تہذیبی جارحیت کی شیطانی چالیں ----------- یوسف العمر
آج پوری دنیا میں انسانی اقدار اور اس کی عظمت کے خلاف ایک فکری جنگ چھڑ گئی ہے۔ اس جنگ کے نتائج بہت ہی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ ہزاروں سال سے رواں دواں انسانی تہذیب ایک عجیب اور ہوش اڑادینے والی نفرتوں کی گھاٹی میں داخل ہورہی ہے۔ ابھی بیسویں صدی میں انسان نے امید کے نئے چراغ روشن کئے تھے۔ ہر طرف انسانی برادری، بھائی چارے اور آزادی کے نعرے بلند ہورہے تھے۔ علم و دانش کے تیزی سے بہتے ہوئے دریائوں نے سنگلاخ اور بنجر ویرانوں میں تعمیر و ترقی کی نئی روح پھونک دی تھی۔ بظاہر سائنسی کرشموں نے اِس وسیع دنیا کو ایک چھوٹے سے گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا تھا۔ ہم سمجھنے لگے تھے کہ ظاہر و باطن میں حدِ نظر تک پھیلی ہوئی بے شمار نعمتیں سب انسانوں کی میراث بن جائیں گی، انسانی وقار قائم ہوگا اور غربت اور جہالت کے تمام اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ نئی عالمی قیادت سامنے آئیگی جو انسانی درد و احساس کی نمائندگی کرے گی۔ ہمیں یقین ہونے لگا تھا کہ علم و سائنس کی بہاریں انسانی برادری کو تقسیم کرنے والی تمام خرافات کو مٹادینگی۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں مصروف محنت کش انسان کے پسینے کو تقدیس و تعظیم کا ایک نیا عنوان دے کر یہ سب کے لئے آبِ حیات بن جائے گا۔ مگر افسوس یہ کہ سب کچھ ایک سراب ثابت ہورہا ہے۔ باہمی نفرتوں کی خلیج بڑھ رہی ہے۔ ملک اور قوم کے نام پر تعصب شدید سے شدید تر ہورہا ہے، غربت اور جہالت کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسان کراہ رہے ہیں، سماج کے بد ترین افراد اقتدار کی گدی پربراجمان ہیں، دولت کی تجوریوں پر غرورو تکبر میں مبتلاء عیاش لوگ انسانی اخلاق و تقدس کو پاؤں تلے روند رہے ہیں، عدالتوں میں انصاف خود فریادی بن گیا ہے اور علم و فن کی دانشگاہیں انسانی فکرو عظمت کے قبرستانوں میں بدل گئی ہیں۔
 
انسانی برادری، اخوت اور آزادی پر یہ شب خون کون ماررہے ہیں۔ ان انسانی اقدار کو تار تار کرنے والے یہ گمراہ سیاستدان، خود فریبی میں مبتلاء دانشور اور علماء، زرق و برق لباسوں میں ملبوس مذہبی پیشوا، آرٹ اور کلچر کا شیطانی نعرہ دینے والے مبلغینِ سوء، جیٹ اور جہاز میں سوار سود خور۔ ہاں یہی عالم انسانیت کو طاغوت کے زہریلے جراثیم سے بھر دیتے ہیں۔ انہی کے کرتوت سے عالمی سطح پر انسانی اقدار کے خلاف جنگ چھڑ گئی ہے۔ یہی زبان، رنگ ،وطن، ملک اور قوم کے نام پر انسان کو تقسیم کرتے ہیں۔ ان کی جارحیت سے ہی تہذیبِ انسانی کا دم گھٹ رہا ہے۔
 
نفرت اور انتشار کے سیلاب میں ڈوبی انسانیت کو کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ اس کا واحد علاج صرف اور صرف وہ سرچشمے کرسکتے ہیں جن کی نشاندہی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمائی ہے۔ دورِ حاضر کے اِس طاغوتی نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کا واحد ذریعہ وہی الٰہی تعلیم ہے جس کی بنیاد توحیدِ ربانی اور آخرت کی جواب دہی پر رکھی گئی ہے۔ اسی الٰہی تعلیم اور حضرت محمد ﷺ کی ولولہ انگیز قیادت سے انسانی تاریخ میں وہ تابناک معاشرہ پہلی بار وجود میں آیا جہاں انسانی برادری، باہمی اخوت اور آزادی نے بھر پر مظاہرہ کیا اور قیامت تک یہ مثالی معاشرہ پراگندہ انسان کو نئی زندگی بخش سکتا ہے۔ اگر آج انسان اسی طرح کا معاشرہ قائم کرنے کا خواہاں ہے تو لازمی بات ہے کہ قرآن کو کتابِ انسان کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور رنگ و نسل، قوم و ملک، زبان و ذات کے تمام تعصبات مٹ جانے چاہیے۔سارے ہی انسان محترم و معزز ہیں، انسانی عظمت اس کے عمل میں پوشیدہ ہے۔ کوئی رام زادہ نہیں ہے، کوئی خدا کی اولاد نہیں ہے۔ انسان کی حیثیت صرف بندۂ خدا کی ہے ، جو اس کا قائل نہیں وہ ابلیس کا ایجنٹ ہے۔ وہ طاغوت کا سرغنہ ہے۔ یہی تصور اُس فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے جو مدینہ میں پروان چڑھا اور آج تک نوع ِ انسانی کو عظمت، عزت اور قوت عطا فرمارہا ہے۔
 
