سازشوں کے نرغے میں ---- یوسف العمر
۱۹۴۷ء میں جب سے بھارت کی فوجیں کشمیر میں اتریں اور یہاں کی ہند نواز جماعتوں اور لیڈروں نے کشمیر پر ہندوستانی قبضےکے لئے بالواسطہ اور بلاواسطہ اپنا بھرپور تعان میسّر رکھا، سرزمینِ کشمیر کو انسانی خون سے لالہ زار بنادیا گیا۔ یہ سرزمین خاموشی سے اس خون کو اپنے اندر جذب کرتی رہی اور اپنے باغ و بہار کو نکھارنے کے لئے ایک روشن مستقبل کے انتظار میں نسل در نسل سات دہائیوں سے قربانیوں کے انبار کھڑے کئے۔ بستیاں تباہ ہوگئیں، عصمتیں لٹ گئیں، جوان بیٹے اور جوان بیٹیاں اپنے مچلتے خوابوں سمیت قبر وں میں دفن ہوئے، بوڑھے والدین کی آنکھیں اپنے کھوئے ہوئے لاڈلوں کے انتظار میں آنسوں بہاتے ہوئےبے نور ہوگئیں۔ لوگ مسجدوں اور مدرسوں سے قافلوں کے قافلے سجاکر مقتلوں کی طرف آگئے، پبلک پارکیں قبرستانوں میں بدل گئیں، ہنستے کھیلتے معصوم بچوں کو اپنے ہی آنگنوں میں موت کی نیند سلادیا گیا۔ رونق بھرے بازاروں کو بندوق کی گڑگڑاہٹ نے ملبے کے ڈھیروں میں بدل دیا، میدانوں میں ایستادہ چنار اور جنگلوں میں کھڑے سرو خاموش تماشائی بن کر آنے والے لمحوں کے انتظار میں سسکیاں بھر تے رہے۔ آندھیاں چلیں، زمین تھرتھرائی لیکن روحِ کشمیر نے چراغِ آرزو کو بجھنے نہیں دیا۔
 
کشمیر کی پاکیزہ فضا کو مکدّر کرنے والے ہاتھ اور شیطانی خصلت کے نمائندہ اذہان پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی مکروہ چالوں سے کشمیریوں کو نئے فریب دے رہے ہیں۔ ’خوشحال کشمیر‘، ’ترقی یافتہ کشمیر‘، ’امن کا گہوارہ کشمیر‘ اور اس طرح کے کئی خوشنما نعرے بلند کرنے والے محض اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے وقفے وقفے کے بعد نئی سازشیں رچا کر کشمیری عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ سازشوں کا یہ کھیل مسلسل ۱۹۴۷ء سے جاری ہے۔ کبھی محدود آزادی کا فریب دیا گیا، کبھی اندرونی خودمختاری کا داؤ کھیلا گیا، کبھی انسانیت کے دائرے میں کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کا کھوکھلا وعدہ کیا گیا اور کبھی کشمیر کو ہندوستان کا تاج قرار دے کر اس کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ ان تمام ’نیک ارادوں‘ کے باوجود روحِ کشمیر کو نہایت بے دردی سے کچل کر رکھ دینے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔
 
کشمیری معاشرے میں مزید انتشار پیدا کرنے اور اس کے تہذیبی وجود میں گہری دراڑیں پیدا کرنے کے لئے اب کی بار کشمیر میں سینِک کالونیاں قائم کرنے، بہاری اور نیپالی مزدوروں کے لئے شلٹر تعمیر کرانے، پنڈتوں کے لئے علیٰحدہ ٹاؤن شپ بنانے، نئی انڈسٹریل پالیسی نافذ کرنے، NEET کےذریعے مقامی اداروں میں مسلمان طلباء کی تعداد میں کمی کرنے جیسے سنگین مسائل پیدا کرنے کی جو حکومتِ ہند کی طرف سے پلاننگ ہورہی ہے، اس کے نہایت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ان تمام اقدامات سے انتہائی غیر محسوس طریقے پر کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب گھٹا کر یہاں کے انسانی اور سیاسی مسائل کو پس پشت ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس طرح کی کالونیاں قائم کرنے سے یہاں صدیوں سے چلی آرہی سماجی روایات کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات ہورہے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ وقتًا فوقتًا اقتدار میں شامل مقامی سیاسی جماعتیں ان تمام اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بطورِ آلۂ کار استعمال ہورہی ہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی سازشیں سالہاسال سے ہورہی ہیں۔ موجودہ حالات میں جب کہ یہاں کی اکثریتی آبادی نے بے انتہا قربانیاں پیش کی ہیں اس طرح کی کسی بھی سازش کو اپنانے سے نہایت ہی ہولناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس کے نتائج بڑے تباہ کن ہونگے۔
 
