امریکا کی دوستی سراسر شر ہے ---- یوسف العمر
متحدہ ریاست ہائے امریکا بلاشبہ ایک سامراجی مملکت ہے۔ نائن الیون کے حادثے سے پہلے امریکی فوج ۷۰ ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے ہوئے تھی۔ اب دنیا کے ۱۴۰ ممالک میں اس کے فوجی اڈّے قائم ہیں۔ اس طرح نائن الیون کے حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنے مفروضہ خدشات کی بنا پر اُس نے نام نہاد عالمی دہشت گردی کا بہانہ بنا کر دنیا کو ہراساں کر رکھا ہے، اورساتھ ہی اپنی فوجی قوت کو دُگنا کردیا ہے۔ امریکا نے امن اور جمہوریت کو بہانہ بناکر اپنی فوجی طاقت کو سندِ جواز بخشی ہے اور ایک نہایت خطرناک حد تک اپنی فوجی قوت کو مجتمع کیا ہے۔ پچھلے ساٹھ سال کے دوران امریکی سامراج دنیا میں رونما ہوئی جنگوں میں براہ راست ملوث رہا ہے۔ یہ جنگیں کوریا، ویت نام، کمبوڈیا، لاؤس، صومالیہ، عراق (دو مرتبہ) اور افغانستان میں ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری مختصر جنگوں میں امریکا ملوث رہا ہے مثلاً کیوبا، پاناما، سربیا اور شام کی فوجی کاروائیاں صرف اور صرف امریکا کے ایما ءپر شروع کی گئیں۔ مزید یہ بھی حقیقت ہے کہ جو فوجی انقلاب(Coup) ایران، برازیل، انڈونیشیا، نکاراگوا اور چلّی وغیرہ میں برپا ہوئے ا نکے پسِ پردہ بھی امریکا رہا ہے۔ایک برطانوی مبصر مسٹر فرڈننڈ ماؤنٹ کا تجزیہ ہے کہ ۱۶۸ مختلف فوجی اقدامات میں امریکی افواج کا دخل رہا ہے۔ ان جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کئی لاکھ کے قریب ہے۔ اس طرح امریکا نہ صرف ایک بد ترین سامراجی ملک ہے بلکہ نہایت ہی سفّاک اور بد طینت بھی ہے۔ اس بات کی تائید رچرڈ فالک نے اپنی کتاب Choose and Counter Revolution : After the Arab Spring میں ’بہار عرب‘ کے حوالے سے جو تجزیہ پیش کیا ہے اس میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے:
 
’’امریکا کی نہایت اہم حکمت عملی اس خطے کے لئے عام طور پر یہی رہی ہے کہ وہ ظالمانہ اور آمرانہ حکومتوں کی پشت پناہی کرے تاوقتیکہ وہاں کی قیادت مغرب کے ساتھ دوستانہ رہے۔ اگر حکومت کے بارے میں یہ تاثرہو کہ وہ مخالفانہ رویّہ رکھتی ہے یا اپنی مملکت کو قابو میں نہیں رکھ سکتی تو اس صورت حال میں وہ امریکی فوجی مداخلت کا نشانہ بن جاتی ہے، تاکہ اس کے بجائے کوئی اور دوستانہ، فرمان بردار اور با اثر قیادت کو اقتدار حاصل ہوجائے۔‘‘
 
فوجی کاروائیوں کے علاوہ بھی امریکی استعماری قوت کا مظاہرہ اس کی عالمی تجارتی اور مالیاتی سرگرمیوں سے ہوتا ہے، جسے Coca-colonizationکے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی تجارتی ادارے اپنے مشروبات اور مصنوعات دنیا بھر میں رائج کرکے اپنے کلچر اور ثقافت کو خوب فروغ دے رہے ہیں۔ ہندوستانی نژاد راہول مہاجن اپنی کتاب The New Crusade : American War on Terrorism میں لکھتےہیں:
 
’’ترقی یافتہ ممالک کے تجارتی اداروں کو پس ماندہ ممالک کے تجارتی اداروں کے مقابلے میں بہت زیادہ فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ یا تو وہ ان کو ضم کرلیتے ہیں یا بالکل تباہ کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے امریکا کے آزادانہ تجارتی معاہدات اصلاً پس ماندہ ممالک کی آزادانہ پالیسی کے لئے پیغامِ موت ہے۔ نئےعالمی نظام کو بروئے کار لانے کے لئے اور ان ممالک میں اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے آئی ۔ ایم۔ ایف، ورلڈ بنک، عالمی تجارتی ادارہ جو بظاہر بین الاقوامی ادارے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ سب امریکا کے کنٹرول میں ہیں، اس کے آلۂ کار ہیں۔ ‘‘
 