اداریہ ::::::: حکومت سازی دو دھاری تلوار
جموںکشمیر میںریاستی سطح کی اسمبلی انتخابات کے نتائج کو دس روز ہوئے سامنے آئے ہیں۔لیکن تاحال حکومت سازی کےلئے دُھندلے بادل ابھی چھٹنے کانام نہیںلے رہے ہیں۔۷۸نشستوںمیں ریاستی جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے۸۲،نیشنل کانفرنس نے ۵۱ اورغیر ریاستی جماعتوں بھارتیہ جنتاپارٹی نے ۵۲انڈین نیشنل کانگریس۰۱نشستیںحاصل کی ہیں۔جبکہ ۹نشستیںآزادلوگوںکے ہاتھ لگی ہیں۔اوریوںانتخابی مہم کی ذہنی تھکاوٹ کے بعد حکومت سازی کابھدکتاہاتھی عوام کے ذہن پرسوار ہوگیاہے۔مغربی جمہوریت کی اس گیڈر سنگی نے مشرق میںآج تک تو کوئی راحت لوگوںکوپہنچائی نہیںتاہم بہت سے پروڈکٹس ضرور متعارف کرائے ہیںجن میں قومیت ،علاقائی تعصب ،برادری ازم ،ضلع ازم ،قبیلائی عصبیت ،مذہبی منافرت ،دولت کی ناہموار تقسیم،لوٹ مار ،رشوت ستانی ،بلیک میلنگ ،اورکرپشن قابل ذکر ہیں۔امریکہ اور مغرب میں دُنیا کے نظام کو من چاہے طریقہ سے اتھل پتھل کرنے کےلئے جمہوریت ہی کے نام کو بطور حربہ استعمال کیا۔تاکہ دُنیا کوزیرِنگیں لاکر اپنے مفادات کو محفوظ بنایاجائے۔تقسیم کروحکومت کرواوران کا بنیادی حلف ہے جس پر انگریز بہادر نے برصغیر سے جاتے جاتے مکمل پاسداری کی اور مسئلہ کشمیرکی بدعت کوبطور تحفہ ریاستی عوام کی نذر کردیا۔ریاست جموں کشمیر پوری کی پوری آزاد نہ ہوتی تو کم ازکم پوری کی پوری غلام ہی رہتی تاکہ اس وحدت پر کوئی آنچ نہیںآتی۔مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ انگریزںکی نقالی میںسانولے ِانگریز بہت آگے نکل گئے کہ اُن کی حکومتوں نے اپنی ایجنسیوںکے ذریعہ 57برسوںکی محنت شاقہ کے ریاست کے ایسے حصے بخرے کرڈالے کہ آج ریاست کے اندر ایک دوسرے کے خلاف آوازیںاُٹھ رہی ہیںاورخاص کر جب سے ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی جماعتیںبراہ راست ریاست میںوارد ہوئی ہیں۔اس کے بعد ہی ریاست کی مختلف ا لمذاہب اورمختلف ا لقبائل حیثیت ہونے کے باوجود باہمی یک جہتی ،بھائی چارگی وبردباری کی تاریخی روایات پاش پاش ہوکررہ گئیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گلگت بلتستان سے آوازیںاُٹھیںکہ انہیںآزاد کشمیر نہیں بلکہ براہ ِراست پاکستان کاصوبہ بنایاجائے ،لداخ نے کہا براہ ِراست انڈین یونین میںشامل کیا جائے،جموںوالے کشمیروالوںکواورکشمیری جموالوں کو غیر سمجھنے لگے ہیں۔انتخابات 2014رضائے الہٰی کے حصول کیلئے تولڑا نہیںگیا تھا۔کہ کوئی نوبل اورمقد س نتیجہ برآمد ہوتا ۔یہ تو سراسر مفادات کی انتخابی جنگ تھی جس کانتیجہ ایسا بھیانک نکلا کہ تعطل پیدا ہوگیا ۔بد سے بدنام بُرا کے مصداق کانگریس کے مقابلہ میں بی جے پی کے متعلق عمومی رائے مثبت نہیںہے۔حالانکہ دونوںکے ایجنڈے میںاسلام دوستی یا مسلم دوستی دور دور تک نظر نہیںآتی۔لیکن پھر بھی بڑی پارٹی پی ڈی پی حکومت سازی کےلئے دو دھاری تلوار سے گذر رہی ہے۔اُسے ڈرہے کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت نہ بنائی تومرکزمیںبیٹھ کر یہ پارٹی ریاست کاحقہ پانی بندکردے گی۔اور اس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی توا ٓ ئندہ انتخابات میںریاست کے عوام انگوٹھادکھاسکتے ہیں۔بی جے پی کیلئے بھی یہ ایک بہترین موقعہ ہے کہ وہ نئے سرے سے اپنی پالیسیاںمسلم دشمنی پر نہیںبلکہ مسلمانوں کے خیرخواہ ہونے کے اصولوں پر مرتب کرے ۔اوراسلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے جو مسلمانوں کے لئے ہی نہیںبلکہ تمام انسانوںکے درمیان امن اورآشتی کاواحد ذریعہ ہے۔