قربت باعثِ برکت بھی ہوسکتی ہے ----------- یوسف العمر
دورِ جدید کی بہت بڑی دین یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر مختلف ذاتوں ، برادریوں، مذہبوں ، زبانوں اور ملکوں کے درمیان نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور وہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی راہ ہموار کرنے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مشغول ہونے لگے۔ انسانوں کے درمیان بہر حال انسانی رشتے آپسی نزدیکیوں سے ہی مستحکم اور مضبوط ہوسکتے ہیں۔ ایک شخص چاہے کتنا بھی بُرا کیوں نہ ہو، بہر حال ہے تو وہ ایک انسان ہی۔ اچھائیوں کی برتری جب ہی سامنے آسکتی ہے جب برائیوں میں پھنس کر انسان ہر طرف دھکے کھاتا ہے، وہ خود اپنی نظروں میں گِر جاتا ہے، اس کے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھاجاتا ہے، وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، اس کا دم گھٹ جاتا ہے، اس کا ذہن نفرتوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے، وہ کبھی مطمئن نہیں رہ سکتا ، وہ دوسروں سے ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہے اور وہ مکمل طور ایک ذہنی مریض کی حیثیت سے زندگی کے رواں دواں اور خوشیوں سے بھر پور کاروان سے الگ تھلگ رہ جاتا ہے۔
 
اس تناظر میں جب ہم عالمی صورتحال پر نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے اِس دوڑتی بھاگتی انسانوں کی بھیڑ میں ہزاروں ایجنسیاں کام کرتی ہیں جو کہیں مذہب، کہیں قوم و ملک اور کہیں ذات و زبان کو بنیاد بناکر باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہی ہیں۔ علمی اور سائنسی ترقی نے ایک طرف انسانوں کے درمیان دوریوں کو کم کردیا مگر مذہبی، قومی، لسانی اور نسلی تعصب نے جنگ و جدل اور انتشار کی فضاء پیدا کرنے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی ہے۔ اسی لئے ہر روز ہزاروں انسان موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں، سینکڑوں بستیوں کو خاکستر کیا جاتا ہے، لاکھوں لوگ اپنے وطن سے بے وطن کئے جاتے ہیں، نہتے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو بڑی بے رحمی سے تختۂ مشق بنایا جارہا ہے، بھوک اور افلاس کی دلدل میں پھنسے کروڑوں انسانوں پر کسی کو رحم نہیں آتا۔ ایک طرف آسمان سے چھونے والے بُرج اور مینار تعمیر ہوتے ہیں تو دوسری طرف جُگی جھونپڑیوں اور تنگ و تاریک گلیوں میں آدم کی اولاد سسک رہی ہے!
 
افراتفری اور انتشار کے اِس عالمِ ہُو میں انسان ایک معمولی سی امید کی کرن کے لئے ترس رہا ہے، وہ کِرن جو اس کے اندر احساسِ ذمہ داری کی شمع کو روشن کرے اور اِسے اپنے عمل کے لئے جَواب دہی کا ذمہ دار ٹھہرائے، وہی کرن اس کے خاکستر میں باہمی محبت و مروت کی انقلابی قندیل روشن کرسکتی ہے۔ عظیم انسانوں اور انبیاءِ کرام نے انسان کے اندر یہی شرر روشن کیااور آج بھی دنیا میں جو حق اور انصاف کا عنصر نظر آتا ہے یہ انہی کی دین ہے۔ مسلمان جو اپنے آپ کو پیغمبروں کے وارث تصور کرتے ہیں ان کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب اور قوم سے تعلق رکھتا ہو، اس کو اپنے قریب کردیں اور وہ اپنے بلند اخلاق اور کردار سے دنیا کو اس مقام پر لاکھڑا کردیں جہاں انسانی عزت و احترام اور انسانی اخوت و آزادی کی روحانی فضائیں میسر ہوجائیں۔ دوریاں نفرتوں کو بڑھاتی ہیں اور مسلمان کبھی بھی احساس کمتری کا شکار ہوکر اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا ہے۔ اس کے پاس ایک آفاقی پیغام ہے، ایک بہتر نظامِ زندگی ہے، وہ جب سماجی اور سیاسی سطح پر دوسروں کے قریب آجائیں تو اپنے اعلیٰ اقدار اور برتر افکار سے سماج میں ترقی و تعمیر کی نئی شاہراہیں تعمیر کرسکتے ہیں۔
 