آج جو بھی مسلمان ملک اپنی ترجیحات پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے امریکا فوراً اپنی عیارانہ چالوں سے اُسے کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکا کبھی بھی کسی مسلم ملک میں امن اور جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔ ہمارے سامنے پاکستان کی مثال ہے۔ وہ سیٹو اور سنٹوکا ممبر بنا جہاں امریکا God-Father کی حیثیت سے چھایا تھا۔ پاکستان پچھلی کئی دہائیوں سے زبردست آزمائشوں سے گزرا، کیا امریکا نے کبھی بھی عملی طور پر اس کی مدد کی؟ اس کے ساتھ رہتے ہوئے پاکستان بڑی مشکلات میں پڑا لیکن امریکا نے ہر وقت پاکستان کے ساتھ غداری کی اور اُسے بے یار و مددگار چھوڑا۔ پچھلے کئی سال سے امریکا نے پاکستان پر ڈرون میزائل داغے اور معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھون کے رکھ دیا۔ آج پاکستان نے پہلی بار یو این سکیورٹی کونسل میں کھل کر ان ڈرون میزائیلوں کے حملوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا اور کہا کہ امریکا جان بوجھ کر افغانستان میں امن بحال کرنے کے عمل کو سبوتاژ کررہا ہے۔ امریکا نہ صرف فوجی اور اقتصادی لحاظ سے دنیا پر چھاجانا چاہتا ہے بلکہ وہ اپنے شیطانی عمل کو پورے عالم میں پروان چڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ اخلاقی بے راہ روی، منشیات کا فروغ، فعلِ قومِ لوط جیسے گھناؤنے افعال کو قانونی جواز دینا، سودی نظام کے فروغ سے عالمی نظام معیشت کو کمزور کرنا اور اس طرح کےاور کئی شیطانی اقدامات سے پورے عالم میں بد نظمی اور انتشار پھیلا نا امریکا کا عالمی ایجنڈا ہے۔ امریکا کہیں بھی انسانی وقار اور عظمت کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ خود ایک تباہ کن اخلاقی زوال میں ڈوب رہا ہے اور دنیا کو بھی خباثتوں کے وسیع دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ جو بھی ملک اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا وہ سراسر شر میں مبتلا ہوگا۔
 
