے ٹھکرا دیاگیا،پیلٹ گن کواستعمال نہ کرنے کی اپیل کی ، اسے مسترد کردیاگیا ،پاکستان اورحریت کانفرنس کےساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت شروع کرنے کابار بار مشورہ دیا،اُسے نکارا گیا ۔غرض پی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان دوریاں اتنی بڑھ گئیں کہ محض اقتدارمیںرہنے کیلئےپی ڈی پی ہرڈانٹ اور پھٹکار خاموشی سے برداشت کرتی رہی ۔ہندوستان نواز اپوزیشن پارٹیاں کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کیلئے دبائو بڑھا رہی ہیں۔جوحالات کوزیادہ ہی مخدوش بنائے گا ۔اگرکشمیر میں آج کل کے حالات میںگورنر راج نافذ ہوتاہے ،موجودہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے ۔اس طرح کے کسی بھی اقدام سے پہلے نئی دہلی کومسئلہ کشمیر کو ایڈریس کرنے کالائحہ عمل پیش کرناہوگااوراگر اس میںمزیددیر ہوتی ہے توبہت ممکن ہے کہ دنیا کے اس خطے میںتباہی اوربربادی کاخطرناک سلسلہ شروع ہوسکتاہےجس کی سراسر ذمہ داری بہت حد تک حکومت ہند پر ہوگی۔کشمیرمیںہند نوازسیاسی جماعتوں کونئی دہلی کے سامنے صرف اورصرف یہی ایجنڈا رکھنا ہوگا ۔اگر وہ تاریخ کے موجودہ ناز ک موڑ پر کسی طرح کا ایک مثبت رول ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔اس کے برعکس اگرہند نواز سیاسی قیادت محض لیلائے اقتدار کو پھر ایک بار گلے لگانے کے لئے درپردہ سازشیں کرنے لگے تو یہ طریقہ کارانہیںبہت مہنگا پڑسکتاہے۔
 
عدلیہ سے راحت کاانتظار ---- اداریہ
جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ سال ریاستی ہائی کورٹ میں پیلٹ گن کے استعمال کو روکنے کیلئے ایک اپیل دائر کی تھی۔ ریاستی ہائی کورٹ نے پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے سے صاف انکار کردیاتھا ۔بعد میں بار کے وکلا ء نے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں شنوائی کیلئےپیش کیا۔اورکئی بار اس معاملےسے متعلق مختلف پہلو زیر بحث آئے ۔سپریم کورٹ نےپیلٹ گنوں سے ہونے والی ہلاکتوں اوربصارت کی محرومیوں پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے دلی سرکار سے پیلٹ گن کامتبادل تلاش کرنے کیلئے کہاتھا ۔28اپریل 2017کواس معاملے کی دوبارہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کےسہ رکنی بینچ ، جس کی نگرانی چیف جسٹس مسٹر کھیر کررہے تھے،نے فریقین کو معاملے کی نزاکت کااحساس دلاتے ہوئے حالات کوسازگار بنانے کی سمت میں موثر اقدامات کرنے کی اپیل کی اورکہا کہ بات چیت اختیار کرنے کے سوا اورکوئی راستہ نہیں ہوسکتا ۔بار ایسوسی ایشن نے کشمیر کےسیاسی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے اس کو اور اس سےمنسلک دوسرے امو رکو سیاسی طورپر حل کرنےکیلئےبات چیت کے عمل کو شروع کرنے کی پُر زور وکالت کی اوردلی حکومت کو اس ضمن میں پہل کرنے کی استدعا کی،لیکن حکومت ہند کے نمائندے مسٹر روہتگی نےعلیحدگی پسندوں اورآزادی کامطالبہ کرنےوالے کسی بھی شخص یا تنظیم کےساتھ مذاکرات کے کسی بھی امکان کو سختی سے رد کردیا ۔
 
کشمیر سے اُٹھنے والی آوازیں اوربلند ہونے والے مطالبے ہندوستان کےلئے صدا بصحرا ثابت ہوتےآئےہیں۔اورہندوستان کے لیڈروں کیلئے ان آوازوںاورمطالبوں کی کوئی اہمیت نہیں ہےاورنہ ہی ان میں کوئی پیغام ہے۔بھارت کی موجودہ حکومت کشمیر کے حوالے سے کسی بھی سیاسی پہل کے حق میں نظر نہیں آرہےہیں۔کشمیر کےحالات کوخرا ب کرنے اورابتر بنانے کی ذمہ داری براہ ِ راست مرکزی اورریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔محض طاقت اورجبر کے بل بوتے پرسوا کروڑ عوام کو بنیادی حق سے محروم نہیںکیاجاسکتا ۔ہندوستان دنیا کے سامنے کئے گئے اپنے تاریخی وعدے سے منحرف نہیں ہوسکتا۔آزادی کے حق میں بلند ہونیوالی کشمیرکی آوازیں عالمی برادری کوجھنجھوڑرہی ہے۔اوراطراف واکناف سے اس مسئلے کوحل کرنے کیلئے آوازیں زورپکڑ رہی ہیں ۔بھارتی عدلیہ بہرحال ملکی قوانین اورملکی مفادات کاپاس ولحاظ رکھنے کی مکلّف ہے۔لیکن بھارت نے بحیثیت ایک ذمہ دار اور پروقار آزاد مملکت کی حیثیت سے جوآئینی اورقانونی وعدے عوام اور ریاستوں کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ کئے ہیں۔اُن کی پابندی کرنے کیلئے بھی جمہوری انتظامیہ کو آئین وقانون کی پاسدار عدالت مکلّف بناسکتی ہے تاکہ ملک انسانی حقوق کی پاسداری کے اعتبار سے اقوام عالم میںنیک نامی کماسکے۔بھارتی حکومت ریاست جموں کشمیرکو ہندوستان کااٹوٹ انگ کہتی ہے اورریاستی عوام کو اپنی عوام تصور کرتے ہیں ۔لیکن عوامی مطالبات اوراحتجاجوں سے نمٹنے کیلئے دوہرا میعار استعمال کرنے پر بھارتی عدلیہ از خود (Somoto)کاروائی کرکے بھی حکومت کو انصاف پر مبنی اقدامات اُٹھانے پر آمادہ کرسکتی ہے۔برعکس اس کے عدلیہ کی دبے انداز میں کاروائی سے ایسا لگتاہے کہ حکومت کو اپنے ہی عوام پر مہلک ہتھیار استعمال کرنے کیلئےچھوٹ مل رہی ہے۔عوام منتظرہیں کہ کیا بھارتی عدلیہ سے اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج پر کچھ راحت مل سکتی ہے۔