اداریہ :::::::مفتی صاحب ’’آپ ‘‘کو مبارک
گورنر راج والی ریاست جموں کشمیر کے جمہوری دن آنے کو ہیں اور تذبذب سے بھر پور ایام جانے کو ہیں ۔’’اللہ لوک ‘‘کہتے ہیں کہ فیصلے تو دونوں بڑی پارٹیوں نے پہلے ہی کررکھے تھے لیکن حوصلے دونوں کے بڑے نہیں تھے ،کیا عوام اُن کے پیچھے کھڑے نہیں تھے؟ جن کو مطمئن کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں تھا۔پی ڈی پی اور بی جے پی کے منشور کی تقدیس کاسوال تھا ۔دونوں پارٹیاں کٹر اور مخلص ہندوستانی تو پھر ڈر کاہے کا ؟ ہاں ڈر مستقبل کا ۔عوام کے پاس کس منہ سے جانے کا ۔کیونکہ انتخابی رسّہ کشی کا ایک کنارہ دفعہ ۳۷۰ کے ہونے سے زندہ تودوسرا کنارہ اُس کے نہ ہونے سے زندہ، ایک کنارہ افسپا کے حق کا تو دوسرا کنارہ اُس کے خلاف کا ۔مفتی سعید نے ریاستی پارٹی کو چھوڑ کر جو دوڑ غیر ریاستی پارٹی کی طرف لگائی وہ خود اُن کےلیے آئندہ انتخاب میں چیلنج بن سکتا تھا اور بی جے پی اگر اپنی روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ کر مفتی سرکار میں شریف بچے کی طرح بیٹھی رہتی تویہ ادا آر ایس ایس میں اُچھل کود کرنے والوں کو ہر گز نہ بھاتی ۔یہی سوچ سوچ کے دونوں پارٹیاں لگ بھگ قوتِ فیصلہ سے محروم ہوگئیں اور یوں سیلاب زدہ وستم زدہ قوم کا ڈیڑھ دو مہینہ ضا ئع ہوگیا ۔مودی جی اور چار چھ مہینے بات چیت میں مفتی جی کو مشغول رکھتے تو کون پوچھنے والاتھا ۔وہ خود سب سے بڑی کرسی پر توبراجمان تھے ہی اور پھر اس طوالت سے اپنے حلقہ میں خود کو ایک اصولوں پر مرمٹنے والا پکا نظریاتی ساتھی ثابت کرنے کا فائدہ بھی تومل ہی رہاتھا ۔یہ بھلا ہو بلکہ مبارک ہو ’’آپ ‘‘کو کہ کیجروال کے ہاتھوں دہلی میں ایسا چمتکارہوگیا کہ بی جے پی کی اس رسہ کشی پر گرفت ڈھیلی ہوگئی اور مفتی جی کاکام نکل آیا ۔ گذشتہ ۶ماہ سے جموں کشمیر کےلوگ سیلاب کے بعد کے تباہ کن اثرات سے لڑ رہے ہیں کہ اوپر سے سوائن فلو کی وباء نے انہیں آگھیرا ۔ان حالات میں عام جماعتوں کوبھی عوام میں اُترنے کی ضرورت ہے ۔چہ جائے کہ دو جیتی ہوئی بڑی پارٹیاں ابھی تک ظاہری رسہ کشی کاماحول ہی بنائے رکھیں ۔اسلئےضرورت اس بات کی ہے کہ نہ کوئی ہارا نہ کوئی جیتا اوروِن وِن کے احساس کے ساتھ پی ڈی پی او بی جے پی لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے میٹنگوں اور تقریروں سے ہٹ کر عملی میدان میں اُتریں اورجنگی بنیادوں پرستم زدہ ریاستی لوگوں کو گھمبیر مسائل سے باہر لانے میں اپنا سیاسی وسماجی کردا نبھائیں ۔