 
رزق حلال بہترین کمائی ہے ---- اداریہ
ایک بڑے اسلامی ملک کی کر نسی پریہ لفظ تحریرشدہ ملتے ہیں۔’’رزق حلال بہترین کمائی ہے‘‘۔جبکہ اس سےملتے جلتے الفاظ دیگر ملکی کرنسیوں پر بھی ملتے ہیں۔جیسے بھارت کی کرنسی پر ’’ستیہ میو جیہ تے‘‘ یاامریکی کرنسی پر ’’ان گارڈووئی ٹرسٹ ‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ دنیا میں کہیں بھی حرام کمائی کوپسند نہیں کیاجاتا۔حلال وحرام کےپیمانے الگ الگ ہوسکتے ہیں۔لیکن کہیں بھی حرام ذرائع کواستعمال کرنے کی صلاح دی گئی ہےنہ اجازت ۔اسلام دنیا میں رزق حلال کازبردست طرفدارہے۔اوراللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حلال کمائی کی ترغیب دی ہے اورحرام کمائی پر زبردست وعید سنائی ہے۔اس کی خاص مثال یہ ہے کہ سود جیسی حرام تجارت کوقباحت میں ماں کے ساتھ زنا جیسا بُرا او رذلیل ترین فعل قراردیاگیا ۔رشوت ،ناجائز منافع خوری ۔دُھوکہ دہی ۔نشہ آور اشیاءکی خرید وفروخت وغیرہ کو دین اسلام میں بالکل ناجائز قراردیاگیا ۔اسلام میں جہاں تجارت اورمال حاصل کرنے کیلئے ان ناجائز طریقوں کو اختیار کرنے پر روک لگائی گئی۔وہیں اپنی تجارت کو بڑھاوا دینے کیلئے ناجائز ذرائع پر بھی روگ لگائی گئی۔جیسے مرد کیلئے اس چیز کو ناپسند اورناجائز قراردیاگیاکہ وہ اپنی عورت یادوسری عورتوں سے کمائی کراکے اپنی تجارت کوفروغ دیں ۔لوگوں کواپنی دوکان، کارخانے، شوروم کی طرف راغب کرنے کیلئے جھوٹ اورمبالغہ پرمبنی اشتہارات دیں ۔صاف اورصحیح مال کودکھانے کیلئے شوروم کی زینت بنائے ،جبکہ عملاً فروخت کرنےکیلئے گھٹیاچیز گودام میں رکھے ۔غلے اور دیگر اناج کے ذخیروں یابوریوںکی اوپری تہہ صاف جبکہ نیچے خراب مال رکھے۔اسی طرح اپنی دکان ، کارخانے ،یاشوروم کاگرویدہ بنانے کیلئے عورتوں کی تصویری ، عکسی یاذاتی نمائش کرے،لاٹریاں نکالے یااپنی دکان پر فحش تصاویر لٹکائیںیاموسیقی اور گانے بجائے۔دیکھاجارہاہے کہ’’رزق حلال کو بہترین کمائی قرار دئے جانے کے بعد اول توسرکار ہی ان تمام منکرات کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتی ہے جوتجارت کوآلودہ کرکے کمائی کوحرام بنادیتی ہیں۔بلکہ ان منکرات کے استعمال کیلئےپورے مواقع فراہم کرتی ہے ۔سودی کاروبار حکومت کی ایما ء پر ہی ہوتاہے۔رشوت کالین دین سرکاری دفاترمیں بدرجہ اتم پایا جارہاہے۔جس کے ہوتے ہوئے ناجائز منافع خوری روز بروز پنپتی جارہی ہے ۔اسی طرح لاٹری سٹہ بازی ،شراب اور نشہ آور ادویات کی خریدوفروخت بھی حکومت کی چھتر چھایا میں ہورہی ہے ۔اسی طرح غلط اشتہارات ۔حیاسوز ٹی وی اشتہارات وغیرہ کیلئے بھی حکومت ہی مواقع اورسہولیات میسر کرتی ہے۔بھلاایسے حالات میں ’’رزق حلال ‘‘یا ’’ستیہ میو‘‘ کے الفاظ کرنسی نوٹوں پر رقم کرنا کہاں تک زیب دیتاہے۔اتنا ہی نہیں اپنے تاجر حضرات نہ صرف عام دنوں بلکہ ماہ مبارک ، رمضان کے ان مقدس ایام میں بھی اپنی دکانوں پر خوبصورت عورتوں کی تصاویر اورمجسمے سجا کےرکھتے ہیں۔معافی کاخواستگار ہوں۔اگرکہوں ’’حاجی صاحب اندر بیٹھے گاہک کاانتظار کرتے ہیں اور دکان کے سامنے ایک خوبصورت یورپی عورت کامجسمہ گاہک کے استقبال میں کھڑا ہے‘‘۔یہ کہاں کی دینداری ہے۔اورکیا اس قسم کی کمائی کورزق حلال کے زمرے میں لایا جاسکتاہے ۔ایک عام میوہ فروش گاہک کولبھانے کیلئے صاف صاف میوے سامنے رکھتاہے ۔جبکہ فروخت کرتے وقت اند ررکھاگلاسڑامواد لفافہ بند کرتاہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہمارے تاجر حضرات اب ان باتوں کوزیادہ قبیح تصور نہیں کرتے ہیں ۔کیونکہ سماج کے اندررہنے والے سب لوگ اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں۔
 
جہان نوٹوں پر رقم رزق حلال یا’’ستیہ میو ‘‘ کے الفاظ حکومت کی وعدہ بندی کاتقاضاکرتے ہیں۔جن کے مطابق حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھانا عذاب جہنم سے خلاصی کاذریعہ بن سکتاہے۔وہاں عام لوگوں کوبھی یہ سوچنا ہے کہ رزق حلال کمانے کیلئے اُن کوکن باتوں کاخیال رکھناہے۔کہیں ایسا نہ ہوکہ ہم اس زعم میں رہ کر،کہ حلال کمائی کرتے ہیں،اپنااورا پنی اولاد کاپیٹ جہنم کی آگ سے بھرتے جارہےہیں۔