 
عوامی جذبات اورخواہشات کااستحصا ---- اداریہ
ریاست کی موجودہ مخلوط سرکار نے سرینگر میں دربار سجانے کے بعد اس عزم کااظہارکیاہے کہ ریاستی عوام کے جذبات اورخواہشات کاہر صورت میں احترام کیاجائےگا ،لوگوں کو ہر طرح سے سہولیات بہم پہنچائی جائیں گی اوران کے روزمرہ کے مسائل کو ہر لحاظ سے حل کیاجائے گا۔لیکن زمینی سطح پر ریاست کے عوام کی خواہشات اورجذبات کاہر طرح سے استحصال کیاجارہاہے ۔نتائج کی پروا کئے بغیر موجودہ حکومت اپنی پیشروسرکاروں کی طرح صرف زبانی دعوے کررہی ہے ۔اورمیٹنگیں اورکانفرنسیں منعقد کرکے تبدیلیاں لانے کی صرف یقین دہانی کرائی جارہی ہے ۔اقتدار حاصل کرنے کے چند ماہ کے دوران کسی نمایاں تبدیلی کے آثار بالکل ہی نظر نہیں آرہے ہیں ۔۔
 
بھاجپا کی مرکزی حکومت موجودہ ریاستی حکومت کے ذریعے تمام شعبوں میں اپنا ’ہندو تا ایجنڈا ‘ نافذ کرنے میں مصروف عمل ہے اوراس کےلئے ہر سطح پر سرکاری مشینری اورذرائع کا خوب استعمال کیاجارہاہے۔صنعتی پالیسی، سینک کالونیوں کی تعمیر اورمہاجر پنڈتوں کےلئے الگ رہائشی بلاکوں کی تعمیر کامنصوبہ ان کے خفیہ ایجنڈا کاایک لازمی حصہ ہے۔تعلیم ،سماجی خدمات اورصحت جیسے شعبوں کے خاکوں میں بھی زعفرانی رنگ بھرے جارہے ہیں ۔اورکئی غیر سرکاری تنظیموں اوراداروں کے ذریعے ایسے پروگرام تشکیل دئے گئے ہیں ۔جن کامقصد کشمیر کے مسلم نوجوانوں کو اپنے دین ،تہذیب شناخت اورتاریخ سے برگشتہ کرانا ہے ۔اور اس کے لئے وسیع پیمانے پر پلاننگ کی گئی ہے۔جس کے تحت مخصوص علاقوں اورزمروں تک رسائی حاصل کی جارہی ہے ۔سینک کالونیوں اورپنڈتوں کےلئے رہائشی بلاکوں کی تعمیر اوربھارت کے بڑے صنعتی اداروں کو اپنے یونٹ قائم کرنے کیلئے پہلے ہی اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔اورریاستی سرکار کی وضاحتوں اوربیانات کے باوجود ان منصوبوں پر کام شروع کیاجاچکاہے ۔اوروسیع پیمانے پر کشمیر کی جغرافیائی وحدت ، تہذیبی شناخت اورعلاقائی سالمیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کی جاچکی ہیں ۔بھارت کے ساتھ کشمیرکامکمل ادغام اورانضمام (Integration )بھاجپا کابنیادی ایجنڈا ہے اوروہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی پوزیشن کو کمزور یا ختم کرنے اوریہاں کے اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کے مذموم مقاصد کو روبہ عمل لارہی ہے اور موجودہ سرکار ان کوششوں کےلئے بھرپور حمایت اورمعاونت فراہم کررہی ہے۔
 
ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اوربھارت اپنے قبضے کو دوام بخشنے کیلئے اپنی مذموم اورتوسیع پسندانہ کاروائیوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔یہاں کی جغرافیائی وحدت ،علاقائی سالمیت اورتہذیبی شناخت کو دُنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کرسکتی ۔بھارت کشمیر ی عوام کے جذبات اورخواہشات کومسل کر مسئلہ کشمیر کو دفن نہیں کرسکتا اورتاریخ کبھی اس کی اجازت نہیں دے گی ۔کشمیری عوام نے اپنی جائز اورپُرامن جدوجہد کے ذریعہ ہمیشہ انصاف اورآزادی کےلئے اپنی آواز بلند کی ہے اوران کی جدوجہد کو نظرا نداز نہیں کیاجاسکتا۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتےبھارت اورپاکستان پر زور دیکر مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی پر زور وکالت کی ۔
 
ریاست کے وزیر اعلیٰ نے ایک تقریب کے دوران اس امر کا اظہار کیا کہ ان کے والد ِ محترم نے یہاں کے عوام کی خواہشات اورجذبات کو صحیح طور سمجھاتھا۔ جوکہ بجائے خود امرواقع نہیںہے۔کیونکہ یہاں کے کسی بھی ہند نواز لیڈر نے کبھی بھی لوگوں کے جذبات واحساسات کی ترجمانی نہیں کی اورمرحوم شیخ عبداللہ سے لے کر مرحوم مفتی سعید تک ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کو فروغ دینے کیلئے محض آلہ کار بنے رہے اورموجودہ حکومت بھی بھاجپا کےساتھ مل کر اُن توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت بخش رہی ہے ۔سینک کالونیوں اورپنڈتوں کےلئے علیحدہ رہائشی بستیوں کی تعمیر ان توسیع پسندانہ عزائم کاحصہ ہیں ۔بیرونی صنعت کاروں کو لیز پر زمین کی فراہمی سے یہاں صنعتی ترقی کیلئے آخر کون سی بنیاد فراہم ہوسکتی ہے ۔!