’آپ بھی کرگسوں میں شامل ہو----------- یوسف العمر
فروری ۱۹۷۹ءمیںعلامہ آیت اللہ روح اللہ خمینی مرحوم کی ولولہ انگیز قیادت میں دنیا نے ایک نئے انقلاب کی شروعات مملکت ایران سے ظاہر ہوتے دیکھ لی۔ خدا بیزار استعماری قوتوں نے اس طرح کے انقلاب کا پہلی بار مشاہدہ کیا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ شہنشاہیت کا غرور خاک میں ملا دیا گیا۔ لاشرقیہ ولا غربیہ اور مرگ بر امریکہ کا نعرہ دے کر دنیائے اسلام ایک نئی دہلیز پر کھڑی ہوگئی۔ لاکھوں مسلم نوجوانوں نے ایرانی اسلامی انقلاب میں ایک نئے اور روشن مستقبل میں سانس لینے کے خواب کا پرتو دیکھا۔ آرزوئیں امیدوں میں بدلنے لگیں اور سینکڑوں سالوں سے رُکے اور درماندہ کاروانوں کو منزل کا سراغ ملنے لگا۔ علامہ امام خمینی مرحوم کی روشن خیالی، قراٰن و سنت پر غیر متزلزل یقین اور وحدتِ اسلامی کے گہرے شعورپر اعتماد نے ایک نئے روحانی بادِ نسیم کے جھونکوں سے فضائے دنیا کو سرشار کردیا۔ کیا مشرق کیا مغرب اور کیا شمال کیا جنوب! دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کونے کونے سے توحیدِ ربانی اور وحدتِ آدم کی آوازیں گونجنے لگیں۔ خاموش فضاؤں ، جن کے اندر مادیت کی کثیف غلاظتوں نے اپنے رنگین آشیانے بنائے تھے، میں ایک ارتعاش پیدا ہوا۔ دنیا میں دبی اور بے زبان قوموں کے اندر خود اعتمادی کا ایک نیا ولولہ پیدا ہونے لگا۔ ایران واقعی نئے دور کا ’جنیوا‘ بن رہا تھا اور ہر نظر وہیں پر ٹکتی تھی اور ہر راستہ وہیں کی طرف جارہا تھا۔
 
دنیا کی تمام استعماری طاقتوں نے، جس کی سربراہی امریکا کررہا تھا، مملکتِ اسلامیٔ ایران کے خلاف سازشیں کیں۔ عراق میں دورِ جدید کے نمرود یعنی صدام حسین نے امریکہ کی شہہ پر ایران پر حملہ کیا اور آٹھ نو سال تک دونوں ملکوں کے درمیان خونریز جنگ میںلاکھوں انسان مارے گئے، بستیاں اجڑ گئیں، معیشت تباہ ہوئی اور اسلامی انقلاب کا چراغ ٹمٹمانے لگا۔ ساتھ ہی خود امام خمینی مرحوم کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی اور انتہائی نازک موقعوں پر امام خمینی مرحوم کو غلط فیصلے لینے پر مجبور کردیا، جس کے نتیجے میں اسلامی انقلاب کے گلشن میں مرجھائی چھانے لگی۔ بین الاقوامی سازشیں تیز تر ہونے کے بعد ایران میں سیاسی صحرانوردی شروع ہوئی اور دنیا میں اس کا رعب کم ہونے لگا۔ ایک اسلامی انقلاب نے ملکی انقلاب کی شکل اختیار کی اور وہی عنصر آگے بڑھ کر ایک مسلکی انقلاب میں ٹھٹھر کر رہ گیا۔
 
ایران نے انقلاب کے فوراً بعدایک باوقار ملک کی حیثیت سے اپنی ترقی اور تعمیر کا ایک وسیع اور جامع پروگرام تشکیل دیا۔ چونکہ یہ ملک تیل اور گیس کے وافر ذرائع سے مالامال ہے جو اس کی مادی ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اپنی توانائی قوتوں میں اضافے کے پیشِ نظر وہ ایٹمی توانائی میں پیش رفت کرنے کی طرف جب آگے بڑھنے لگا تو پوری دنیا نے اُس ملک کوایٹم بم بنانے کی سازش میں ملوث قراردیا، اور یکایک اس کے خلاف اقتصادی اور مالی پابندیاں عائد کیں۔ یہ ہتھیار استعماری عزائم میں بڑا کارگر ثابت ہوا اور مملکت ایران الگ تھلگ رہ گئی اور اس کی معیشت تباہی کے دلدل میں پھنس گئی۔ تقریباً تین سال پہلے جب مسز ہلری کلنٹن کووزارت خارجہ کے محکمے سے فارغ کردیا گیا اسی وقت امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان خفیہ ملاقاتوں میں نہ صرف ایران ایٹمی توانائی پر گفتگو ہوتی رہی بلکہ ایرانی حکومت کی نئی تشکیل ، اس کی خارجہ پالیسی، ایران عرب تعلقات، مشرق وسطیٰ میں ایران کا رول وغیرہ سب مسائل پر ایک جامع سمجھوتہ ہوا اور یوں مملکت اسلامیٔ ایران نے اپنے تمام جائز حقوق پر امریکہ کے چھاجانے پر مہر لگادی۔ مرگ بر امریکہ کی جگہ اب رہبر اکبر امریکہ کی گونج سنائی دی اور وہ واپس اسی جگہ امریکہ کی چھتر چھایہ میں آگیا جہاں عرب دنیا پہلے ہی ذلت و پستی میں دم توڑ رہی ہے۔
 
اداریہ ::::::وطن واپسی یا وطن کی تقسیم !!
گذشتہ ہفتے کشمیر کے سیاسی ماحول میں ایک بار پھر شدید حرارت پیدا ہوگئی جب کشمیری پنڈتوں کو وادی میںعلیحدہ خطوں اورعلاقوں میں بسانے کیلئے حکومت کے منصوبوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ۔اگرچہ بعد میں ریاست کے وزیراعلیٰ نے اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں اس طرح کے کسی منصوبے کی سختی سے تردید کی ۔حالانکہ مرکزی ہوم منسٹر نے او روزیر اعلیٰ کے درمیان ملاقات میں پنڈتوں کیلئے الگ سے بستیاں تعمیر کرنے کی بات ہوئی تھی اورمرکزی حکومت نے ریاستی حکومت پر اس سلسلے میں اراضی حاصل کرنے کیلئے دبائو ڈالا تھا ۔مرکزی ہوم منسٹر پنڈتوں کیلئے علیحدہ ’’ہوم لینڈ ‘‘سے کم کسی بات پر راضی نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔اور اس کے پیچھے زیادہ ترسیاسی مقاصد اورعوامل کارفرما رہے ہیں ۔لیکن اب موجودہ ریاستی حکومت نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایک علیحدہ ہوم لینڈ بنانے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ کشمیری پنڈت کشمیر ی سماج کاایک ضروری عنصر ہیں اور۱۹۹۰کی دہائی کےاوائل میںیہاں سرگرم عسکری تحریک شروع ہونے کے ساتھ ہی پنڈتوں کی اکثریت یہاں سے ہجر ت کرنے پر مجبور کردی گئی ۔ان کی اس ہجرت کے پیچھے کارفرما عناصر اور عوامل سب کےسامنے عیاں ہیں ۔اُس وقت کے گورنر نے ایک خفیہ منصوبے کے تحت پنڈتوں کو وادی سے باہر نکالنے میں ایک اہم رول ادا کیاتھا ۔تاکہ کشمیری مسلمانوں کے خلاف کسی بھی ملٹری ایکشن کی زد میں آنے سے پنڈت برادری کے لوگ محفوظ رہ سکیں ۔کشمیری پنڈت یہاں کے سماج اور تہذیب وتمدن کاایک لازمی حصہ ہیں اور ہر وقت یہاں کے لوگوں نے نہ صرف ان کی حفاظت کی ہے بلکہ یہاں کے لوگ اب بھی ان کی واپسی کے انتظار میں ہیں ۔ اس دوران یہاں کی مین اسٹریم اور ہندوستان کی قومی سیاسی جماعتون نے محض انتخابی مفادات کیلئے پنڈتوں کی واپسی کوایک مسئلہ بنادیا اور ہر الیکشن میں ان کی واپسی اور ان کو بسانے کامعاملہ سرفہرست رکھا گیا ۔ریاستی حکومت نے بھی کنگن ،مٹن ، شوپیاں اور بڈگام میںپنڈتوں کیلئے الگ سے رہائشی ڈھانچے تعمیر کئے ۔پنڈت نوجوانوں کو مقامی طور ایک پیکیج کے تحت ہزاروں ملازمتیں فراہم کی گئیں ۔کشمیر کی آزادی پسند تنظیموں اور قیادت نے بھی کشمیری پنڈتوں کو واپس اپنےو طن آنے کیلئے آواز دی اور ان کو اس کیلئے خوش آمدید کہا۔یہاں کے امن پسند عوام میں کشمیر ی پنڈتوں کی وطن واپسی کےلئے بے پناہ جذبہ پایا جاتاہے ۔البتہ ان کے معاملے کو سیاسی رنگت دے کر ان کےلئے علیٰحدہ بستیاں اورکالونیاں تعمیر کرنا کشمیریوں  کے جذبات کے سراسر منافی ہے۔پنڈتوں کےلئے علیحدہ ہوم لینڈ تعمیر کرنے کےخلاف یہاں کے عوام نے احتجاج درج کرکے ہندوستان اور اس کے لیڈروں کے عزائم کو چلینج کیاہے۔ دراصل ہندوستان کی موجودہ لیڈرشپ اورحکومت کشمیری پنڈتوں کو واپس کشمیر میں بسانے کیلئے اسرائیلی طرز پر بستیاں اورکالونیاں تعمیر کرنے کے حق میں ہے ۔ایک علٰیحدہ ہوم لینڈ کاقیام اسرائیلی خاکوں میں رنگ بھرنے کے مترادف ہے ۔کشمیر بین الاقوامی طور ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی موجودہ ہئیت میں تبدیلی لانے سے خود ہندوستان کیلئے مسائل پید اہوسکتے ہیں ۔اگرموجودہ حکومت واقعی طور کشمیر میں امن اورخوشحالی نے ایک نئے دور کی شروعات کرنا چاہیے ہیں توالگ بستیوں اور علیحدہ ہوم لینڈ تعمیر کرنے کےمنصوبے اور عزائم کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔کشمیری پنڈتوں کاواپس اپنے وطن آنے کیلئے ہروقت استقبال ہے ۔البتہ ایک وطن میں الگ سے ایک اور وطن بنانے کی کبھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